وفاق اور صوبائی ادارے کروڑوں روپے بجلی بلوں کے نادہندہ

اسلام آباد :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کے اجلاس میں سرکاری محکمے کروڑوں کے نادہندہ ہونے اور صوبائی اور وفاقی اداروں کا بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔پاور ڈویژن سے مسلسل بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ، کے الیکٹرک کی نجکاری کے حوالے سے کئے گئے معاہدے کی تفصیل، سیپکو ہیسکو اور کے الیکٹرک سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے واجب الاادا بلوں کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو نہ پیش کرنے پر ممبران نے برہمی کا اظہار کیا جبکہ وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کا کمیٹی میں حاضر نہ ہونے مشکلات میں اضافے کی وجہ قرار دے دی گئی ہے تفصیلات کے مطابق ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے پاورکا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ عام آدمی کے ذمے دس ہزار روپے ہوں تو اسے رسوا کیا جاتا ہے،سرکاری محکمے کروڑوں کے نادہندہ، بجلی کمپنیاں خاموش ہیں، صوبائی اور وفاقی ادارے بجلی کے بل نہیں دے رہے حیسکو، سیپکو ریجن میں سرکاری اداروں سے بجلی بقایاجات وصول کئے جائیں،صوبائی اور وفاقی ادارے بجلی کے بل نہیں دے رہے، اس موقع پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایسا لگتا ہے حیسکو، سیپکو افسران بقایا جات وصول کرنا ہی نہیں چاہتے سندھ پولیس سے حیسکو، سیپکو افسران کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔قائمہ کمیٹی کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بجلی کے ادا نہ کیے گئے بلوں کی تفصیلات بارے آگاہ کیا گیا۔ سیپکو حکام نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں 87 فیصد ریکوری وصول کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں