سرداراختر مینگل نے دال کالی کردی ورنہ جمعیت حکومت کاحصہ ہوتی‘حافظ حسین احمد
کوئٹہ:جمعیت علما اسلام پاکستان کے سینئر رہنما ء مولانا حافظ حسین احمد نے کہاہے کہ جمعیت علما اسلام مسلم لیگ(ن)یادوسری موروثی جماعتیں نہیں کہ موروثیت پر چلیں،ہمیں عہدہ چاہیے نہ ہی سیٹ ہم صرف جماعت کے دستور کی بحالی چاہتے ہیں،مولانافضل الرحمن نوازشریف کے شیدائی انہیں لندن بھی بھجوایا تھا،بلوچستان میں حکومت نے حکومت کے خلاف تحریک پیش کی اور باپ پارٹی کے قدوس بزنجو کو وزیراعلی بنوایا لیکن سرداراخترجان مینگل نے دال کالی کردی ورنہ جمعیت کے دوست حکومت کا حصہ ہوتے،نوازشریف اور خواجہ آصف بے نظیر کے خلاف سازش میں شریک نہ ہونے پر ناراض ہوئے تھے حالانکہ جمعیت علما اسلام کو کروڑوں روپے اور حکومت میں شمولیت کی دعوت بھی دی تھی۔مجھے تو نوازشریف کے خلاف تقریر پر نکالاتھا مولاناشیرانی،مولاناگل نصیب اور مولاناشجاع الملک کو کس وجہ سے نکالاہے،جمعیت علما اسلام ہماری پارٹی ہے اور رہے گی، ہمیں جماعت میں عہدہ نہیں دستور پر عمل درآمد چاہیے۔2007 سے مولانا فضل الرحمان نے جو کیا ہے اس کے باوجود ہم نے اپنی جماعت نہیں چھوڑی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں پیغام امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مولانامحمد خان شیرانی، مولانا گل نصیب،مولانا شجاع الملک،مولانا عبدالوحید ودیگر نے بھی خطاب کیا۔حافظ حسین احمد نے کہاکہ کسی نے کہاکہ مردہ اٹھ کر کھڑا ہوگیاہے میں کھڑا ہوں کھڑا رہوں گا مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم کھڑے رہیں گے۔جب مردہ کھڑا ہوجاتاہے تو موروثیت مر جاتی ہے اس لئے کہ ہماری قیادت اور ساتھیوں نے فیصلہ کیاکہ ہم مثبت انداز میں اپنا پیغام پہنچائیں گے بڑے بڑے بزرگوں سے فون کرایاجارہاہے کہ واپس آجائیں ہم گئے تھے گئے تو تم ہوں تم واپس آجاؤ جہاں گئے ہوں،انہوں نے کہاکہ ہمارا منہ نہ کھولو ایک پارٹی کے اندرایک پارٹی کے اندر ایک شخص 40سے45سال تک ایک پارٹی کودیتاہے اور ایک اجلاس میں وہ بات کرتاہے لیکن انہیں روکا جاتاہے جمعیت ہماری پارٹی تھی ہے اور رہے گی آپ تو کسی اور اسٹیج پر نظرآتے ہیں۔ہماری پارٹی وہی ہے جھنڈا بھی وہی ہے جب دستور پرعمل نہیں ہوتا حالانکہ دستور میں لکھاہے کہ عمومی کسی بھی کانام پیش کرتے ہیں اور مولاناشیرانی کاپشاور میں امارت کیلئے نام پیش کیاجاتاہے تو تین دن تک مولانافضل الرحمن ان کے گوڈوں کو ہاتھ لگاتے ہیں پاؤں کو ہاتھ لگاتے ہیں کہ خدا کیلئے میرے مقابلے سے دستبردار ہوجائیں،اگر ایک شخص اپنے منصب کیلئے خود مانگتاہے دوسروں کو مجبور کرتاہے اور ایک دستور کی خلاف ورزی کرتاہے۔میں چیلنج کے طورپر کہتاہوں کہ اگر ہم یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ اگر دستور کے مطابق مولاناشیرانی کانام پیش کیاگیاتھا اور پھر غیر دستوری طورپر تین دن تک اجلاس ملتوی ہوا تھا یا نہیں ہواتھا؟ جب وہاں اس کے باوجود ہم نے جماعت نہیں چھوڑی تھی۔


