سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری ان کی سنیارٹی کے مطابق کی جائیگی، پارلیمانی کمیٹی
اسلام آباد :اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری پر پارلیمانی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری ان کی سنیارٹی کے مطابق کی جائیگی۔ منگل کو اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فاروق حامد نائیک کی صدارت میں یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی تجویز کردہ عدلیہ سے متعلق آئین کی متعلقہ شق میں آئینی ترامیم کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری ان کی سنیارٹی کے مطابق کی جائیگی جس کا تعین ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے ان کی تقرری کی تاریخ کے حوالے سے کیا جائے گا اور اگر ججوں کی تقرریوں کی تاریخیں وہی ہیں پھر فیصلہ ان کی عمر کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک/قائم مقام ججوں کا تقرر پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرریوں سے کیا جائے گا۔ کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 میں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے مطابق جب انسانی حقوق کے مقدمے میں سو موٹو اختیارات سپریم کورٹ استعمال کریگی تو اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے تین جج کریں گے اور اس حکم کے خلاف اپیل تیس دن کے اندر دائر کی جا سکتی ہے جس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی جانب سے ساٹھ دن کے اندر کیا جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اگر اس آرٹیکل کے تحت کسی حکم کے خلاف اپیل کی گئی ہے تو اپیل کے فیصلے کے خلاف اپیل کردہ حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔ ججوں کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے اس سفارش کی بھی منظوری دی کہ ہائی کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر موجودہ 62 سال سے بڑھا کر 65 سال کر دی جائے گی جیسا کہ سپریم کورٹ کے جج کی صورت میں ہے۔ کمیٹی نے کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے تجویز کردہ آئین کے آرٹیکل 209 میں ترمیم کی بھی منظوری دی اور فیصلہ کیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف بدانتظامی کے حوالے سے ایک ریفرنس کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل 90 دنوں کے اندر کریگی۔ ججوں کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 175-A پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججوں کی تقرری اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس مسئلے پر مزید غور کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اپنے اگلے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف کو مدعو کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ اجلاس میں سینیٹرز، اعظم نذیر تارڑ، سرفراز احمد بگٹی، ایم این اے، علی محمد خان، راجہ پرویز اشرف، رانا ثناء اللہ خان اور سیکرٹری سینیٹ آف پاکستان محمد قاسم صمد خان نے شرکت کی۔


