بلوچستان میں ایک جمہوری اور پرامن مزاحمتی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے،آغا حسن بلوچ

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ،رکن قومی اسمبلی،ہاشم نوتیزئی،رکن بلوچستان اسمبلی ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایک جمہوری اور پرامن مزاحمتی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے،بلوچستان کے طلباء و طالبات پر تشدد کرنے والے حکمرانوں کو شرم آنی چاہئے جام حکومت عوام کی غموار نہیں بلکہ خونخوار حکومت ہے جو ہر پرامن احتجاج کو تشدد کے ذریعے روکنے کی کوشش کرتی ہے اگر فوری طور پر گرفتا ر طلباء کو غیر مشروط طور پر رہا نہیں کیا گیا توبلوچستان نیشنل پارٹی طلباء کے ساتھ ملکر جیل بھرو تحریک چلائے گی،صوبے میں 3سال کے دوران تعلیم کی مد میں 26ارب روپے ہڑپ کرلئے گئے ہیں لیکن آج بھی صوبے کے دوردراز اسکولوں،کالجز میں اساتذہ نہیں ہے۔یہ بات انہوں نے جمعہ کی رات پریس کلب کوئٹہ کے سامنے پاکستان میڈیکل کونسل کے زیر اہتمام میڈیکل کالجز کے داخلہ ٹیسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو، رکن اسمبلی میر حمل کلمتی،سابق رکن قومی اسمبلی عبدالروف مینگل، بی این پی کے مرکزی رہنما زاہد بلوچ اوردیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ اپنے آپ کو جمہوری حکومت کہنے والوں کو شرم آنی چاہئے کہ انہوں نے اپنے مستقبل کیلئے احتجاج کرنے والے پرامن طلباء ا ور طالبات پرتشدد کیا اورانہیں گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا۔انہوں نے کہا کہ طلباء اپنے جائز مطالبات کے حل کیلئے پرامن احتجاج کر رہے ہیں انکے مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے انر تشدد کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد حکومت نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ اس نے عوام کے مسائل حل نہیں کرنے ہیں نا اہل حکمرانوں کے تین سال کے دوران صوبے میں چادر اورچار دیورای کے تقدس کی پامالی کی گئی طلباء،اساتذہ،نرسز،ارکان صوبائی اسمبلی پر تشدد کیا گیا لیکن ہم ان نا اہل حکمرانوں کو بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ ہم پر جتنا بھی تشدد کر لیں ہمیں وہ اپنے حقوق سے دستبردار نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی غموار نہیں بلکہ خونخوار حکومت ہے جو ہر پرامن جدوجہد کو تشدد کے ذریعے کچلنا چاہتی ہے بلوچستان نیشنل پارٹی طلباء کو یقین دلاتی ہے کہ وہ انکی جدوجہد میں انکے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس سے رابطہ کیا ہے اورانہوں نے گرفتار طلباء کو رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اگررات 12بجے تک گرفتا ر طلباء کو رہا نہیں کیا جاتا تو بلوچستان نیشنل پارٹی طلباء اور طالبات کے ساتھ ملکر جیل بھرو تحریک سمیت سخت احتجاج پر مجبور ہوگی۔رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچستا نے کہا کہ ہمیں بلوچستان میں ایک پرامن اور جمہوری مزاحمتی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے موجودہ حکمرانوں نے تین سال کے دوران تعلیم کی مد میں 26ارب روپے ہڑپ کرلئے ہیں صوبے کے اسکول،کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے آج بھی اساتذہ سمیت دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں