سوراب،قلت آبنوشی گھمبیر صورتحال اختیار کرگئی، لوگ روز مرہ کی ضروریات کیلئے کئی کلومیٹر دور سے پانی لانے پر مجبور
سوراب:ضلع کے مختلف علاقوں میں قلت آبنوشی گھمبیر صورتحال اختیار کرگئی، پسماندہ دیہی علاقے ترقیاتی منصوبوں میں مسلسل نظر انداز، فراہمی آبنوشی کے نام پر کروڑوں روپے کی اسکیمیں کاغذی کارروائی تک محدود، بلند و بانگ دعووں کے باوجود جیوا مولی چھڈ، لاکھوریاں اور گدر کے رہائشی کئی کلومیٹر کی مسافت سے پانی لانے پر مجبور ہیں،عوامی حلقوں کا قلت آب کی صورتحال کے نوٹس اور مختلف دیہی علاقوں کے نام پر فرضی اور ادھورے فراہمی آبنوشی منصوبوں کی تحقیقات کا مطالبہ،رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے عدم توجہی کے باعث ضلع سوراب کے دیہی علاقوں کے مکینوں پینے کے پانی کے حصول میں بدترین مشکلات کا سامنا ہے، لوگ اپنے روز مرہ کی ضروریات کے لئے کئی کلومیٹر دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں، فراہمی آبنوشی کے منصوبوں کے نام پر سالانہ کروڑوں روپے کے فنڈز منظور ہونے کے باوجود مختص دیہی علاقوں میں زمین پر ان منصوبوں کا نام و نشان موجود نہیں، ضلع کے دوافتاد پسماندہ علاقے ترقیاتی منصوبوں میں مسلسل نظر انداز ہیں جس کے نتیجے میں یہاں کی رہائشی زندگی کی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں، خل بھٹ چرک مولی جیوا اور کئی علاقوں میں لوگ اپنی مدد آپ یا پھر غیرسرکاری فلاحی اداروں کی مدد سے حصول آب کا بندوبست کررہے ہیں، جبکہ اکثر مکین پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور حصول میں مشکلات سے تنگ آکر اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کرچکے ہیں، واضح رہے کہ پچھلے مالی سال کے بجٹوں میں فراہمی آبنوشی کے متعدد منصوبے شامل تھے جنہیں فرضی علاقوں کے نام پر مختص کرکے فائلوں میں انہیں مکمل جبکہ زمین پر ان کا کوئی نام و نشان موجود نہیں ہے، عوامی حلقوں نے اعلی حکام سے سوراب کے نظر انداز پسماندہ دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کے بدترین بحران کا نوٹس اور ان علاقوں کے نام پر فرضی اور ادھورے آبنوشی اسکیموں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


