ٹیکسی والا اسکالر

تحریر: انورساجدی
صبح ٹیکسی والے نے کہا کہ خان صاحب ملک کو ایک نمبر بنانے کا نعرہ لگاکر آئے تھے لیکن صرف تین سال میں دونمبر بنانے میں کامیاب ہوگئے جبکہ آئندہ ڈیڑھ برس میں نہ جانے اور کیا کیا تباہیاں لے آئیں گے ہرروز ایک نیا ”رولا“ آتا ہے کبھی گیس نہیں ہے کبھی بجلی نہیں ہے کبھی چینی غائب کبھی آٹا ناپید ہرروز ایک نیا بجٹ آتا ہے غریب کا تو بہت براحال ہوگیا ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں ہرروز اضافہ دیکھنے میں آتا ہے مال اور بڑے بازاروں میں رش بھی زیادہ ہے پتہ نہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
کون ٹیکسی والے کو بتائے اس حکومت کی جو پالیسیاں ہیں وہ عام آدمی کیخلاف ہیں جبکہ ایک فیصد سیٹھ ساہوکار صنعتکار فیوڈل لارڈ اراکین پارلیمنٹ بڑے بڑے افسران وزراء اور مشیروں پر خوشحالی کا ایک نیا دور آیا ہے یہ لوگ زیادہ امیر ہورہے ہیں جبکہ عام لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ایک دن کے پی ٹی فلائی اوور کے اوپر سے دیکھا ویسٹ وہارف پرسینکڑوں درآمد شدہ گاڑیاں نظر آئیں مختلف کمپنیوں کی مختلف گاڑیاں ایک طرف تجارتی خسارہ کا رونا رویا جارہا ہے دوسری طرف لگژری سامان کی آمد جاری ہے کوئی روک ٹوک نہیں ہے کراچی کے بڑے اسٹوروں پر کتوں اور بلیوں کے کھانے کے الگ حصے قائم ہیں بہت ہی قیمتی اشیاء رکھی ہیں کتوں کے ایک پیکٹ بسکٹ کے پیسوں سے 10غریب پیٹ بھرسکتے ہیں سبزیاں اور پھل تو ملک کے اندر موجود ہیں لیکن نیوزی لینڈ کے سیب یورپ کی بلیو بیری سمیت درجنوں امپورٹڈ پھل دستیاب ہیں جو ڈالر خرچ کرکے لائے گئے ہونگے نہ صرف یہ بلکہ یورپی ممالک سے درآمد کردہ سبزیاں بھی موجود ہیں اگر اعلیٰ طبقہ مقامی سبزیاں کھائیں تو ان کی صحت پر کوئی برااثر نہیں پڑے گا لیکن پیسہ کی فراوانی اور اسٹیٹس سمبل کے طور پر درآمدی اشیاء کا استعمال عام ہے اگر پاکستان میں مشروم (کنبی) کا سیزن نہیں ہے تو ضروری ہے کہ کوریا اور اومان کی مشروم لائی جائے۔
تجارتی خسارہ ادائیگی کے توازن میں بگاڑ،ڈالر کی اڑتی قیمت اور قلت کا کیا تقاضہ ہے۔یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ ملک کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں ہے یہ لوگ تو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں دنیا کے دو بڑے ممالک کی مثال سامنے ہے1980ء کی دہائی تک چین بیرونی دنیا سے کوئی غیر ضروری چیز نہیں منگواتا تھا جبکہ بھارت نے تو غیر ملکی اشیاء کی درآمد پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کررکھی تھی جو نہی1990ء میں چین نے پالیسی تبدیل کی اپنے ملک کے بند دروازے غیر ملکی سرمایہ اورصنعتوں کیلئے کھولے تو اس نے راکٹ کی رفتار سے ترقی کرنا شروع کی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج چین ساری دنیا کو اپنا تیار مال بیچتا ہے لیکن خود بیجنگ اور شنگھائی کے اندر ہواوے سیل فون اور چند بکسوں کے سوا کوئی مقامی مال فروخت کیلئے موجود نہیں ہے بڑے بڑے مال اور بازاروں میں سرمایہ دار دنیا کے برانڈز دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہاں پر خوشحالی آگئی ہے جس کی وجہ سے وہ فرانس،انگلینڈ،اٹلی اور جاپان کے برانڈ استعمال کرتے ہیں۔
چین نے صرف25سال کے دوران جس تیز رفتاری سے ترقی کی اس کی مثال بنی نوع انسان کی تاریخ میں موجود نہیں ہے اسی طرح من موہن سنگھ کے وزیراعظم بننے تک انڈیا بہت پیچھے تھا لیکن انہوں نے اپنا عالمی تجربہ استعمال کیا جس کی وجہ سے انڈیا نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کیلئے پسندیدہ ملک بن گیا بلکہ ایک بڑی منڈی ہونے کے ناطے اس کی ترقی کو مہمیز لگ گئی اس وقت انڈیا کی معیشت ایشیاء میں ویٹ نام کے بعد بہت تیزی کے ساتھ ترقی کررہی ہے بظاہر چین اور انڈیا ایک دوسرے کے دشمن ہیں لیکن دونوں کا تجارتی ہدف ایک کھرب روپے تکہے انہوں نے دشمنی کو تجارت کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
بدقسمتی سے پاک اور بھارت کے تعلقات دائمی دشمنی پر محیط ہیں اس دشمنی میں انہوں نے بڑی تعداد میں ایٹمی ہتھیار بنائے ہیں پاکستان میں ایٹمی ٹیکنالوجی کو فخرو انسباط کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے حالانکہ یہ ٹیکنالوجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستان ایک سیکورٹی اسٹیٹ بن گیا ہے جبکہ دنیا میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی سیکورٹی اسٹیٹ نے فلاحی ریاست کا درجہ حاصل کرلیا ہو دوسری جنگ عظیم میں تباہ کن شکستوں سے دوچار ہونیوالے ممالک جاپان اور جرمنی چاہتے تو بڑے سیکورٹی اسٹیٹ بن سکتے تھے لیکن انہوں نے ترقی اور خوشحالی کا پر امن راستہ اختیار کیا جس کا نتیجہ دنیا کے سامنے ہے۔
اگرپاکستان اور بھارت جنگی جنوں کو ایک طرف رکھ کر دوطرفہ تجارت کو فروغ دیں تو وہ ایک دوسرے کی60فیصد ضروریات انتہائی کم خرچ میں پورا کرسکتے ہیں لوگوں کو اٹل بہاری واجپائی کی وہ بات ضرور یاد ہوگی کہ اگر آپ صبح حکم کریں تو شام کو ہم گیہوں آپ کے دروازے پر رکھ دیں گے یہ کونسی عقلمندی ہے کہ آپ آسٹریلیا اور روس سے گندم زیادہ قیمت اور زیادہ کرایہ پر منگوائیں پاکستان کی کسی ایک حکومت پر کیا موقوف ساری حکومتوں کی ایک پالیسی رہی ہے جبکہ خان صاحب کے تودستور نرالے ہیں۔
اس حکومت کے بارے میں 21گریڈ کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے کیا خوب ٹوئٹ کیا تھا کہ
پاکستان اور افغانستان کی حکومت میں ایک قدرمشترک ہے وہ یہ ہے کہ طالبان اور عمران خان حکومت میں آنے کے بعد سوچ رہے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے جبکہ دونوں کی امیدوں کا مرکز آبپارہ ہے جس افسر نے یہ ٹوئٹ کیا تھا وزیراعظم نے اس کے خلاف ایف آئی اے کو سخت کارروائی کا حکم دیا ہے نوکری تو اس کی جائیگی لیکن اعلیٰ افسر ہونے کے باوجود وہ گمنام تھے اور ایک ٹوئٹ نے انہیں ساری دنیا میں مشہور کردیا۔
مذکورہ افسر کاتبصرہ اس حوالے سے درست ہے کہ حالات اور مسائل پر حکومت کی گرفت نہیں ہے گیس کی اس لئے قلت ہے کہ وزراء اور افسران بروقت گیس کی درآمد کاآرڈر دینا بھول جاتے ہیں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود یہ بات ذہن میں نہیں رہتی کہ ڈیلروں کا کمیشن بڑھادینا چاہئے یہی وجہ ہے کہ ڈیلر ہڑتال پر گئے ہیں اور ملک میں تیل کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس حکومت نے بجلی کے کارخانوں کو چلانے میں بھی بدانتظامی سے کام لیا ہے جس وجہ سے نہ صرف بجلی مہنگی کرنا پڑرہی ہے بلکہ لوڈشیڈنگ سے بھی کام لینا پڑرہا ہے۔
کبھی گندم باہر بھیج دی جاتی ہے اور پھر مہنگے داموں درآمد کی جاتی ہے یہی عمل چینی کے ساتھ بھی کیا گیا حکومت کے منی بجٹوں کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ چینی زرداری دور کی قیمت پر ملے غرض کہ ایک بحران ختم نہیں ہوتا دوسرا جنم لیتا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے اس کے باوجود خان صاحب کو پکا یقین ہے کہ وہ موجودہ بازی ہارجانے کے باوجود 2023ء کے انتخابات ای ووٹنگ اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹوں کی بدولت جیت کر 2028ء تک تخت پر براجمان رہیں گے ان کی اس خوشی کی وجہ سے اپوزیشن کی نااہلی ہے حکومت کی طرح اپوزیشن کو بھی پتہ نہیں کہ اسے کیا کرنا چاہئے کبھی وہ تحریک لانگ مارچ اور عوامی قوت کے ذریعے حکومت کو نکال باہر کرنے کی بات کرتی ہے اور کبھی ان ہاؤس تبدیلی کا عندیہ دیتی ہے مولانا کے تابڑ توڑ اعلانات کو ن لیگ کی طرف سے پذیرائی حاصل نہیں ہورہی ہے کیونکہ یہ جماعت کافی عرصہ سے خفیہ مذاکرات میں حصہ لے رہی ہے اس کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ شریف خاندان کیخلاف مقدمات ختم کئے جائیں اور آئندہ انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کی راہ ہموار کی جائے بتایا جاتا ہے کہ ن لیگ نے اپنی خفیہ سرگرمیوں اور روابطہ کے بارے میں کبھی مولانا کو اعتماد میں نہیں لیا اس کے باوجود ہر مرتبہ مولانا دوبارہ اس کے جھانسے میں آجاتے ہیں ایسے وقت میں جبکہ مولانا لانگ مارچ اور دھرنے کی حتمی تاریخ کا اعلان کرنے والے تھے ن لیگ جل دے گئی کیونکہ اسے تحریک سے زیادہ یہ ثابت کرناعزیز ہے کہ ایک جانبدار عدلیہ نے ناانصافی سے کام لیکر میاں صاحب اور صاحبزادی کو نااہل قرار دیا یہ تحریک کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے ن لیگ کی عدلیہ کیخلاف مہم کامیاب ہو نہ ہو پی ڈی ایم کی مجوزہ تحریک ضرور شروع ہونے سے پہلے ناکام ہوگئی ہے یہ الگ بات کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگ دوبارہ مولانا کو ازسرنو تحریک چلانے پر آمادہ کرے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگئی۔
گوادر میں مولانا ہدایت الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے اس کے چار مطالبات مان لئے ہیں تاہم مطالبات پر عملدرآمد تک احتجاج جاری رہے گا
مولانا کے مطابات میں گوادر میں تین وائن شاپس کی بندش بھی شامل ہے معلوم نہیں کہ ان کی تحریک کے دوران منشیات فروشی کیخلاف مجموعی بات کی گئی ہے یا ان کا ہدف صرف وائین شاپس ہیں اگر گوادر میں دیگر منشیات یعنی ہیروئن،چرس،افیون،آئس کرسٹل اور کوکین بھی فروخت کی جارہی ہے تو مولانا کو اس پر کیوں اعتراض نہیں ہے صرف شراب کی دکانوں کیخلاف مہم چہ معنی دارو؟حالانکہ مکران کے عوام کو خطرناک منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال نے تباہ کردیا ہے ان تمام چیزوں کیخلاف تحریک چلانا ضروری ہے۔
نئی نسل کو منشیات کے استعمال کی لت میں مبتلا کرنا ایک دانستہ عمل ہے تاکہ وہ تعلیم اور محنت سے دور ہوکر ناکارہ بن جائے۔
اس سلسلے میں کراچی خاص طور پر
لیاری کی مثال سامنے ہے
جہاں تک بلوچستان کے مسئلے کا تعلق ہے تو وہ اتنا آسان نہیں کہ کسی مقامی تحریک کے ذریعے حل ہوجائے۔
یہ ایک قومی تحریک ہے جو بہت ہی پیچیدہ اور مشکل ہے اس کا حل موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے البتہ مسئلہ کی وجہ سے جو بڑا انسانی مسئلہ پیداہوگیا ہے وہ افسوسناک ہے کیونکہ اہل بلوچستان کو اس وقت ”اپارتھائڈ“ یعنی نسلی امتیاز کا سامنا ہے کئی دہائی قبل جس طرح جنوبی افریقہ کے لوگ گوری اقلیت کے بدترین مظالم کا شکار تھے اورجس طرح انہیں حقارت کی نظر سے دیکھاجاتا تھا وہی صورتحال اس وقت بلوچستان کے لوگوں کو درپیش ہے جنوبی افریقہ میں پریٹوریا اور جوہانسبرک کے حاکموں کے علاقے میں کالی آبادی کا داخلہ ممنوع تھا۔
یہ کہاں آرہے ہو اور کہاں جارہے ہو والی صورتحال انگریزوں نے اپنے دور میں رواج دی تھی بلوچستان کو بھی مفتوحہ علاقہ سمجھ کر اس کے لوگوں کی تضحیک اور توہین کرنا کالونی نظام کی یاد دلاتا ہے افسوس کہ بلوچستان کے لیڈر میرجعفر اور میرصادق کا کردار ادا کررہے ہیں چند مراعات وظیفوں اور بخشش کی خاطر اپنے لوگوں کا ساتھ دینے کی بجائے سہولت کار کا کردارادا کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں