ریاستی اداروں کا خوفناک ٹکراؤملک کو تاریخی میں دھکیل رہا ہے،لیاقت بلوچ
کراچی: جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیروسابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ ملک میں سیاسی و اقتصادی بحران ہے، ریاستی اداروں کا ٹکراخوفناک چیز ہے جوہمارے مستقبل کو تاریکی کی طرف دھکیل رہاہے،تحریک لبیک پر پابندی غیر آئینی و غیرقانونی ہے عدالتی حکم کے باوجود رہنماوں کو رہا نہ کرنا توہین عدالت ہے۔ سیاست میں مداخلت اور من پسند نتائج کے لیے اسٹیبلشمینٹ کو اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی کی پوری جدوجہد کا مقصد اللہ کی رضا اور اسلام کا مکمل نفاذ ہے۔ جس میں لوگوں کو امن انصاف سکون اور خوشحالی میسر ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں امیرجماعت اسلامی سندھ کی حلف برداری تقریب سے خطاب اورمیڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔قبل ازیں امیرجماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی نے دوسری مرتبہ صوبائی امارت کا حلف اٹھایا۔تقریب میں کراچی تاء کشمور سندھ بھر سے جماعت اسلامی اوراسکی برادرتنظیمات کے ذمہ دارن شریک تھے۔لیاقت بلوچ نے ملک کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے قومی قیادت، نیشنل لیڈرشپ اور اداروں کو ملکر قومی ترجیحات طئے کرکے قومی چارٹر بنانے پرزوردیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا آئین قومی دستاویز ہے جس میں تمام اداروں کے حدود متعین ہیں مگر اس پر عمل کی بجائے انحراف کیا جارہاہے جس کی وجہ سے آج ملک میں بے یقینی کی صورتحال ہے۔مردم شماری کا حلیہ بگاڑنے سے ملک میں عدم اعتماد بڑھا ہے۔پیپلزپارٹی کا حشر نشر ہوگیا ہے اب وہ عوام کی بجائے وڈیروں کی بے ساکھی پر زندھ ہے۔لسندھ میں نوجوان بیروزگار۔شہر گندگی و غلاظت کاڈھیر بنے ہوئے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھاکہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانا عوامی حقوق پر ڈاکہ ہے۔آج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی بیروزگاری و بدامنی ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ حکومت کے خلاف عوامی احتجاج منظم ہورہا تھا مگر اچانک دوسرے اشوکھڑے کرکے عوام کی سلگتے مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ عقیدہ ختم نبوت ہرمسلمان کے ایمان و عقیدہ کا حصہ ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ تحریری معاہدے پر عمل کیا جائے مگر پورے ملک کے عوام کو اذیت نہ دی جائے۔افغان عوام کی فتح کو تسلیم کرنے کی بجائے سییکولر و امن دشمن قوتیں ان کو دوبارہ بارود کے ڈھیر کی طرف دھکیلنے کی سازشیں کر رہی ہیں جس کی اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔جماعت اسلامی سندھ کے امیرمحمد حسین محنتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ باب الاسلام ہے جس کا قیام پاکستان میں کلیدی کردار ہے۔سندھ کے رہنے والوں میں دین کا جذبہ کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے تمام ترکوششوں کے باوجود سیکولرودین دشمن قوتوں کو ناکامی ہوئی ہے۔جماعت اسلامی اقامت دین کی عالمگیر تحریک ہے ہماری جدوجہد کا مقصد محض اسمبلی کی چند سیٹیں حاصل کرنا نہیں بلکہ ھماری منزل اسلامی انقلاب ہے۔صوبائی امیرنے کہاکہ آج ملک میں سب سے زیادہ مفلوج بلدیاتی نظام سندھ کا جس میں عوام کو اپنے حقوق اورمنتخب نمائندوں کو اپنے اختیارات سے محروم کردیا گیا ہے۔حکومتی صفوں میں کرپشن بہت زیادہ ہے ترقیاتی کام اور مسائل حل نہیں ہوتے عوامی جدوجہد جاری ہے پذیرائی ملے گی ملک میں تبدیلی اور انقلاب ائیگا۔سندھ کے عوام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔اس ظالمانہ نظام نے مظلوم عوام کی زندگی اجیرن بناکر رکھ دی ہے۔سندھ کا ووٹر غلام بنا ہوا۔ظلم کے نظام سے نجات اورعوام کو غلامی سے نکالنے کے لیے جماعت اسلامی جدوجہد کررہی ہے۔ صوبائی امیرنے زوردیاکہ بلاک کوڈ تک تنظیم سازی کرکے عوام تک جماعت اسلامی کا پیغام پہنچایاجائے۔ذمے دران فرائض کی پبندی سنت اورنوافل اورذکرواذکار کے زریعے تعلق باللہ مضبوط کریں۔


