پاکستان کا طالبان پر کوئی اثر و رسوخ نہیں،سہیل شاہین

کابل:افغان طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ پاکستان کا طالبان پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے،ہم اپنے فیصلے اپنے قومی مفادات اور اقدار کی روشنی میں کرتے ہیں، کسی کو بھی افغانستان سے کسی دوسرے ملک میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے،اگر کوئی کارروائی کرتا ہے تو یہ ہماری پالیسی کے خلاف ہوگا، نئی حکومت تمام افغان نمائندوں پر مشتمل ہوگی،ہماری حکومت میں خواتین چہرہ چھپائیں یا نہیں یہ ان کی مرضی ہوگی، امریکہ کی جانب سے دوبارہ خلاف ورزی قابل قبول نہیں ہوں گی،ہم کیا ردعمل دکھائیں گے وہ ہماری قیادت کے فیصلے پر منحصر کرتا ہے، کابل ہی دارالحکومت رہے گا، قندھار منتقل کرنے کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔عرب نیوز کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں طالبان پر پاکستان کے اثر و رسوخ اور فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے سوال پر سہیل شاہین نے کہا کہ یہ ماضی کا جھوٹا الزام ہے جس کو ہم نے گذشتہ 20سالوں میں بار بار مسترد کیا ہے،ہم اپنے فیصلے اپنے قومی مفادات اور اقدار کی روشنی میں کرتے ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی اور ان کے رہنماؤں کی پاکستان حوالگی سے متعلق سوال پر سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی افغانستان سے کسی دوسرے ملک میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔افغانستان سے کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی پر ہماری پالیسی واضح ہے۔ اگر کوئی کارروائی کرتا ہے تو یہ ہماری پالیسی کے خلاف ہوگا۔کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان نے مرکزی بینک سمیت اہم وزارتیں اپنے کمانڈروں کو دے دی ہیں۔ اس سوال پر کیا طالبان کے علاوہ افغان سیاستدانوں کو بھی اہم عہدے دیے جائیں گے تو سہیل شاہین نے بتایا کہ حکومت میں شمولیت کے لیے اسلامی امارت کے رہنماؤں کے ساتھ دیگر افغان بھی ہوں گے۔اس سوال پر افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ نئی حکومت تمام افغان نمائندوں پر مشتمل ہوگی تاہم ہو سکتا ہے کہ نئی حکومت طالبان کے سابق دور حکومت کی طرح ہو جس میں سربراہ رئیس الوزرا ہوں گے۔ہم ایک اور آئین بنائیں گے۔ کابل حکومت کا جو پہلے کا آئین تھا وہ قبضے کے اندر بنایا گیا تھا۔ ابھی ضرورت ایک ایسے آئین کی ہے جو آزاد افغانستان میں بن جائے اور وہ افغان عوام کے مفاد میں ہو۔ مرد و خواتین سب کے حقوق اس میں درج ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی شکل واضح ہے جس میں تمام افغان پارٹیاں شامل ہوں گی جس کے لیے افغان سیاستدانوں سے مشاورت ہو رہی ہے۔ ایسی حکومت چاہتے ہیں جس میں افغان عوام کے نمائندے ہوں۔ حکومت کی تشکیل میں زیادہ وقت لے لیا گیا ہے لیکن امید ہے کہ جلد اعلان ہو جائے گا۔ سہیل شاہین کا کہنا ہے ان کی حکومت میں خواتین چہرہ چھپائیں یا نہیں یہ ان کی مرضی ہوگی۔امریکی انخلا میں توسیع کے حوالے سے سہیل شاہین نے کہا کہ اس دفعہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ خلاف ورزی قابل قبول نہیں ہوں گی،ہم کیا ردعمل دکھائیں گے وہ ہماری قیادت کے فیصلے پر منحصر کرتا ہے،انہوں نے ان رپورٹس کو بھی مسترد کیا کہ دارالحکومت منتقل ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل ہی دارالحکومت رہے گا۔ قندھار منتقل کرنے کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں