غوث بخش بزنجو کی سیاسی و جمہوری جدوجہد کے باعث ون یونٹ کا خاتمہ ہوا، جان محمد بلیدی

کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان کی تعمیر وترقی میں اگر کرادر ہے تو وہ نیشنل پارٹی کے اقابرین اور موجودہ قیادت کا ہیمیر غوث بخش بزنجو کی طویل سیاسی جمہوری جدوجہد کے باعث ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملا تو دوسری طرف میر حاصل بزنجو اور ڈاکٹر مالک بلوچ نے 18 ویں ترمیم کی آئینی کمیٹی میں سیاسی بصارت کو بروئے کار لاکر قومیتوں کی وسائل و وطن کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے۔نیشنل پارٹی عمل پر یقین رکھتی ہے نعرے بازی کرنے والے بتائے کہ انہوں نے بلوچستان کیلئے کیا کیا میر غوث بخش بزنجو بلوچ قوم بلوچستان اور جمہوریت کیلیے طویل جیلیں کاٹی۔نیشنل پارٹی فخریہ انداز سے دعوہ کرتی ہے کہ وہ میر یوسف عزیز مگسی میر عبدالعزیز کرد اور میر غوث بخش بزنجو کی فکری کاروان کو جاری رکھے ہوئے جنھوں نے بلوچ سماج میں ترقی پسند سوچ اور سیاسی شعور کو پروان چڑھا یا۔ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی صوبائی صدر میر عبدالخالق بلوچ ضلع کوئٹہ کے صدر حاجی عطاء محمد چیئر مین بی ایس او پجار زبیر بلوچ صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر اسحاق بلوچ مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فدا حسین دشتی مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اسلم بلوچ مرکزی قانون سیکرٹری راحب بلیدی ممبران مرکزی کمیٹی میر شاوس حاصل بزنجو راحت ملک صوبائی خواتین سیکرٹری ڈاکٹر شمع اسحاق بلوچ،ممبر ورکنگ کمیٹی کلثوم نیاز بلوچ،ملک عبدالرحمن بنگلزئی نے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی برسی کے موقع پر پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تعزیتی ریفرنس کے نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری ریاض زہری نے سرانجام دئیے۔نیشنل پارٹی کے قائدین نے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بابائے بلوچستان کی سیاسی وژن اتنی جاندار تھی کہ وہ اسی انداز میں ثابت بھی ہوئے۔ انہوں نے افغانستان میں جہادی کلچر کی پالیسی کو ملک کے مستقبل کیلیے۔ خطرناک قرا ر دیا تھا اور حکمرانوں کو خبردار کیا اگر اس کو ختم نہیں کیا گیا تو وہ اسلام آباد تک پہنچ جائے گا۔اور آج ملک کا کوئی علاقہ نہیں جو دہشت گردی و انتہا پسندی سے محفوظ ہو۔میر غوث بخش بزنجو نے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی خبردار کیا تھا کہ سیاسی جمہوری قیادت کو غیر جمہوری عناصر کی ایماء پر حیدرآباد سازش میں پابند سلاسل رکھنے سے باز آجائیں کیونکہ درحقیقت یہ سیاسی نظام کے خلاف ہے اور انکی بندوقوں کا رخ وزیراعظم یعنی ذوالفقار علی بھٹو کی طرف ہوگا اور پھر بھٹو کے ساتھ وہی جسکی نشاندھی میر بزنجو کی تھی۔مقررین نے کہا کہ اگر حکمران 1973 میں میر بزنجو کی بات مانتے اور کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کرتے تو آج ملک ترقی یافتہ اور خوشحال ہوتا۔ملک کی عزت واحترام میں اضافہ ہوتا۔لیکن ہمارے اعلء اشرفیا تو سیاسی عمل اور سیاسی قیادت کو روندنے اور آمرانہ مائنڈ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔آج ناکام خارجہ پالیسی کے بدولت ملک عالمی تنہائی کا شکار ہے کوئی بھی پاکستان پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔حکمران اس قدر نااہل ہے کہ وہ خطے کی صورتحال کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔اور طالبان سے تعلقات کو قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔تاکہ افغانستان سے تعلق ہے۔ مقررین نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے جمہوریت کی بقاء پارلیمنٹ کی بالادستی آئین و قانون کی حکمرانی،انصاف پر مبنی عدلیہ غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے قیام کی جدوجہد کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اکثر سیاسی جماعتیں جمہوریت کو نام کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان کا مقصد عوام نہیں بلکہ پارلیمنٹ تک صرف رسائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی میر غوث بخش بزنجو کو مشعل راہ کو قرار دیتے ہوء جمہور کی بالادستی کو جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں