طالبان کو فوری تسلیم کرنے سے امریکا کا انکار، روس کی رضامندی، برطانیہ و چین مدد کیلئے تیار
واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ امریکی صدر جو بائیدن گزشتہ روز چھٹیاں گزارنے کے بعد دارالحکومت واشنگٹن پہنچے جہاں صحافیوں کی جانب سے ایک سوال پر کہ کیاآپ طالبان کو تسلیم کریں گے جس پر امریکی صدر نے کہا کہ طالبان کو تسلیم کرنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔، یہ بہت آگے کی بات ہے۔ روس نے کہا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت میں سب کی نمائندگی ہو گی تو تسلیم کریں گے، افغان طالبان جامع حکومت بنائیں، تمام اقلیتی گروہوں کو شامل کریں۔ یہ بات روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا اگر طالبان نے ایسا کیا تو روس حکومت ان کو تسلیم کرنے اور یہاں تک کہ حلف برداری میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ کابل میں نئی حکومت طالبان بین الاقوامی شناخت اور منجمد اربوں ڈالر تک رسائی چاہتی ہے۔ ہم اور ہمارے دوست افغانستان کو دہشت گردی کا محفوظ ٹھکانہ بننے سے بچانے میں ان کی مدد کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ عالمی برادری افغانستان سے انخلا میں لوگوں کی مدد کرے، انسانی حقوق کا احترام یقینی بنائے اور ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ میں تبدیل ہونے ے روکے۔ اس لیے میں نے ایک نیا جی سیون سربراہ اجلاس طلب کیا تاکہ ہم ایک وژن پر متحد ہوں۔ کابل میں چینی سفیر نے طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ مولوی عبدالسلام سے ملاقات کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترجمان افغان طالبان محمد نعیم نے ٹوئٹر پر اس ملاقات کے حوالے سے تفصیل فراہم کی۔ملاقات میں باہمی معاملات زیر غور آئے جبکہ چینی سفیر نے افغانستان کے لیے چین کی انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔


