حکومت بلوچستان طلبہ پر تشدد کی بجائے مطالبات پر ہمدردانہ غورکرے،سینیٹر طاہر بزنجو
اسلام آباد:سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر طاہر بزینجو نے بلوچستان کے طالب علموں کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچی طالبعلموں کا میڈیکل کالجز کے طریقہ کار پر احتجاج کرنے والوں پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں حکومت بلوچستان سے گزارش ہے کہ ان پر تشدد کی بجائے ان کی مطالبات پر ہمدردانہ غور کیا جائے امتحانات کا انعقاد کیا جائے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر طاہر بزینجو نے مزید کہا ہے کہ طلبا بلوچستان کے ان علاقوں سے آئے ہوئے ہیں جہاں تعلیم کیلئے ریاست نے انہیں کچھ نہیں دیا ہے بلوچستان کے زیادہ تر طلبا پرائمرء تک تعلیم حاصل نہیں کر پاتے یہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے گنے چنے لوگ ہیں جو بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں سے تعلیم حاصل کرنے کیلئے یہاں پہنچے ہیں۔ ان طلبا کو کوئٹہ یا شہروں کی طر ف لانے میں اورتعلیم کی طرف راغب کرنے میں حکومت یا ریاست کا کوئی ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ خود اپنے بلبوتے پر آئے ہوئے ہیں تاکہ وہ قومی تعمیر میں کچھ کردار ادا کر سکیں مگر جب وہ یہاں پہنچ جاتے ہیں اور تعلیمی کیرئیر کا آغاز کرتی ہیں تو انہیں میرٹ کی پامالی، ان کے امتحانات میں کرپشن اور جب وہ اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں احتجاج اور مظاہروں کا راستہ اپناتے ہیں ان کی مطالبات پر ہمدردانہ غور کیا جائے امتحانات کا انعقاد کیا جائے اس موقع ہر سینیٹر ثنا جمالی نے کہا ہے کہ چالیس فیصد فیڈرل سے امتحانی سلیبس آیا تھا اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔


