نیب بدعنوانی کو جڑسے اکھاڑنے کیلئے پرعزم ہے، جسٹس جاوید اقبال

اسلام آباد:چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جن کو ماضی میں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا،نیب اب ان کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔نیب اور پاکستان ساتھ چل سکتے ہیں تاہم پاکستان اور کرپشن ساتھ نہیں چل سکتے۔چند لوگ اپنی مبینہ بد عنوانی،غیر قانونی اقدامات، اختیارات کے ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثہ جات، منی لانڈرنگ اور قومی خزانہ کو نقصان کے مقدمات میں نیب پر الزام تراشی کے پیچھے چھپنے کی ناکام کو شش کررہے ہیں۔چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب زیرو کرپشن سو فیصد ترقی پر یقین رکھتا ہے، نیب بدعنوانی کو جڑسے اکھاڑنے کیلئے پرعزم ہے، بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے رشوت اور اقربا پروری کو بڑی لعنت قرار دیا جو کہ ایک زہربھی ہے، انہوں نے کہا کہ نیب طاقتور اور بڑی مچھلیوں کی پرواہ کئے بغیر بدعنوانی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں 535ارب روپے برامد کئے جو کہ نمایاں کامیابی ہے، نیب کو بدعنوانی کے خاتمہ اور لوٹی گئی رقم کی ریکوری کیلئے 1999میں قائم کیا گیا تھا، نیب کا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد جبکہ اس کے8علاقائی بیوروز راولپنڈی،لاہور،کراچی،کوئٹہ،خیبرپختونخوا،ملتان،سکھر اور گلگت بلتستان ہیں،انہوں نے کہا کہ نیب سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے،نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئر مین ہے،یہ نیب کی انسداد بد عنوانی کی کوششوں کے باعث پاکستان کی بڑی کامیابی ہے،نیب کی موجودہ قیادت نے انسداد بدعنوانی کی جامع حکمت عملی وضع کی ہے، چیئر مین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد احتساب سب کا کی پالیسی اپنائی،اب نیب کو ملک سے بد عنوانی کے خاتمے کے لئے فعال بنایا دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ نیب نے ثابت کیا ہے کہ وہ بلا امتیاز کارروائی کر رہاہے۔اور کسی سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتا۔نیب کی بڑی شخصیات کے خلاف کارروائی سے نیب کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہواہے۔کیونک نیب کیس دیکھتا ہے فیس نہیں، چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی انسدادبدعنوانی کی کوششوں کو قومی اور بین الاقوامی معتبر اداروں،سول سوسائٹی اور عوام نے بڑے پیمانے پر سراہا ہے،آج پوری قوم کرپشن فری پاکستان کے لئے نیب کے ساتھ ہے، نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان نیب کی پالیسی ہے،نیب بلا امتیاز احتساب کیلئے کوششیں جاری رکھے گا،نیب فعال ادارہ بن چکا ہے اور بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں