اگر ناراض گروپ مایوس اور بے چین نہیں اور انکے پاس اکثریت ہے تو ادھر ادھر کیوں بھاگ رہے ہیں،جام کمال خان
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ6دن دور نہیں ہیں انتظار کرتے اور دیکھتے ہیں، ناراض گروپ میں وزیراعلیٰ بننے کی رسہ کشی شروع ہے اب تک پانچ امیدوار سامنے آچکے ہیں، اگر ناراض گروپ مایوس اور بے چین نہیں اور انکے پاس اکثریت ہے تو وہ ادھر ادھر کیوں بھاگ رہے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے قائم مقام صدر کی تقرری کا اختیار کسی فرد نہیں بلکہ ایگزیکٹو کونسل کو ہے اگر میں ہاتھ سے تحریر استعفیٰ بھی دیتا تب بھی ایگزیکٹو کونسل قائم مقام صدر نامز د کرتی،یہ بات انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مختلف پیغامات میں کہی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں بانی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی انکے پاس صدر کو ہٹانے یا رکھنے کا اختیار ہے انہوں نے کہا کہ ناراض گروپ سے کچھ لوگ اکثریت حاصل ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اگر انکے پاس اکثریت ہے تو وہ پریشان ہوکر ادھر ادھر کیوں بھاگ رہے ہیں ہم میں سے کوئی بھی یہاں وہاں نہیں بھاگ رہا انہوں نے کہا کہ اگر ناراض گروپ اتنا ہی پر اعتماد ہے و ہ بار بار اکثریت کی بات یا بے چین کیوں ہورہا ہے 6دن دور نہیں ہیں انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ناراض گروپ میں وزیراعلیٰ بننے کے لئے رسہ کشی ہے اب تک انکے پانچ امیدوار آئے اورگئے ہیں ہر روز انکا نیا لیڈر اور وزیراعلیٰ شپ کا امیدوار سامنے آتا ہے انہوں نے کہا کہ الحمداللہ مخلوط حکومت مضبوط ہے دوسرے گروپ کے کچھ لوگوں کو معلوم ہے کہ انکے پاس اکثریت نہیں ہے اور اسی کی مایوسی میں وہ وٹس ایپ پر بے بنیاد اور جعلی خبریں پھیلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ناراض گروپ کی پریشانی، لالچ، حسد انہیں اقتدار کے حصول کے لئے کسی بھی غیر اخلاقی حد تک لیکر جا سکتی ہے اختلاف اور موقف رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ پروپگینڈے اور صرف جھوٹ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں گورننس، ترقیاتی عمل، امور، صوبے کے تشخص سمیت دیگر معاملات کو درست سمت میں ڈالا ہے صوبے میں کرپشن کم ہوئی ہے، شفافیت لائی گئی ہے، نوکریاں فراہم کی گئی اور کرپٹ مافیاؤں کا صفایا کیا ہے اب کچھ لوگ کرپٹ عناصر کے ساتھ ملکر صوبے کو لوٹنا چاہتے ہیں جو انشاء اللہ نہیں ہوگا۔


