پاکستان مہاجرین کی میزبانی کرنے والا تیسرا بڑا ملک
کوئٹہ: اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے کوئٹہ دفتر کے سربراہ اوین پولیکر نے کہا ہے کہ پاکستان مہاجرین کی میزبانی کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے،یو این ایچ سی آر آئندہ سال میں بلوچستان میں 43اسکولوں کو اپ گریڈ کریگا، مہاجرین کو ہنرسیکھانے، تعلیم، صحت کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں اقتصادی معاملات میں شامل کرنے سے وہ اپنے ممالک میں جاکر کارآمد شہری بن سکتے ہیں،یہ بات انہوں نے بدھ کو مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے لئے آگاہی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر جامعہ بلوچستان کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ببرک نیاز، یو این ایچ سی آر کے حیدر زمان، جنرل سیکرٹری کوئٹہ پریس کلب بنارس خان نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں ہائی کمشنر برائے مہاجرین بریگیڈئیر (ر) مسعود، جامعہ بلوچستان کے شعبہ میڈیا سائنسز کے سربراہ فہیم بلوچ بھی موجود تھے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے کوئٹہ دفتر کے سربراہ اوین پولیکر نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 40سال سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اقوام متحدہ چاہتا ہے کہ مہاجرین کے لئے تمام ممالک اپنی سرحدیں کھولیں انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے پاکستان ویزہ لیکر آنے والے افراد کو نقل و حرکت کرنے کی اجازت دینے سے مریضوں،مسافروں کو سہولیات ملی ہیں تاہم اب تک کوئی بھی افغان مہاجرین حالیہ واقعات کے بعد آنے کی رجسٹریشن نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی اصل تعداد جاننے کے لئے بھی منصوبے پر کام جاری ہے البتہ اس وقت ملک میں موجود رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد14لاکھ ہے جن میں سے تین لاکھ تینتس ہزار بلوچستان میں مقیم ہیں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین نے پاکستان میں صحت اور تعلیم کی بہتری کے لئے 200ملین ڈالر مختص کئے ہیں جبکہ صوبے میں 43اسکولوں کو بھی اپ گریڈ کیا جائیگا ساتھ ہی فاطمہ جناح ہسپتال میں جدید سی ٹی اسکین مشین اور 9اضلاع کو ایمبولینس فراہم کی گئی ہیں تاکہ ان علاقوں میں مقیم مہاجرین کو بھی بہتر سہولیات میسر آئیں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے اب تک 6لاکھ افراد ڈس پلیس ہوئے ہیں جن میں سے 1لاکھ واپس گھروں کو چلے گئے ہیں جبکہ دیگر کو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں افغانستان میں حالات اب بھی مخدوش ہیں جنہیں مد نظر رکھتے ہوئے مہاجرین کی آمد کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہم چاہتے ہیں کہ حکومتیں پناہ گاہیں کھلی رکھیں تاکہ مہاجرین کوآسانی پیداکی جائے تاہم اب تک مہاجرین کی آمد توقع سے کم رہی ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حیدر زمان اور ڈاکٹر ببرک نیاز نے کہا کہ مہاجرین سمیت دیگر کمیونیٹز کے حوالے سے رپورٹننگ میں احتیاط کا عنصر انتہائی اہم ہے صحافی اس حوالے سے ضابطہ اخلاق پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ بہتر انداز میں مہاجرین کے مسائل اجاگر کئے جائیں اور انہیں معاشرے کو باعزت فرد تصور کیا جائے


