کوئٹہ سے چلنے والی ٹرینوں کو بحال کیا جائے،چیمبر آف کا مرس اینڈ انڈسٹریز
کوئٹہ: چیمبر آف کا مرس اینڈ انڈسٹریز کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ سے چلنے والی ٹرینوں کو بحال کیا جائے کوئٹہ لاہور، کوئٹہ زاھدان اور کوئٹہ کابل روڈ پر تاجروں کے لئے فلائٹ آپریشن شروع اورسکھر موٹر وے کو کوئٹہ تک تو سیع دی جائے۔ یہ بات حاجی اختر کاکڑ،مرزا خان خلجی، چوہدری امجد، کمال خان اچکزئی اور دیگر نے جمعہ کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ 2020تک کوئٹہ سے دس ٹرینیں چلا کر تی تھیں اس وقت انکی تعدادکم ہو کر صر ف ایک ٹرین رہ گئی ہے 2002میں عباسین ایکسپریس اور 2006میں سبی کھو سٹ سیکشن کو بند کیا گیا اسی سال مہران پسنجر کو بھی بند کر دیا گیا زاہدان پسنجر جو تفتان بارڈر تک جا تی تھی ایسے 2007میں بند کیا گیا بلو چستان ایکسپریس کو 2008میں بند کیا گیا چلتن ایکسپریس کو 2010میں اور بولان میل کو 2020میں عارضی طورپر بند کیا گیا ہے مگر تاحال بحال نہیں کیا گیا سٹینڈ نگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران سیکرٹری ریلوے نے یقین دہانی کروائی تھی کہ بولان میل کو 15روز میں بحال کیا جائے گا جو تا حال بحال نہیں کی گئی سی پیک کے تحت کوئٹہ اور ڈیرہ اسما عیل خان کے راستے ٹریک کی تعمیر کا آغاز کیا گیا پی آئی اے کا رویہ بھی بلو چستان کے سا تھ ٹھیک نہیں ہے ہما را مطالبہ ہے کہ کوئٹہ لاہور، کوئٹہ زاہدان، اور کابل روٹ، کوئٹہ گوادر روٹ پر فلائٹ آپریشن شروع کیا جائے صوبے میں کوئی موٹر وے نہیں لہذا سر ے دست سکھر مو ٹر وے کو کوئٹہ تک تو سیع دی جائے اور باقی صوبوں کے طرح بلو چستان میں بھی مر حلہ وار مو ٹر ویز کا جال بجھا یا جائے۔


