قصرگل خانہ

تحریر: انورساجدی
کابل میں جہاں ایک طرف بے شمار انسانی المیے وقوع پذیر ہورہے ہیں وہاں طالبان کے قبضہ کے بعد کافی دلچسپ واقعات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سارا شہر ملک چھوڑ کر جانے کیلئے بے تاب ہے کابل ایئرپورٹ جہاں سیکورٹی کا کوئی انتظام نہیں ہے سینکڑوں لوگوں نے ایک امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارے میں سوار ہونے کی کوشش کی جس پر امریکی فوجیوں نے فائرنگ کرکے پانچ نوجوانوں کو ماردیا دیکھا جاسکتا ہے کہ درجنوں نوجوان طیارے سے لٹک رہے ہیں جن میں سے دوٹائروں کے نیچے آکر کچلے گئے کابل کے مکینوں خاص طور پرلسانی اقلیتوں سے ایک قیامت کی رات گزاری ہے اور نہ جانے انہیں مزید کتنی سیاہ راتیں گزارنا پڑیں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شہر کی50لاکھ آبادی کے علاوہ طالبان کے مقبوضہ علاقوں سے40لاکھ لوگ آکر پناہ گزین ہوئے تھے انہیں اشرف غنی کی بڑھکوں سے یہ آسرا ہوگیا تھا کہ افغان حکومت اور افغان فوج شہر کا دفاع کرے گی لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ اشرف غنی بچہ سقہ ثابت ہوگا اور اس کی فوج جنگ سے پہلے شکست کھاکر بھاگ کھڑی ہوگی اگراشرف غنی اپنے ملک اور شہر کا دفاع کرتے ہوئے ایک عزت کی موت کا انتخاب کرتے تو کم ازکم تاریخ انہیں اچھے نام سے یاد کرتی ایک افراتفری اور انتشار کابل میں ہے تو دوسرا واشنگٹن میں ہے جہاں وائٹ ہاؤس پینٹاگن اور کیپٹل ہل میں ایک سراسیمگی کی کیفیت ہے کانگریس کے اراکین سوال پوچھ رہے ہیں بائیڈن حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی پریشان کن ہے اس سے امریکہ کے نام پر سیاہ دھبہ لگا ہے اور وہ ساری دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا امریکی میڈیا میں بحثیں چل رہی ہیں یہ میڈیا پاکستانی میڈیا سے بھی گیا گزرا ثابت ہورہا ہے انہیں افغانستان کے زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہا اگر کابل ایئرپورٹ پر معقین امریکی فورسز پر طالبان نے حملے کئے تو امریکہ انکو سبق سکھائے گا اور فضائی حملے کرے گا انہیں یہ بھی معلوم نہیں چند امریکیوں کویرغمال بنالیا گیا ہے۔
پل چرخی جیل توڑنے کے بعد طالبان نے پاکستان طالبان ٹی ٹی پی کے 3ہزار تربیت یافتہ افراد کو رہائی دی جو پاکستان آنے کیلئے بے تاب ہیں کابل سے بیشترممالک کا سفارتی عملہ رخصت ہوگیا ہے لیکن پاکستان، چین اور روس کا سفارتی مشن کام کررہے ہیں ایک بڑا واقعہ یہ ہے کہ چین دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے طالبان کے پاور میں آنے کا خیرمقدم کیا ہے غالباً اس کی وجہ سی پیک ہے جو چین افغانستان تک لے جانا چاہتا ہے اشرف غنی نے امریکی دباؤ کے تحت چین سے اچھے تعلقات نہیں رکھے تھے چین سمجھتا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کے رخصت ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایشیاء سے رخصت ہوگیا جس کا سارا فائدہ چین کو ہوگا روس تو کچھ نہیں کرسکتا وہ نیم مردہ اژدھے کی طرح بے سدھ پڑا ہے۔
کابل میں جو ہزاروں طالبان جنگجو داخل ہوئے ان میں اکثرنے پہلی مرتبہ اتنا بڑا شہر دیکھا تھا اس لئے وہ دوڑ کر شہر کے اندر داخل ہوئے ان کی بھاگ دوڑ سے سب سے زیادہ نقصان پارکوں کا پھولوں کا اور خوبصورت راہگزاروں کا ہوا قصر گل خانہ میں وہ تقریباً کھانے کی اشیاء پرٹوٹ پڑے انہوں نے پہلی بار انواع واقسام کے پھل فروٹ بسکیٹ اور کیک کھائے ایک عینی شاہد کے مطابق تھوڑی ہی دیرمیں قصرصدارت ایک اصطبل خانے کا منظر پیش کررہا تھا ایک مقام پر نوجوان طالب امریکی ہیلی کاپٹروں کی کاک پٹ میں بیٹھے نظرآرہے ہیں لیکن اڑانے کے ہنر سے ناآشنا ہیں ایک ہی رات میں یہ تبدیلی آئی کہ خواتین نے دوبارہ شٹل کاک برقعے پہن لئے وہ جانتی ہیں کہ وہ طویل عرصہ تک گھروں سے باہر نہیں نکل سکتیں کابل کے اسپتالوں میں بھی ہوکا عالم ہے کیونکہ بیشتر عملہ خوف سے بھاگ گیا تھا نہ جانے جب تک کابل میں نظم ونسق قائم نہیں ہوجاتی کتنے مریض ہلاک ہوجائیں گے خاص طور پر کوئی ایک نرس بھی کسی اسپتال میں نظر نہیں آئی اشرف غنی کے نائب وزیرداخلہ جو بھاگے نہیں ہیں اور کابل میں آرڈر بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہوں نے سرعام اپنے مفرور صدر پرلعنت بھیجی اور کہا کہ اگروہ چاہتے تو طویل عرصہ تک کابل کا دفاع کیاجاسکتا تھا لیکن وہ دم دبا کر بھاگ گئے انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنے بزدل ہیں اور یہ ہمارے لئے گوربا چوف ثابت ہونگے اگرچہ ایک معاہدہ کے تحت تین بڑے لیڈر حامد کرزئی گلبدین حکمت یار اور عبداللہ عبداللہ کابل میں گزشتہ روز تک موجود تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ ان پر مشتمل ایک کمیٹی بن گئی ہے جو پرامن انتقال اقتدار کیلئے طریقہ طے کرے گی لیکن دنیا جانتی ہے کہ طالبان ایسے لیڈروں کی بات نہیں سنیں گے وہ صرف اپنی قیادت کے احکامات مانیں گے یہ تین بہادر اگر نہیں بھاگے تو ان کا حشر بھی جلد ڈاکٹر نجیب اللہ جیسا ہوگا گلبدین کے قلعہ بدخشاں پر طالبان نے کسی مزاحمت کے بغیر قبضہ کرلیا تھا۔ایک اہم واقعہ سابق شمالی اتحاد کے چیدہ چیدہ رہنماؤں کا عین سقوط کابل کے دن سرکاری اہتمام میں اسلام آباد یاترا تھا معلوم نہیں کہ انکو بلاناچہ معنی دارو کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے منصوبہ ساز اس مرتبہ طالبان کے بدلے ہوئے نیوز دیکھ کر شمالی اتحاد کے سرپردست شفقت رکھ دیں یہ ایک سنگین غلطی ہوگی تمام گروپوں سے تعلقات بنانا بری بات نہیں لیکن طالبان کی قیمت پر ان کے مخالفین کو کھڑا کرنا کوئی عقلمندی نہیں اس کا ایک ثبوت پاکستان سے متصل افغان چوکیوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد دیکھنے میں آیا جب طالبان سپاہیوں نے غلط ریمارکس پاس کئے آگے جاکر مزید پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں گوکہ قیادت نے عام معافی کا اعلان کیا ہے لیکن نوجوان جنگجوؤں کو عام معافی کا مطلب معلوم نہیں ان کا خیال ہے کہ جو مخالف ہے اسکو قتل کرنا جائز ہے کیونکہ وہ جہاد میں حصہ لے رہے ہیں پاکستانی حکمران جہاں ایک طرف طالبان کی فتح پر جشن منارہے ہیں تو دوسری جانب انہیں فکر دامن گیر ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کی کس حد تک حمایت کریں گے کیونکہ طالبان کی شوریٰ میں حقانی گروپ بھی شامل ہے امریکہ ہمیشہ یہ الزام لگاتا تھا کہ حقانی گروپ پاکستانی کی پراکسی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عملی طور پر حقانی گروپ بھی طالبان امیر کو اپنا امیر مانتا ہے اور جب وہ امیرالمومنین کا عہدہ سنبھالیں گے تو پاکستانی طالبان بھی انہی کے اطاعت کے پابند ہونگے گزشتہ روز پاکستان کے وزیراطلاعات فواد چوہدری کی خوشی دیدنی تھی اور وہ اشرف غنی کو طعنہ لگارہے تھے چوہدری صاحب کو معلوم نہیں کہ1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق نے جو پنجابی پختون اتحاد بنایا تھا وہ ٹوٹ چکا ہے۔وقت بدل چکا ہے طالبان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سب کچھ بدل چکا ہے اب وہ ایک آزاد ملک کے حکمران ہیں اور وہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے جب افغان طالبان کے ہمنوا آنکھ دکھائیں گے ہمارے حکمرانوں کے بھی ہوش اڑ جائیں گے سقوط کابل پر لکھے گئے ایک مضمون میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور مغرب کی شکست پاکستان کی بھی شکست ہے اور اس کا حتمی خسارہ پاکستان کے نام ہی نکلے گا۔
بے شک وزراء ڈھولکھی بجائیں بے شک پنجابی قائدین اور انکے دانشور اوریامقبول جان زید حامد اور انصار عباسی جشن منائیں لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے جو وہ سوچ رہے ہیں سقوط کابل سے ایک روز قبل اوریا ایک وی لاگ میں بتارہے تھے کہ امام مہدی کا ظہور ایک سال بعد متوقع ہے اس طرح کی پیشگوئی لال ٹوپی والے سید زید زماں اس سے پہلے کرچکے تھے عین ممکن ہے کہ یہ دونوں اصحاب خود مہدی ہونے کے دعویدار ہوں لال ٹوپی والے نے چند سال قبل جب سعودی عرب میں اس طرح کی پیشنگوئیاں کی تھیں تو سعودی حکام نے انہیں جیل میں ڈال دیا تھا اگرراحیل شریف نہ بچاتے تو وہ ابھی تک کسی سعودی جیل میں ہوتے دونوں حضرات کو یہ توقع ہے کہ طالبان اپنے مسائل سے فارغ ہونے کے بعد کشمیر کو آزاد کروائیں گے جس کے بعد غزوہ ہندشروع ہوگا جو امت کی فتح مبین کا آغازہوگا۔اگرچہ سرکار دوبارہ میں یہ لوگ انتہائی پسندیدگی رکھتے ہیں لیکن حکمرانوں کو ان سے ہوشیار رہنا چاہئے یہ اپنے ملک کو جنگ میں جھونک کر خود ولایت فرار ہوجائیں گے جہاں انکا آل و عیال پہلے سے آباد ہیں اوریا نے تو عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے اشرف غنی کی مثال پیش کی کہ جنگ سے خوفزدہ یہ حکمران فرار ہوگیا جبکہ طالبان وسائل نہ ہونے کے باوجود فتحمند ہوگئے انہوں نے فرمایا ہے کہ کشمیر کبھی جنگ کے بغیر فتح نہیں ہوگا یہ لوگ اتنے ظالم ہیں کہ ایٹم بم سے بھی نہیں ڈرتے اگر جنگ ہوئی تو اوریا اور لال ٹوپی والے کے سوا کچھ نہیں بچے گا انکو اگرجہاد کا شوق ہے تو یہ دیرنہ کریں بلکہ ہراول دستے کا کردار اداکریں۔دوسروں کو جنگ کیلئے اکسانے کامطلب گویا یہ خودجنگ سے بچنا چاہتے ہیں اور ملکوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں کسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ طالبان کو چاہئے وہ اپنے ان دونوں وکیلوں کو کابل بلائیں تاکہ وہ ان کی آئندہ کی منصوبہ بندی کرسکیں ان کے بغیر تو افغانستان سپرپاور نہیں بن سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں