،بلوچستان میں آئے روز فورسسز کے ہاتھوں پر تشدد واقعات سے عوام پریشان حال ہیں،بلوچستان بار کونسل

کوئٹہ:بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں سانحہ ہوشاب کے واقعہ کے خلاف چیف جسٹس بلوچستان جسٹس نعیم اختر افغان جسٹس عبدالحمید بلوچ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے تاریخ میں پہلی بار بلوچستان ہائیکورٹ کے جراء ت مندانہ فیصلے سے عدل کے وقار میں اضافہ ہوگا بیان میں کہا کہ بلوچستان میں آئے روز فورسسز کے ہاتھوں پر تشدد واقعات سے عوام پریشان حال ہیں بلوچستان خصوصا مکران میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات سے عوام سراپہ احتجاج ہیں فورسسز کا کام لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے لیکن بلوچستان میں آئے روز لوگوں کے عزت و نفس کو مجروح کیا جاتا ہے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں ماورائے آئین و قانون قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے سانحہ ہوشاب اس سلسلے کی ایک کڑی ہے بیان میں کہا کہ بلوچستان حکومتی رٹ نہ ہونے کی برابر ہے بلوچستان حکومت لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے بلوچستان ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلہ کا بلوچستان کے وکلاء عوام خیر مقدم کرتے ہیں بیان میں کہا کہ اس سانحہ کی درست تفتیش کیا جائے سانحہ میں ملوث جو بھی ذمہ دار ہے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے بیان میں مطالبہ کیا کہ حکومت لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں