نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام میر حاصل بزنجو کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے 22اکتوبر کو جلسہ عام کا اعلان

کوئٹہ(انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا دو روزہ اجلاس مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی صدارت میں محمد شہی ھاوس کوئٹہ میں منعقد ہوا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 29/30/31 اکتوبر 2021 کو نیشنل پارٹی کا قومی کانگریس کوئٹہ میں منعقد کیا جائے گا تمام اضلاع کو ہدایات جاری کے گے کہ وہ کانگریس کی کامیابی کے لیے تیاریاں شروع کریں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے پارٹی کے عظیم قائد میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی جمہوریت کے استحکام، پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کے بالادستی کے لیے جدوجہد پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا انھوں نے کھاکہ میر جمہوریت سینٹر میر حاصل خان بزنجو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 22 اکتوبر کو شام 4 بجے سریاب میں عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا جارہا ہے پارٹی کے کارکن اور قومی جدوجہد سے وابستہ سیاسی کارکن جلسہ عام میں اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں مرکزی قیادت اور مرکزی کمیٹی کے تمام اراکین اس میں بھی شرکت کررہے ہیں۔ انھوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عوام دشمن روئیے اور پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کھاکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غیر ملکی مائیگیر ٹرالروں کو بلوچستان کے سمندری حدود میں غیر قانونی شکار کی اجازت دی گئی جس کے خلاف نیشنل پارٹی گوادر نے بھر پور احتجاج کیا اور مہم چلائی، سینٹ میں پارٹی رہنماوں نے بھی اسکے خلاف بھرپور آواز اٹھایا۔ گزشتہ روز نیشنل پارٹی نے گوادر اور بلوچستان کے سمندری حدود میں غیر قانونی مائیگیری، پانی و بجلی کی بحالی کے لیے دوبارہ گوادر میں پرامن احتجاج کیا شاہراہوں پر دھرنا دیا اور ہڑتال کی تو حکومت نے بوکھلاہٹ میں آکر پرامن مظاہرین پر تشدد کیا جس میں پارٹی کے بزرگ سیاسی و قومی رہنما اشرف حسین زخمی بھی ہوئے پارٹی کامیاب تحریک اور جدوجہد پر گوادر کے رہنما کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔انھوں نے کھاکہ بلوچستان، پنجاب ،سندھ اور کے پی کے ساتھوں نے پارٹی کو وسعت دینے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے بھر پور جدوجہد کرکے قومی و سیاسی فریضہ انجام دیا ہے جو قابل تعریف ہیں انھوں نے کھاکہ ملک اس وقت شدید معاشی و اقتصادی بحران میں مبتلا ہے غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت زمین بوس ہو کر رہ گیا ہے قومی ادارے اور صنعتیں بند ہورے ہیں رائٹ سازنگ اور پرائیوٹائزیشن کے نام پر لوگوں سے روزگار چھنا جارہا ہے مہنگائی کا طوفان آگیا ہے جس نے موجود بے روزگاری میں بے تہاشاہ اضافہ کردیا ہے۔ اجلاس سے سینٹر میر طاہر بزنجو، چاچا اللہ بخش بزدار، ڈاکٹر کہور خان بلوچ، جسٹس(ر) شکیل احمد بلوچ، دانشور و لکھاری آغا گل، ایوب ملک، سینٹر اکرم دشتی، لیبر سکریٹری مرزا مقصود، ایوب قریشی، فداحسین دشتی، خیربخش بلوچ، بی ایس او کے چیرمین زبیراحمد، ولید بزنجو، یاسمین لہڑی، راحب خان بلیدی، اور دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کھاکہ افغانستان میں رونما ہونے والی تبدیلی پر پاکستان کو انتہائی محتاط روئیہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو غلطیاں ماضی میں مشرف اور ضیاءالحق رجیم سے سرزد ہوئی ہیں ملک دوبارہ ایسی غلطیوں کا ہرگز متحمل نہیں ہوسکتا ہے کسی ایک گروہ و فریق کو سپورٹ کرنے کی ہر گز غلطی نہ کی جائے بلکہ افغانستان میں مستقل امن و استحکام اور تمام فریقین کو ساتھ ملاکر ایک پرامن افغانستان کی طرف بڑھنا ہوگا افغانستان میں مستقل امن کے معاملے کو اہمیت دینا ہوگا یہ خطہ مزید فرقہ واریت اور خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ مرکزی کمیٹی کا اجلاس آج بھی جاری رہے گا جس میں ملکی سیاسی صورتحال، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور دیگر مسائل زہر بحث ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں