مچھ، پراسرار وباء پھوٹنے سے 13سے زائد بچے بیماری میں مبتلاء

مچھ:مچھ کے علاقے جم بارڑی اوربارڑی بولان میں پراسرار وبا پھوٹنے سے ایک درجن سے زاید بچے بیماری کا شکار متاثرہ بچوں کے عمریں 2 سے 10 سال تک بتائی جاتی ہیں جن کے چہروں اور جسم کے مختلف حصوں پرسرخ دانے اور نشانات موجود ہیں علاقے میں طبی سنٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے تاحال اس پر اسرار بیماری کی وجہ معلوم نہ ہوسکی مقامی رہنما میر جاڑو خان رند نے پراسرار بیماری کی میڈیا کو اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ وبا سے دوسرے بچے بھی متاثر ہورہے ہیں علاقے میں ماہرین کا فوری ٹیم بھیجا جائے تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے تحصیل مچھ کے دیہی علاقے جم بارڑی اور بارڑی میں گزشتہ ایک ہفتے سے ایک نامعلوم وبا پھوٹنے سے ابتک متعدد بچے متاثر ہوگئے ہیں اس وائرس کا شکار زیادہ تر بچے بچیاں ہیں اکادکا بڑے افراد بھی اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں متاثرہ بچوں کی عمریں 2سال سے10 سال تک ہیں یہ وائرس ہوا کے زریعے ایک سے دوسرے بچوں میں منتقل ہورہے ہیں ماہرین کے مطابق وائرس ایک سے دوسرے میں تب منتقل ہوتے ہیں متاثرہ شخص کے چھینکنے اور کانسنے کی صورت میں ان کے منہ سے خارج ہونے والے آلودہ زرات جو ہوا میں شامل ہوکر ایک سے دوسری جگہ پھیل جاتے ہیں اور یہ قطرے زیادہ دیر تک فضا میں شامل رہتے ہیں بتایا جارہا ہے کہ بارڑی میں یہ وائرس اپنی شدت کے ساتھ تیزی سے پھیلتا جارہا ہیبارڑی کے مقامی شخصیت میر جاڑو خان رند کے مطابق علاقے کے متعددبچے وبا میں مبتلا ہوچکے ہیں متاثرہ بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہورہے ہیں جم بارڑی کے رہائشی بسم اللہ جتوئی نے انکشاف کیا ہے کہ انکے بھانجے بھی اس وبا کا شکار ہوئے ہیں انکے بقول میرے بھانجوں کے علاوہ اس وبائی امراض میں علاقے کے دیگر بچے بھی مبتلاہیں اب تک متعدد بچے اس میں مبتلا ہورہے ہیں لیکن متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں ہے میر جاڑو خان نے مزید بتایا کہ چوں کہ بولان وسیع رقبہ پر مشتمل اور منتشر آبادی رکھتا ہے یہاں کے لوگ غریب اورروایت پسند لوگ ہیں جب اسطرح کا کوئی وبا پھیلتا ہے والدین قریب میں طبی سنٹر اور ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ بچوں کے علاج کیلئے گھریلو ٹوٹکوں کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں کوئی طبی سنٹر نہیں اور اکثر و بیشتر دیہی علاقوں کے لوگ ایسے وبا سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی دیہی علاقوں میں ایسے وبا سے بچنے اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے کوئی شعوری آگاہی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں متاترہ بچوں کے جسم کے مختلف حصوں اور چہروں پر دانے اور نشانات نمودار ہوئے ہیں محکمہ صحت کو چاہیے کہ وہ جلد متاثرہ علاقوں میں ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم روانہ کرے اور وبا کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مزید یہ وبا دیگر علاقوں میں پھیل نہ جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں