تشدد، انتہا پسندی اور علیحدگی کی روک تھام،سنکیانگ امور کی بنیاد ہے، چینی وزارت خارجہ
بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاو لی جیان نے کہا ہے کہ سنکیانگ ویغور خوداختیار علاقے کی عوامی حکومت کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں سنکیانگ کے انسداد دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے تجربے میں سات بڑے تجربات متعارف کروائے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق چاو لی جیان نے ایک پر یس بر یفنگ میں کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر واضح طور پر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سنکیانگ سے متعلقہ امور کی بنیاد،نام نہاد انسانی حقوق یا مذہبی مسائل نہیں بلکہ تشدد، انتہا پسندی اور علیحدگی کی روک تھام ہے۔انسداد دہشت گردی کی سنگین اور مشکل صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے سنکیانگ نے پْرعزم اور موثر اقدامات کا ایک سلسلہ اپنایا اور مسلسل پانچ سالوں سے دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔اس وقت سنکیانگ کا معاشرہ مستحکم اور ہم آہنگ ہے، معیشت خوشحال ہے اور تمام قومیتوں کے لوگ پر سکون زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی حقیقی صورت حال کے بہترین ثبوت، چین کی موثرپالیسیوں کی بہترین عکاسی اور سنکیانگ سے متعلق مختلف جھوٹ اور غلط معلومات کے خلاف سب سے طاقتور جواب ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ سنکیانگ میں تمام قومیتوں کے عوام کی مشترکہ کوششوں سے سنکیانگ کا مستقبل بہتر سے بہتر ہو گا۔اس سے قبل سنکیانگ ویغور خوداختیار علاقے کی مقامی حکومت نے سنکیانگ سے متعلقہ مسائل پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں سنکیانگ کے تجربات سے متعارف کروایا گیا۔


