کوہلو کے سیلاب متاثرین کیلئے فراہم امدادی سامان کی من پسند افراد میں تقسیم، متاثرہ افراد کا شدید احتجاج

کوہلو (نامہ نگار) بلوچستان ضلع کوہلو میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے پی ڈی ایم اے کی جانب سے فراہم کی گئی امدادی اشیاءمیں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرین کے لیے راشن، چارپائیاں، گیس سلنڈر، ٹینٹس، کولرز اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا تھا، تاہم یہ اشیاءتاحال مستحق خاندانوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ امدادی سامان رات کی تاریکی میں نامعلوم مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سابق لیویز لائن اور ڈی سی بنگلہ کے قریب رات کے اوقات میں مختلف گاڑیوں، ٹریکٹروں اور رکشوں کے ذریعے سامان کی منتقلی جاری رہتی ہے، دوسری جانب سیلاب سے متاثرہ خاندان بدستور آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں، متاثرین کے مطابق ان کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے، مگر تاحال نہ تو سرکاری امداد ملی ہے اور نہ ہی فراہم کردہ سامان شفاف طریقے سے تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امدادی اشیاءمن پسند افراد میں تقسیم کی جا رہی ہیں، جس سے متاثرین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ حکام کو آگاہ کیا اور میڈیا کے ذریعے بھی اپنی آواز بلند کی، تاہم اب تک کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، سیلاب متاثرین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، امدادی سامان میں مبینہ خوردبرد کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر ان کا حق فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں