ووٹ ڈالنے کا شیطانی چرخہ

تحریر: انورساجدی
لگتا ہے کہ غیر ملکی ثالثی کام دکھا گئی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متنازع حکومتی بلوں کی منظور اس کا غماز ہے کہاں ایک ہفتہ پہلے تک حکومت کے جانے کی الٹی گنتی شروع ہوگئی تھی اور کہاں مطلوبہ بلوں کی منظوری کے بعد یہ آکسیجن ٹینٹ سے باہر نکل آئی اور وقتی طور پر ونر بھی رہی اپوزیشن نے بہت زور لگایا لیکن طاقت طاقت ہوتی ہے طاقت کے اس استعمال کا مختصر مگر جامع خلاصہ پی ٹی آئی کے رنگیلے ایم این اے عامر لیاقت نے یہ کہہ کر پیش کیا کہ
ہم خود نہیں آئے ہیں لائے گئے ہیں ہمیں بڑے اہتمام کے ساتھ لایا گیا ہے ہمیں وہ لوگ لائے ہیں جو ہمیشہ ایسے مواقع پر لوگوں کولاتے ہیں
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے بارے میں طاقت کے عناصر نے اپنا گزشتہ فیصلہ تبدیل کردیا تھا لیکن جو قانون سازی ہوئی ہے وہ دراصل پی ٹی آئی کے حق میں نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کے اپنے حق میں ہے کیونکہ سابقہ انتخابات میں انہیں اپنی من پسند پارٹیوں اور لوگوں کو لانے کیلئے بڑا زور لگانا پڑا تھا کافی محنت کرنا پڑتی تھی سارے الزامات اپنے سرلینا پڑتا تھا لیکن اووسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے کے بعد سونے کی کان ہاتھ میں آگئی ہے کیونکہ جس پارٹی کے حق میں 80لاکھ ووٹ استعمال کئے جائیں اس کی کامیابی یقینی ہوگی نہ ٹھپے لگانے کی ضرورت اور نہ ہی بیلٹ باکس تبدیل کرنے کی زحمت اسی طرح ای وی ایم جسے شہبازشرف ایول وشز مشین کا نام دیا ہے۔
اس پر پولنگ کے جادوئی نتائج برآمد ہونگے اگرشہباز شریف کے دیئے گئے نام کاترجمہ کیا جائے تو وہ ”ووٹنگ کا شیطانی چرخہ“ بنتا ہے اس قانون کی منظوری کے بعد تحریک انصاف کا خیال ہے کہ وہ نہ صرف اپنی موجودہ مدت پوری کرے گی بلکہ آئندہ پانچ سال بھی وہ اقتدار پر براجمان رہے گی لیکن اندازہ یہی ہے کہ طاقت کے عناصر نے جو کرنا تھا کرلیا اب اسے بطور جماعت تحریک انصاف کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ترامیم کی منظوری کے بعد وہ جسے چاہے آسانی کے ساتھ کامیاب کرواسکتی ہے مثال کے طور پر اگر اس نے ق لیگ کو کنگز پارٹی بنانا چاہا تو عوامی ووٹ نہ ملنے کے باوجود جادوئی مشین اتنے بیلٹ پیپرنکالے گی کہ وہ سب سے بڑی پارٹی دکھائی دے گی اسی طرح اگرانہوں نے باپ پارٹی کا بطور کنگز پارٹی انتخاب کیا تو وہ بھی عظیم الشان کامیابی حاصل کرے گی۔
داد دینی پڑتی ہے ان عناصر کو جن کے اعلیٰ دماغوں نے دھاندلی کااتنا خوبصورت اور جدید طریقہ ایجاد کیا۔لیکن وہ نہیں ہوگا جو تحریک انصاف اور اس کے سرپرست چاہتے ہیں کیونکہ مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین مسٹر بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ ابھی سے آئندہ انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے کااعلان کرتے ہیں شہبازشریف نے تاریخی حوالے دے کر ثابت کیا کہ ایوب خان کے پیریٹی نظام نے پاکستان کو درلخت کردیا انہوں نے کہاکہ مولوی تمیز الدین کیس میں اگراس وقت کے چیف جسٹس منیر نظریہ ضرورت کے تحت اسمبلی کی تحلیل کو جائز قرار نہ دیتے تو پاکستان میں وہ الیمے جنم لیتے جو ملک لوٹنے کا باعث بنے انہوں نے تازہ آئینی ترامیم کو تاریخی جرم قراردیا اور کہا کہ اس کے نتائج کچھ عرصہ کے بعد برآمد ہونگے انہوں نے کہا کہ جرمنی جیسے ملک میں ای وی ایم کا استعمال ترک کردیا جو ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے۔
البتہ کسی نے یہ توجہ نہیں دلائی کہ بلوچستان اورفاٹا کے جن علاقوں میں بجلی نہیں ہے وہاں پر ووٹنگ کیسے ہوگی؟جھل جھاؤ سودگر واشک اور شیرانی کے لوگ کس طرح اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔
حکومت نے پنجاب سندھ اور پشتونخوا کے شہروں کو سامنے رکھ کر جادوئی مشین رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کے اذہان ان دور رفتادہ اور پسماندہ علاقوں کی طرف نہیں گئے جہاں بجلی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ای وی ایم دھاندلی روکنے کیلئے رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اپوزیشن نے اعتراض اٹھایا کہ اسپیکر نے ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی سے کام لیا ہے حتیٰ کہ غیر منتخب مشیروں کو بھی گنتی میں شامل کیا ہے بھئی یہ پاکستان ہے پاکستان دنیا کے سارے انوکھے کام یہاں پر آسانی کے ساتھ ہوجاتے ہیں یہاں پر1970ء کے بعد کبھی آزادانہ اور شفاف انتخابات نہیں ہوئے جو انتخابات1970ء میں ہوئے وہ ایک شخص ایک ووٹ کی بنیاد پر ہونیوالے پہلے انتخابات تھے یہ انتخابات کافی حد تک شفاف تھے لیکن مغربی پاکستان کی اشرافیہ اور فوج نے مل کر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا اکثریتی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد کردی گئی اور اس کے لیڈر شیخ مجیب الرحمن کو غدار قراردے کر اکثریتی عوام کے فیصلے کو مسترد کردیا۔
مغربی پاکستان یا زیادہ واضح الفاظ میں پنجاب کی اشرافیہ اور فوج نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ عام انتخابات کے نتائج رد کرنے کا کیا نتیجہ نکلے گا۔
آج ہی کے ڈان میں 50سال پہلے کے واقعات کے کالم میں لکھا ہے کہ بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ مشرقی پاکستان کے مسئلہ کا سیاسی نہیں فوجی حل ممکن ہے اس اعلان کے چند روز بعدمشرقی پاکستان میں جنگ چھڑ گئی جس کا نتیجہ16دسمبر1971ء کو ڈھاکہ کے پلٹن میں اجتماعی سرنڈر کی صورت میں نکلا لیکن افسوس کہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ کا ملک دولخت ہونے کا کوئی ملال کوئی پچھتاوا دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ نئے پاکستان کی تشکیل کے ساتھ ہی ہوجمالو کا نعرہ لگاکر1973ء میں بلوچستان پر فوج کشی کی گئی گویا وہ بنگالیوں کا بدلہ اہل بلوچستان سے لیکر کلیجہ ٹھنڈا کرنا چاہتے تھے لیکن ہوا کیا۔
بلوچستان آج بھی جل رہا ہے قدم قدم پر حکومتی رٹ کی موجودگی کے باوجود کہیں پر کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے حکومت کو اس جنگ کی وجہ سے ہزاروں ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے حکومت کسی اچھی تدبیر کی بجائے طاقت کا بھونڈا اور بے رحمانہ استعمال کررہی ہے سینکڑوں سروں کو قلم کرنے والی ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے لیکن بلوچستان میں اپنی لگائی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔پنجاب کی اشرافیہ نے پیپلزپارٹی کے نام نہاد دور حکومت میں نواب اکبر خان واجہ غلام محمد لالہ منیر اور شیرجان سمیت سینکڑوں لوگوں کو بلاوجہ بہیمانہ طریقے سے قتل کیا لیکن اس کا کوئی فائدہ نظرنہیں آرہا بلوچستان کے طول وعرض میں بدامنی اور جابجا انسانی المیوں کی وجہ سے سی پیک ناکافی سے دوچار ہے گزشتہ15سال سے ایک اینٹ کا ترقیاتی کام نہیں ہوا جتنے کام ہوئے تھے وہ جام صاحب کے لیپ ٹاپ کے اندر تھے جام صاحب کے اقتدار سے اترنے کے ساتھ ہی یہ کام بھی ڈیلیٹ ہوگئے بلوچستان آج بھی ادھر کھڑا ہے جو 2006ء میں تھا وہ ہزاروں لوگ ابھی بھی گھروں کو نہیں لوٹے جنہیں ریاست نے مسنگ کردیا تھا۔
آج بدھ2021ء کو قومی اسمبلی جس طرح بلڈوز کرکے جبری طور پر متنازع بل منظور کئے گئے یہ مکمل طور پر فسطائی طرز عمل ہے اگرچہ دنیا 21ویں صدی میں پہنچ گئی ہے لیکن پاکستان کا طرز حکومت وہی ہٹلر اور مسولینی والا ہے ہر طرح کے بل منٹوں میں منظور کرلئے جاتے ہیں پارلیمان کی کوئی حرمت باقی نہیں رہی آئین کو تسلیم نہیں کیاجارہا قانون کی حکمرانی کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔
معیشت کا جو حال ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے بدقسمتی سے اسٹیٹ بینک اب حکومت کے تابع نہیں رہا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے زیر نگین ہوگیا ہے۔
موجودہ حکومت نے گارڈین کے مطابق غریب عوام کو کرش کردیا ہے جبکہ ایک فیصدنودولتیئے سرمایہ دار طبقہ کو سارے ملکی وسائل سونپ دیئے ہیں۔پاکستان میں ہر طرف بھوک ننگ اور فاقوں کا راج ہے۔
طاقت کے عناصر پی ٹی آئی کے گھوڑے کو استعمال کرکے جلد ایک طرف رکھ دیں گے اور نئے گھوڑوں کی تلاش شروع کردیں گے پی ٹی آئی کی جو خوش گمانی اور خوش فہمی ہے اسکے کافور ہونے میں زیادہ دیر نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں