پس دیوار

تحریر: انورساجدی
حالات چاہے کچھ بھی ہوں کپتان کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ان کے اعصاب بلا کے مضبوط ہیں اور وہ اس وقت تمام تر کمزوریوں کے باوجود چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں لاکھ کہا جائے کہ معیشت ڈوب رہی ہے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مہنگائی ناقابل برداشت ہو گئی ہے 360 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں لیکن کپتان پر ان کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ان کی خوش قسمتی ہے کہ اپوزیشن کمزور اور تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ن لیگ کے اندر کافی اختلافات ہیں شہباز شریف کی حکمت عملی اور،اورنواز شریف کی مختلف ہے پیپلز پارٹی کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ایک تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ سب آسرے میں ہیں کہ کون کس کی جگہ پر کرے گا چنانچہ اس وقت تحریک انصاف کی اپوزیشن خود یہی پارٹی ہے کیونکہ عوام اس کی ناقص کارکردگی سے عاجز آ چکے ہیں مسائل اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ انہیں حل کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے شہری مجبوری کی زندگی گزار رہے ہیں عمومی حالت یہ ہے کہ یہ ملک انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا۔
معاشرہ تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہے عدم برداشت بہت بڑھ گیا ہے رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی روایت دم توڑ چکی ہے سیاسی اور معاشرتی طورپر تقسیم انارکی کی حد تک پہنچ چکی ہے۔
ریاستی اداروں نے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے انتہاء پسندی اور بعض مذہبی گروہوں کی حوصلہ افزائی کر کے جو قوت بخشی ہے اس کی وجہ سے بذات خود ریاست کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے گزشتہ روز جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ زیرو ہو کر رہ گئی یہ سلسلہ پشاور کے طالب علم مشال خان سے شروع ہوا جی ٹی روڈ پر 10پولیس والوں کے بہیمانہ قتل اور سری لنکا کے ایک فیکٹری منیجر کو زندہ جلانے کے سانحہ تک پہنچا۔
سیالکوٹ کی انڈسٹری جو اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما کر دیتی ہے اس واقعہ سے زمین بوس ہو گئی ہے ہو سکتا ہے کہ دنیا اس واقعہ کو درگزر کر دے اگر اس نے شدید رد عمل دکھایا تو پاکستانی مصنوعات پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں کئی سال پہلے جب گورنر سلمان تاثیر کو قتل کیا گیا تھا تو ایک خلقت ممتاز قادری کی حمایت میں نکلی تھی اس کی پیشی کے موقع پر ن لیگی وکلاء بھی ان کی حمایت میں نعرے لگاتے تھے برسوں تک دیوبندی مکتبہ فکر کو ذریعہ بنانے کے بعد جب بریلوی مکتبہ فکر کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تو حکمرانوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے لیکن ٹی ایل پی کا قیام اقتدار پارلیمان اور حکمرانی پر قدامت پسندوں کا قبضہ وہ عمل ہے کہ جس کیلئے ریاستی اداروں نے نصف صدی تک بڑی محنت کی ہے تحریک طالبان ہو تحریک طالبان پاکستان ہو سابق مجاہدین ہوں لشکر طیبہ ہو جیش محمد ہو یا دیگر گروہ اداروں نے انہیں خاص مقصد کیلئے کھڑا کیا تاکہ روایتی جماعتیں اور لبرل قوتوں کا خاتمہ ہو اور وہ ان کی جگہ پر آ سکیں اسی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو ریاست کے اندر جنگ اور دہشت گردی کے حالات کا سامنا ہے انہی حالات کی وجہ سے پاکستان مسلسل سیکورٹی ریاست بننے پر مجبور ہے جبکہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ملکی وسائل کا بڑا حصہ خرچ ہو رہا ہے۔
سیاست میں دین کا استعمال اگرچہ پرانی روایت ہے لیکن عمران خان نے ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر اور ایک اتھارٹی قائم کر کے بتا دیا ہے کہ وہ مستقبل میں دیگر راستے بند ہونے کی صورت میں یہ ذریعہ ضرور استعمال کریں گے حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے ان اقدامات کی وجہ سے عدم برداشت کو مزید فروغ مل رہا ہے۔
ٹی ایل پی نے سب سے بڑی اسٹریٹ پاور شو کیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے دھرنے کے دوران ریاست نے سرنڈر کیا حتیٰ کہ جو پولیس اہلکار مارے گئے ان کا خون بھی معاف کیا گیا اگرچہ سعد رضوی کے بیان کے مطابق سیالکوٹ کے واقعہ سے ان کی جماعت کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن فیکٹری کے اندر پوسٹر اسی جماعت کے لگے ہوئے تھے جھگڑا ٹی ایل پی کے پوسٹروں کو ہٹانے سے ہوا جس کا افسوسناک نتیجہ سب کے سامنے ہے ریاست کا یہ حال ہے کہ جب علامہ سعد رضوی کو رہا کیا گیا تو تحریک انصاف کے لیڈر اعجاز چوہدری نے ان کے گھر جا کر انہیں پھول پیش کئے یہاں تک کہا کہ آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف اور ٹی ایل پی کے درمیان انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کی سرشت میں انتہاء پسندی شامل ہے بدقسمتی سے ملک کی سب سے بڑی عوامی جماعت ن لیگ بھی بنیادی طور پر اسی قبیل کی ہے ایک طرف تحریک انصاف اور ٹی ایل پی کے نظریات میں مماثلت ہے تو دوسری جانب اپوزیشن کے افکار و خیالات یا بنیادی فکر ان سے ملتی جلتی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ اس وقت جو پوسٹ انارکی کی صورتحال ہے وہ آگے جا کر مکمل انارکی میں بدل جائے یہ امکان موجود ہے کہ آئندہ انتخابات کے موقع پر سیاسی و دینی جماعتیں ایک دوسرے سے دست گریبان ہو جائیں یا ہوشر با مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگوں کا ایک حصہ خود کشی کی بجائے ڈاکے اور لوٹ مار کا راستہ اختیار کرے لیکن کپتان کو کوئی پرواہ نہیں ہے ان کے صرف دو ہدف ہیں یعنی موجودہ مدت پوری کی جائے اور آئندہ انتخابات بھی ہر قیمت پر جیتے جائیں بے شک اس کے لئے ووٹنگ کی جادوئی مشین استعمال کرنا پڑے یا ایک کروڑ اورسیز پاکستانیوں کے ووٹ حاصل کئے جائیں ان اہداف کے حصول کیلئے کپتان کسی حد تک جا سکتے ہیں اور ہر حد پار کر سکتے ہیں۔
یہ تو معلوم نہیں کہ گھمبیر معاشی صورتحال اور عوامی بے چینی کی وجہ سے منتظمین کیا فیصلہ کریں گے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ کپتان کے ہاتھ کوئی جادوئی نسخہ لگ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ سیاسی و غیر سیاسی مخالفین کو کامیابی کے ساتھ بلیک میل کر رہے ہیں اگر ان کے ہاتھ نہ روکے گئے تو ریاست کو ڈیفالٹ کرنا پڑے گا بلکہ انتشار اور انارکی کو بھی کوئی نہیں روک سکتا اور سیالکوٹ جیسے واقعات میں اضافہ ہوگا۔
کئی مبصرین کا خیال ہے کہ 2023ء کے انتخابات عام انتخابات کی طرح نہیں ہوں گے بلکہ یہ خونی انتخابات ثابت ہونگے کیونکہ لبرل جماعتوں کو آزادی کے ساتھ کھیلنے کا موقع نہیں دیا جائیگا ملکی سطح پر دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو بڑے خطرات لاحق ہونگے جیسے کہ گزشتہ انتخابات کے دوران ہوئے تھے۔
معلوم نہیں کہ ن لیگ کیا سوچ کر استعفوں اور سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہے بظاہر تو ہو سکتا ہے کہ وہ درپردہ کسی ڈیل میں مصروف ہے تاکہ آئندہ انتخابات کے موقع پر وہ اس ڈیل کا فائدہ اٹھائے حالانکہ اگر اپوزیشن دل بڑا کر کے اس وقت اسمبلیوں سے استعفیٰ دے اور دارالحکومت کی طرف مارچ شروع کر دے تو اس حکومت کا چلنا مشکل ہو جائیگا لیکن کپتان کامیابی کے ساتھ یہ خوف پھیلا رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے مہم جوئی شروع کر دی تو اس کا فائدہ تیسرا فریق اٹھائے گا حالانکہ اس خوف کی کوئی منطق نہیں ہے اس وقت کوئی اقتدار سنبھالنے کا رسک نہیں لے سکتا کیونکہ بدترین معاشی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے حکومت کے سامنے ایک واحد راستہ یہ ہے کہ وہ ریکوڈک کے بارے میں کمپنی سے اپنے خفیہ مذاکرات کو سودے بازی کی شکل دے تاکہ کمپنی کا جرمانہ بھی ادا ہو جائے اور چند ارب ڈالر ملکی اخراجات چلانے کیلئے مل جائیں یاد رکھنے کی بات ہے کہ ریکوڈک میں تانبے اور سونے کے ذخائر واحد اثاثہ ہے جسے نیلام کر کے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے حالانکہ اس کی نیلامی سراسر گھاٹے کا سودا ہے کیونکہ اس کی مالیت کہیں زیادہ ہے اب جبکہ اس سلسلے میں پیش رفت کی افواہ چل رہی ہے تو یہ نازک موقع بلوچستان کی صوبائی حکومت کیلئے سب سے بڑی آزمائش کی حیثیت رکھتا ہے ریکوڈک وہ بلا ہے کہ وہ نواب رئیسانی، ڈاکٹر مالک اور جام کمال کی حکومتوں کو نگل چکی ہے اگر آئندہ کسی حکومت کی قربانی دینی پڑے تو منتظمین کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
میں کئی دنوں سے ”گوادر کو حق دو“ تحریک کے لیڈر مولانا ہدایت الرحمان کی تقاریر سوشل میڈیا پر سن رہا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا بلا کے خطیب ہیں انہیں اپنی بات پر زور اور پراثر طریقے سے کرنا آتا ہے ان کا انداز بیان آسان اور دلنشین ہے اور ان کی ذات میں ضرور کوئی ایسا کرشمہ ہے کہ لوگ اور خاص طور پر ساحلی علاقوں کے عوام جوق در جوق ان کی باتوں پر لبیک کہہ رہے ہیں غالباً عوام کو یقین ہے کہ مولانا دیگر سیاسی قائدین سے مختلف ہیں اور وہ اپنے بنیادی مطالبات کے لئے کسی بھی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کریں گے حتیٰ کہ جان دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے اگرچہ پاکستانی میڈیا ساحلی عوام کی بڑی تحریک کو نظر انداز کر رہا ہے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا پیغام ہر جگہ پہنچ رہا ہے حتیٰ کہ بعض ”حساس قوم پرستوں“ نے بھی ان کی جماعتی وابستگی سے قطع نظر ان کی حمایت کر دی ہے مکران میں اپنی پذیرائی دیکھ کر مولانا نے اپنی علاقائی تحریک کو بلوچستان کو حق دو کا نام دے کر اس کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
آثار بتا رہے ہیں کہ مولانا جنوبی بلوچستان میں اپنی مہم مکمل کرنے کے بعد کوئٹہ کا رخ کریں گے اور یہاں پر ایک تاریخی دھرنا دیں گے گوکہ مولانا کی تحریک اس وقت بنیادی حقوق کیلئے ہے لیکن اس نے بلوچستان کی سیاست کا رخ تبدیل کر دیا ہے جو کام مولانا کر رہے ہیں وہ بلوچستان کی پارلیمانی جماعتیں بھی کر سکتی تھیں لیکن انہوں نے کوتاہی سے کام لیا جس کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوا جسے مولانا کے تعاون سے جماعت اسلامی پاکستان پر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یہ جو جماعت اسلامی کو مالاکنڈ سے چند نشستیں مل رہی ہیں یہ کسانوں کی ہشت نگر تحریک کا نتیجہ حالانکہ جماعت نے وہاں پر مزارعین کی بجائے خانوں کا ساتھ دیا تھا اگر جماعت نے بلوچستان بھر میں مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں تحریک چلائی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا احیاء بلوچستان سے کرنا چاہتی ہے جماعت اسلامی اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں میں یہ بنیادی فرق ہے کہ جماعت اسلامی پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ حکومت کو ملک گیر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ قوم پرستوں کو مارنا اور گرا دینا حکومت کیلئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے حقوق دو تحریک کے ذریعے آئندہ انتخابات میں مولانا ہدایت الرحمان اور جماعت اسلامی کو بلوچستان میں فائدہ ہو سکتا ہے عین ممکن ہے کہ اوپر کی سطح پر یہ سوچ موجود ہو کہ بلوچستان کو قومی دھارے میں لانے کا واحد طریقہ یہی ہے جس سے نام نہاد قوم پرستوں سے بھی جان چھوٹ جائے گی اور قومی سطح کی قیادت سے گفت و شنید اور معاملہ کرنے میں آسانی رہے گی سیاست میں مذہبی فیکٹر کو داخل کرنے کا اس سے خوبصورت منصوبہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں