ایک مخصوص ٹولہ پاکستان میں مغربی کلچر رائج کر رہا ہے، جہانزیب جمالدینی

سوراب:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹرجہانزیب جمالدینی نے کہاہے کہ ایک مخصوص ٹولہ پاکستان میں مغربی کلچر رائج کیا جا رہا ہے ان کو ناکامی کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوگا کچھ قوتوں کی وجہ سے سیاسی طور پر بی این پی کے نمائندہ اسمبلی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری واجہ جہانزیب جمالدینی نے سوراب میں منعقد ضلع سوراب کے پارٹی ورکرز کنونشن کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا مزید ان کا کہنا تھا کہ بی این پی ایک نیشنل و عوامی پارٹی ہے یہ کسی کو ہضم نہیں ہو پا رہا کہ بلوچستان کے عوام کی ترجمانی بی این پی کریں اس کے واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ 2018 کے الیکشن میں بلوچستان کے مختلف حلقوں سے فرشتوں نے ہماری پوزیشن چینج کرلی ہم پر الزام لگانے والے جام کمال خان اگر اپنی تین سالہ حکومت کے کارکردگی اور 200 ارب روپے کا حساب عوام کے عدالت میں دے تو ہم بھی خوشی سے 10ارب کے احساب دینے کے لئے تیار ہیں ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت بلوچستان کے عوام پر مسلط کیا گیا ہے جو ہر ہمیشہ بی این پی کے خلاف سرگرم عمل ہیں،باپ پارٹی بلوچستان میں اپنی آخری سانسیں گن رہی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی بلوچستان کے سیاسی میدان میں انٹر ہوگئے ان کے بلوچستان کے لیڈران صرف وزارت اعلی کے لئے شمولیت کی ہیں جبکہ ان کو عوام کی جانب سے کچھ ووٹ نصیب نہیں ہونگے،ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے حقوق اور پیسے کسی اور صوبہ میں خرچ نہ ہو،جو حقیقی نمائندہ منتخب ہوکر ایوانوں میں جاتا ہیں تو ان کے فنڈز حکومت اپنے ہی پیدا کردہ خلفا میں تقسیم کرتے ہوئیبی این پی کو کمزورکرنا چاہتا ہے،بلوچستان کی عوام اب سمجھ چکی ہیں مسلط ٹولہ کو مزید برداشت نہیں کر سکتے،ہر فورم پر بی این پی نے بلوچستان کے لوگوں کی حقوق کے لئے جدوجہد کی ہیں اور کر رہی ہیں اب ہم کسی صورت نا انصافی برداشت نہیں کر سکتے۔اس موقع پر مرکزی ڈپٹی جوائنٹ سیکریٹری لال جان بلوچ،سی سی ممبر اکبر مینگل،سینٹر قاسم رونجو،سی سی اختر حسین لانگو،سی سی ممبر سابقہ ایم این اے عبدالروف مینگل،سابقہ بی ایس او چیئرمین جاوید بلوچ،سابقہ بی ایس او چیئرمین نزیر بلوچ،ضلعی صدر عبدالطیف قلندرانی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں