لاپتہ ارکان کے فون بند ہیں، ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے، ظہور بلیدی

کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے قائم مقام صدر میر ظہوراحمدبلیدی نے کہاہے کہ لاپتہ ارکان کے فون سیلز بند ہیں ان کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکاہے،اگر لاپتہ ایم پی ایز گھروں تک نہیں پہنچتی تو وزیر داخلہ بھی شریک جرم ہیں،خیال تھاکہ جام کمال بات چیت اور مذاکرات سے کچھ لوگوں کومناتے لیکن ایسا نہیں ہوا جام کمال سے گزارش ہے کہ جمہوری انداز میں ہم سے رابطے کریں ہم لوگ ثابت قدم ہیں جام کمال کے خلاف تحریک کسی اور کا نہیں جام کمال ہی کا کمال ہے جنہوں نے اپنے رویے سے لوگوں کو اس نہج تک پہنچایا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام اور نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ میرظہوراحمدبلیدی نے کہاکہ ہم بی اے پی کے لاپتہ ایم پی اے سے رابطہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کے سیل فون بند جا رہے ہیں اور ابھی تک ان کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وزیر داخلہ صاحب جب تک وہ بازیاب ہو کر اپنے گھر والوں تک نہیں پہنچتے ہم آپ کو بھی شریک جرم سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان اسمبلی کے لاپتہ ایم پی ایز کی محفوظ اور بحفاظت بازیابی کیلئے آئی جی پولیس کو مشترکہ درخواست دی۔انہوں نے کہاکہ ماہ جبین شیران 25تاریخ کو آکر اپنا ووٹ کاسٹ کریگی۔ظہوربلیدی نے کہاکہ سیاسی کشمکش ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے ہم نے اکثریت ظاہر کردی ہے۔تحریک عدم اعتماد میں 34لوگوں نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی۔خیال تھاکہ جام کمال بات چیت اور مذاکرات سے کچھ لوگوں کومناتے لیکن ایسا نہیں ہوا جام کمال سے گزارش ہے کہ جمہوری انداز میں ہم سے رابطے کریں ہم لوگ ثابت قدم ہیں۔آئی جی پولیس ناراض ارکان کوتحفظ فراہم کرے۔پینسٹھ کے ایوان میں تینتیس اراکین نے آج کھڑے ہو کر جام کمال پر عدم اعتماد کیا۔ انہیں اب مستعفی ہو جانا چاہیے۔ انکے خلاف تحریک کسی اور کا نہیں جام کمال ہی کا کمال ہے جنہوں نے اپنے رویے سے لوگوں کو اس نہج تک پہنچایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں