شکریہ مولانا تیرا شکریہ
تحریر: انورساجدی
پی ڈی ایم کا خدا حافظ
ریکوڈک کا خدا حافظ
گوادر کا خدا حافظ
مولانا ہدایت الرحمان کا خدا حافظ
اہل بلوچستان کو مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے گوادر کے مسائل کو اس طرح جاگر کیا کہ ساری دنیا میں اس کی گونج سنی گئی ان کے دھرنے اور خاص طور پر ہزاروں خواتین کی ریلی نے سارے ملک کے عوام کو متوجہ کیا مولانا نے جس طرح اپنے دلنشین انداز بیان سے گوادر کے عوام کو اپنا گرویدہ اور اسیر بنا لیا یہ کریڈٹ ان کو جاتا ہے مولانا ہدایت الرحمان کا شکریہ کہ وہ بہت جلد پکڑے گئے یعنی انہوں نے چار ہفتہ سے کم عرصہ میں ”بلوچ اسپرنگ“ کو جماعت اسلامی کی جھولی میں ڈال دیا شکر گزار تو سراج الحق صاحب کا بھی ہونا چاہئے کہ انہوں نے گوادر دھرنے میں پہنچ کر مولانا کو حضرت مولانا بنا دیا اور تحریک کے سر پر اپنا دست شفقت رکھ دیا اور اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ساحلی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی امیر جماعت نے اجتماع کو یہ بھی بتایا کہ ان کے دورے کی خبر سن کر بھارتی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ میں کیوں گوادر جا رہا ہوں انہوں نے بھارت کو پاکستان کا دشمن نمبر ایک قرار دے کر اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارتی عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا انہوں نے سی پیک کا ذکر کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ سی پیک ہے کہاں سراج الحق صاحب کو سی پیک پر یقین اس لئے ہے کہ ان کے صوبہ میں کم از کم سی پیک کے موٹروے نظر آتے ہیں لیکن جہاں سے سی پیک شروع ہوتا ہے وہاں اس کا نام ونشان نہیں اور جہاں ختم ہوتا ہے وہاں بھی اس کا واحد پروجیکٹ گوادر پورٹ ہے اس پورٹ کے اندر کیا ہو رہا ہے یہ کوئی نہیں جانتا اگر یہ زیر تعمیر ہے تو یہ کتنا بڑا پورٹ ہے جو کئی سال کے بعد بھی مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا جب چین نے اسے تعمیر کیا تھا تو اس وقت یہ ایک معمولی پورٹ تھا جس کا کوئی بھی کام معیاری نہیں تھا اس لئے جب یہ چائنا کے حوالے کیا گیا تو اس کو معیار پر اتارنے کیلئے بے حد محنت کرنا پڑی بلکہ یہ محنت شاقہ ابھی تک جاری ہے اگر امریکہ کا یہ اعتراض رد کر دیا جائے کہ یہ ایک کمرشل پورٹ نہیں بلکہ بحری اڈہ ہے تو بھی اس کی تکمیل میں اتنا وقت کیوں صرف ہو رہا ہے گوادر کے حوالے سے کئی چیزیں سمجھ سے بالاتر ہیں بعض مبصرین کا یہ دعویٰ ہے کہ جس طرح چین نے سری لنکا کے پورٹ ہمٹن ٹوٹا کو قرضہ جات کے بدلے میں اپنی ملکیت میں لیا ہے گوادر کا منطقی انجام بھی اسی طرح ہو گا پورٹ کی حد تک تو بات صحیح ہے لیکن اگر گوادر کی پوری سرزمین کی ملکیت چائنا نے لے لی تو بڑی پیچیدگیاں پیدا ہونگی ہو سکتا ہے کہ ایک بار حضرت مولانا ہدایت الرحمان وہاں سے اسمبلی کی نشست جیتے لیکن آئندہ چل کر یہ ہانگ کانگ اور مکاؤکی شکل اختیار کر سکتا ہے اس صورت میں گوادر کے جو ”حسین واڈیلے“ ہیں ان کا کیا بنے گا حسین واڈیلا ایک استعارہ ہے ان سے مراد ماہی گیر آدمی وار اور حقوق کی جنگ لڑے والے مجھے خدشہ ہے کہ اگر حسین واڈیلا کی زندگی میں یہ نوبت آئے کہ انہیں بے دخل کیا جائے تو وہ جیتے جی اپنے ساحل اپنے پانیوں اپنی مچھلیوں اور اپنے لوگوں کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے جس طرح کہ سعادت حسین منٹو کے افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں لکھا ہے کہ جب ٹوبہ ٹیک سنگھ کو پتہ چلا کہ اسے انڈیا لے جایا جا رہا ہے جبکہ ان کا جنم بھومی پاکستان میں رہ گیا ہے تو نومین لینڈ پر اس نے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کو قبول کر لیا لیکن اپنی زمین چھوڑ کر نہیں گیا۔
آج کل ایک پوسٹ وائرل ہے جس میں ایک سکھ کو دکھایا گیا ہے کہ وہ گوجرانوالہ کے قریب اپنی جنم بھومی پر سجدہ ریز ہے دھاڑیں مار کر رو رہا ہے سکھوں کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں پاکستان میں واقع اپنے مقدس مقامات پر آنے کی سہولت دی گئی ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کو یہ حق نہیں دیا گیا ہے کہ وہ سرحد پار جا کر اپنے عزیز و اقارب سے مل آئیں یہ دوہرا معیار اور امتیازی پالیسی ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان کو یہ کریڈٹ بھی دینا چاہئے کہ انہوں نے حسین واڈیلا کو پکڑ کر اپنے ساتھ دھرنے پر بٹھا لیاوہ اپنی گلزمین کا دیوانہ فرزانہ شخص ہے جس طرح مجنوں لیلیٰ کا ذکر سن کر لوگوں کے ہاتھ چومتا تھا اسی طرح جو لوگ بھی بلوچ وطن کا ذکر کریں تو واڈیلا ان کے ہاتھ چومتا ہے اسے معلوم نہیں کہ آنے والے کے مقاصد اور اہداف کیا ہیں؟
حسین واڈیلا کافی تجربہ کار سیاسی کارکن ہیں پوری زندگی صرف کرنے کے بعد یہ محسوس نہ کر سکے کہ بلوچستان میں قوم پرستی رخصت ہو چکی ہے صرف سودا گری باقی رہ گئی ہے۔
تو مشقطی من گوادری
بیا کہ کناں سودا گری
حسین واڈیلا کو ضرور معلوم ہوگا کہ لیلائے وطن کا سودا ہو چکا ہے جن لوگوں نے سودا لگایا ہے ان کی حیثیت اگرچہ پورٹ کے ”حمالوں“ سے زیادہ نہیں ہے لیکن یہی لوگ اپنی خفت مٹانے کیلئے ہاتھوں میں سنگ لئے کسی پر بھی سنگ باری سے گریز نہیں کریں گے۔
اگرچہ چین موجودہ سی پیک کے بارے میں پرجوش نہیں ہے لیکن پاکستانی حکومت نے اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کیلئے بلوچستان کا بیشتر بجٹ ساؤتھ بلوچستان کے منصوبوں پر لگانے کیلئے مختص کر دیا ہے ان منصوبوں کے تحت خضدار سے تربت تک ایک سڑک بنائی جا رہی ہے تربت ایئر پورٹ کی تعمیر و توسیع کی جائے گی جب آئندہ سال بجٹ ملے گا تو کئی دیگراہم منصوبے بھی مکمل کئے جائیں گے تاکہ تربت کو ایک بڑے مرکز میں تبدیل کیا جا سکے۔
بلوچستان کو اپنا بجٹ اس لئے دینا پڑ رہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے وہ اپنے وسائل سے ان دیوہیکل منصوبوں کو مکمل کرنے سے قاصر ہے حتیٰ کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے بعد اس کے پاس اپنے ملازمین کو دینے کیلئے تنخواہوں اور پینشن کے پیسے بھی نہیں ہیں۔
اہم قومی اثاثے پہلے ہی گروی رکھے جا چکے ہیں لے دے کر ایک ریکوڈک اور کچھ ساحلی علاقے رہ گئے ہیں کہا جا رہا ہے کہ سلامتی کی خاطر یہ اثاثے بھی کام میں آئیں تو کوئی حرج نہیں ہے ریکوڈک کا فیصلہ فائنل اسٹیج پر پہنچ چکا ہے کمپنی بہادر سے جلد مذاکرات کو حتمی شکل دی جائے گی اسے وفاقی اثاثہ ڈیکلئر کرنے کیلئے بزنجو صاحب کا بس ایک دستخط درکار ہے اس کے بعد مرکز جانے اور دیکوڈک جانے اسی طرح اگر چین کا قرضہ ادا نہ کیا جا سکا تو کوئی بات نہیں گوادر سب ڈویژن اس قرضہ کی ادائیگی کیلئے کافی ہے اسی طرح اگر سعودی عرب کو ادائیگی نہ ہو سکی تو اسے پسنی اس کے بدلے میں دیا جا سکتا ہے اگر سعودی عرب کو کچھ اور درکار ہوا تو قرضہ آسانی کے ساتھ چکایا جا سکے گا۔
سنا ہے کہ متحدہ عرب امارات بھی دوبارہ دست تعاون بڑھا رہا ہے اس چھوٹے سے ملک کے حکمران زیادہ ذہین ہیں برسوں پہلے یو اے ای نے ساحل پر ہزاروں ایکڑ زمین دینے کی درخواست کی تھی تاکہ یہاں پر چارہ اگا کر اپنے ملک لے جایا جا سکے کسی زمانے میں ہنگول میں ڈیم بنا کر اس کے میٹھے پانی کو بھی لے جانے کی بات کی گئی تھی لیکن ہنگلاج ماتا کی وجہ سے یہاں پر ڈیم کا منصوبہ ترک کر دیا گیا اگر کبھی ناگزیر ضرورت پڑی تو یہ ڈیم بنایا جا سکتا ہے اگر ہندوؤں کا مقدس مقام ڈواب گیا تو کیا ہوا آخر ہم نے بابری مسجد کا بدلہ بھی لینا ہے ویسے بھی بلوچستان ہر نازک موقع پر کام آیا ہے ایوب خان نے شاہ ایران کی خوشنودی کیلئے میرجاوا کا علاقہ تحفے میں دیا تھا اس مسئلہ پر میر عبدالباقی بلوچ نے مغربی پاکستان اسمبلی میں بہت شور مچایا تھا لیکن قومی مفاد کی وجہ سے ان کی بات صدا بہ صحرا ثابت ہوئی تھی اگر سیندک عظیم دوست چین کے کام آ رہا ہے تو اس میں اعتراض کی بات کیا ہے غرض کے اگر مشکلات میں کچھ زیادہ اضافہ ہوا تو یقینا بلوچستان کے اثاثے کام آئیں گے اگر گوادر سے واڈیلے بے دخل ہو جائیں تو یہ کونسی بڑی بات ہے چین جیونی تک ساحل پر شین جن جیسے کئی شہر آباد کر سکتا ہے جو قرضوں کے بدلے میں کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔
اگر باالفرض محال چین کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن کا منصوبہ بنانے پر راضی ہوا تو اسے ساورن گارنٹی کیا دی جائیگی؟ کیونکہ یہ کم از کم 8ارب ڈالر کا منصوبہ ہے یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو سندھ کے جزائر چاہئیں ملک ریاض اور علی زیدی پہلے ہی ایک بین الاقوامی کسوریشم کے ساتھ ایم او یو سائن کر چکے ہیں اگر یہ جزائر مل جائیں تو ریلوے لائن کا خرچہ نکل سکتا ہے۔
جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے تو اس بار ن لیگ مولانا کو کھلے عام جل دے چکی ہے کیونکہ اس کے لندن اور راولپنڈی میں ”لارا لپے“ پر مشتمل مذاکرات جاری ہیں ن لیگ کو خوش فہمی ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کے بعد اس کی قیادت کو باعزت بری کر دیا جائیگا جس کے نتیجے میں شریف خاندان کا کوئی ایک فرد وزیراعظم بن جائیگا لیکن ہنوز دلی دور است یہ خوش فہمی اور خوش گمانی پی ڈی ایم کے تابوت کو دفن کرنے کے بعد ہی ختم ہو جائیگی یا کم از کم آئندہ سال اکتوبر میں ایک اور توسیع کے بعد شریف خاندان کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینک دیا جائیگا کس کو متبادل کے طور پر لایا جائیگا یہ کوئی نہیں جانتا اگر عمران خان مرضی کے فیصلے حاصل کر سکے تو بھی شریف خاندان کے اقتدار میں آنے کا چانس کم ہے البتہ مائنس ون فارمولہ کے تحت ن لیگ کو اقتدار میں کچھ حصہ ضرور دیا جائیگا کیونکہ پنجاب میں اس جماعت کی مقبولت برقرار ہے اور حکومت کی ناکامی اس میں مزید اضافہ کا موجب بنی ہے۔


