نجی اسٹیل ملز نے خام مال کی قیمتوں میں ایک بارپھراضافہ کردیا
کراچی:نجی اسٹیل ملز کی جانب سے خام مال کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور ایک بار پھر مقامی کاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کاروں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی ایس ایل،عائشہ اسٹیل اور بعض دیگر نجی اسٹیل ملوں نے مقامی کاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والی شیٹ میٹل کی قیمت میں مزید5روپے کلو کا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد مارکیٹ میں شیٹ میٹل کی فی کلو قیمت240روپے سے بڑھ کر245روپے ہوگئی ہے،بتایا جاتا ہے کہ جنوری2020سے اب تک نجی اسٹیل ملوں کی جانب سے شیٹ میٹل کی قیمت میں 98روپے کلو کا اضافہ کیا جاچکا ہے جبکہ بعض نجی اسٹیل مل کی جانب سے کولڈ رولڈ کوائلز اور پی وی سی ریسن کے بیگ کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ اس میں سے بعض خام مال پاکستان اسٹیل مل میں بھی تیار کیا جاتا تھا،تاہم اسٹیل مل کی بندش کے بعد نجی اسٹیل ملوں نے اجارہ داری قائم کرتے ہوئے مقامی کاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی قیمتوں میں بغیر وجہ کے اضافہ کردیا ہے۔اس ضمن میں پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایسیسریز (پاپام)کے سابق چیئرمین مشہود علی خان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خام مال کی قیمتوں میں اچانک اور بغیر وجہ اضافے کے ساتھ مقامی آٹو صنعت کس طرح ترقی کرسکتی ہے۔انہوں نے شیٹ میٹل، کولڈ رولڈ کوائلز اور پی وی سی ریسن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف کار سازی کی مقامی صنعت شدید متاثر ہوگی بلکہ اس شعبے میں روزگار اور ترقی کے مواقع بھی کم یا ختم ہوسکتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آٹو صنعت کی ترقی کیلئے مقامی خام مال کی قیمتوں پر کنٹرول رکھا جائے اور اس ضمن میں مربوط پالیسی بنائی جائے۔


