تاج بی بی کو سیکورٹی فورسز نےشہید کیا، لواحقین کا الزام، آل پارٹیز کی مذمت، احتجاج کا اعلان
تربت/کوئٹہ (نمائندہ انتخاب /بیورورپورٹس) تربت، آپسر آسکانی میں فائرنگ سے ایک خاتون جان بحق، لواحقین کی جانب سے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کرکے قتل کرنے کا الزام،آل پارٹیزکیچ، بی ایس او پجار،پی این پی عوامی، بی این پی عوامی،جماعت اسلامی، جے یو آئی ودیگرجماعتوں کی جانب سے مذمت،تربت سول سوسائٹی کاجمعرات کے روزاحتجاج کااعلان، تربت کے نواحی علاقہ آپسر آسکانی میں گولی لگنے سے 25سالہ خاتون تاج بی بی زوجہ موسیٰ جان بحق ہوگئیں جس کی لاش اہل خانہ نے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کردی جہاں ضروری کارروائی کے بعد اسے اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا، ذرائع کے مطابق مقتولہ اور ان کی فیملی بالگتر سے ہجرت کر کے شاہ آباد میں رہ رہی تھی، منگل کو وہ اپنے دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ قریبی جنگل میں لکڑیاں چننے جارہی تھی جنگل پہنچنے سے قبل وہ راستے میں فائرنگ کی زد میں آگئے اورمقتولہ کو سرپر گولی لگی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئیں، وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں سول سوسائٹی اور بی ایس او کے کارکنان ہسپتال پہنچ گئے، اس دوران ڈپٹی کمشنر کیچ نے بھی ہسپتال کا دورہ کیا اور مقتولہ کے لواحقین سے اس وقوعہ پر گفتگو کی، مقتولہ خاتون کے ایک رشتہ دار نے ڈپٹی کمشنر کیچ کو واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ ہم جنگل جارہے تھے کہ ایف سی کی چیک پوسٹ سے ہماری گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس سے ایک گولی تاج بی بی کو لگی،ڈی سی کیچ نے معاملہ کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی، دوسری جانب بی ایس او پجار اور بی ایس او نے تاج بی بی کی قتل کا الزام ایف سی پر عائد کرتے ہوئے اس کی مکمل شفاف اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے،دریں اثناء آل پارٹیز کیچ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں آسکانی بازار آبسر میں خواتین پر فائرنگ کے نتیجے میں بلوچ خاتون تاج بی بی کی شہادت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی،آل پارٹیز کیچ کے ترجمان نے کہاکہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے بے گناہ شہریوں پر حملے اور تشدد روز کا معمول بنتا جارہاہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مکران اور بالخصوص کیچ اور پنجگور کے حالات خراب کئے جارہے ہیں،آل پارٹیز کیچ کے ترجمان نے مزید کہاکہ کہ سیکیورٹی کے نام پر خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے، کیچ کی سیاسی سماجی تنظیموں اور غیرت مند عوام کے لئے اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں اس قسم کے واقعات کی تدارک کے لئے بہت جلد آل پارٹیز کیچ کا اجلاس منعقد کرکے موثر اور کارآمد حکمت عملی ترتیب دی جائے گی،آل پارٹیز کیچ نے آخر میں کہا کہ آسکانی بازار آبسر میں کے واقعے کی غیر جانبدارانہ بنیاد پر تحقیقات کرکے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے،علاوہ ازیں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار تربت زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں آپسر کے علاقے آسکانی بازار میں ایک دو ہزار گاڑی پر سیکورٹی اہلکاروں کے فائرنگ سے ایک بے گناہ بلوچ خاتون کی شہادت کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ جلد قاتل کو گرفتار کریں اور متاثرہ خاندان کو انصاف دیں ترجمان نے مزید کہا کہ ہر قتل کو غلطی بتا کر ہمارے جان،عزت، مال اور نسل کو ختم کیا جا رہا ہے،ریاست اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ ان اہلکاروں کو قانون کے حوالے کریں اور عام عوام کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائیں، ترجمان نے مزید کہا ہے کہ پچھلے سال بھی سیکورٹی اہلکاروں نے بے گناہ نوجوان کو قتل کیا اور آج خاتون کا قتل،ان کا تسلسل ہے، ترجمان نے آخر میں کہا کہ قاتل اہلکار کو جلد گرفتار کیا جائے بصورت دیگر بی ایس او پجار اہل خانہ کے ساتھ مل کر احتجاج کا راستہ اپنائے گا،جماعت اسلامی ضلع کیچ کے ترجمان نے کہاکہ آبسر تربت میں سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں خاتون کے قتل کی بھر پور مذمت کرتے ہیں،واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بے لگام ادارے حواس باختہ ہو چکے ہیں، آئے روز بے گناہ شہریوں کا قتل جنگل کا قانون ہے، ان اداروں کی ترجیحات امن و امان نہیں بلکہ بلوچستان پہ قبضہ جمانا ہے،ہمیں ان اداروں کے علاوہ کسی سے خطرہ نہیں، ان کی موجودگی ہی سب سے بڑا خطرہ ہے،بی این پی عوامی کیچ کے ترجمان نے آبسر تربت میں سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں بلوچ خاتون تاج بی بی کے قتل کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں میں یہ پہلا واقعہ نہیں کہ ہم اسے ایک حادثہ سمجھیں بلکہ مدتوں سے یہی روش جاری ہے اور دانستہ طور پر ایف سی و دیگر ادارے بلوچ ہونے کی بنیاد پر ہمارے ساتھ یہی کچھ کررہے ہیں تاکہ ہمیں یہ احساس دلایا جائے کہ آپ غلام ہیں اور پورے نظام کو یہی غیر جمہوری ادارے چلا رہے ہیں آج کا واقعہ شہید حیات، ملک ناز و دیگر سنگین ریاستی واقعات کی ایک جاری کڑی ہے، مزید کہا گیا کہ اداروں نے بلوچستان بالخصوص مکران و کیچ میں جنگل کا قانون رائج کررکھا ہے آئے روز بے گناہ شہریوں کا قتل کیا جا رہا ہے اداروں کی ترجیحات میں امن و امان نہیں بلکہ بلوچستان پر قبضہ جمانا ہے بی این پی عوامی کمشنر مکران اور حکام بالا سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچ خاتون کی قتل میں ملوث ایف سی اہلکار کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، علاوہ ازیں پاکستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری خان محمد جان نے کہاہے کہ پاکستان نیشنل پارٹی عوامی آبسرآسکانی خاتون کی شہادت اور ڈنک میں خاتون کو زخمی کرنے کے عمل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتی ہے،جے یو آئی کیچ کے ترجمان نے کہاکہ ایف سی کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت افسوسناک ہے فورسز کی جانب سے مسلسل ایسے اقدامات سے عوامی نفرت بڑھ رہی ہے مکران میں لوگ خوف وحراس کی زندگی گزار رہے ہیں تحفظ کے نام پر بے گناہ لوگوں اور عورتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور نہ ہی مین اسٹریم میڈیا میں اس طرح کے سانحات پر گفتگو کی جاتی ہے،دریں اثناء تربت سول سوسائٹی نے آپسر میں خاتون کی شہادت کے خلاف جمعرات کو احتجاج کا اعلان کردیا،تربت سول سوسائٹی کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپسر شاہ آباد سے تعلق رکھنے والی غریب خاتون تاج بی بی کا قتل بلوچستان میں کئی عشروں سے جاری جارحانہ ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے، ایسے واقعات پورے بلوچستان میں ایک تسلسل کے ساتھ دہرائے جارہے ہیں، گزشتہ سال آپسر میں ایف سی اہلکاروں نے نوجوان طالب علم حیات بلوچ کو بیچ سڑک پر والدین کے سامنے گولی مارکر شہید کردیا، عوامی احتجاج کے بعد ایف سی نے اسے ایک اہلکار کی غلطی قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دیا حالانکہ اس سے پہلے ملک ناز، تمپ میں کلثوم اور دیگر کئی خواتین اور بلوچ مردوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، ترجمان نے کہا کہ ایسے واقعات کے علاوہ بلوچستان میں آپریشن بھی جاری ہے جس میں متعدد نوجوانوں کو ماورائے آئین و قانون گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا جاتا ہے، ترجمان نے کہا کہ آپسر میں تاج بی بی کی شہادت کے خلاف تربت سول سوسائٹی جمعرات کو صبح 11 بجے تربت پریس کلب کے سامنے احتجاج کا اعلان کرتی ہے اور اس میں آل پارٹیز کیچ، تمام سیاسی و سماجی اور طلبہ تنظیموں سے شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔


