لسبیلہ یونیورسٹی اپنے گھروں پر نہیں بننے دینگے، علاقہ مکین کا احتجاج
اوتھل؛لسبیلہ یونیورسٹی کو ہزاروں ایکڑ اراضی الاٹمنٹ پروجیکٹ پر کام شروع موضع بوچیری کے علاقائی مکین سراپا احتجاج بن گئے قومی شاہراہ پر دھرنا قومی شاہراہ بلاک کوئٹہ کراچی ٹریفک معطل علاقائی مکینوں کے جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت ہمارے خدشات کو فوری طور دور کیا جائے اور اراضی کی الاٹمنٹ کو کینسل کیا جائے ہم یہاں صدیوں سے آباد ہیں اور ہماری چراگائیں ختم ہو جائیں گی بارانی پانی بند ہو جائے گا اور ہمارے سینکڑوں لوگ بے گھر ہوجائے گا اور ہماری پہل چیل محدود ہوجائے گی مظاہرین کا اظہار خیال یہاں پروجیکٹ لگنے سے علاقائی لوگوں کو فائدہ پہنچے گا علاقائی لوگوں کے خدشات کو دور کیا جائے گا لسبیلہ یونیورسٹی کے انتظامیہ کا موقف تفصیلات کیمطابق کئی سال قبل آہورہ موضع بوچیری،چک سکن میں ہزاروں ایکڑ اراضی لسبیلہ یونیورسٹی کو الاٹ کی گئی ہے اور گزشتہ روز جیسے ہی پروجیکٹ کے کام کا آغاز ہوا تو علاقائی لوگ سراپا احتجاج بن گئے اور کام کو فوری بند کرنے کیلئے قومی شاہراہ پر دھرنا دے کر قومی شاہراہ کو ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند کردیا اور کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے کوئٹہ جانے والی ٹریفک مکمل معطل ہوکررہ گئی اور قومی شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مظاہرین کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی اور شدید نعرے بازی کی گئی اور مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے کہ ہمارے خدشات کو دور کیا جائے جبکہ قومی شاہراہ بلاک ہونے کی اطلاع ملتے ہی لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر دوست محمد بلوچ،رجسٹرار احمد نواز کھوسہ احتجاجی دھرنا پہنچ گئے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ماننے کو مکمل انکاری رہے اس دوران وائس چانسلر ڈاکٹر دوست محمد بلوچ کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ کے قیام سے علاقائی لوگوں کو فائدہ پہنچے گا اور یہاں پر پہلے مرحلے میں زیتون کے پودے لگائے جائیں گے اور مقامی لوگوں کے خدشات کو دور کیا جائے گا جبکہ اس دوران مظاہرین میں ممتاز شیخ،گل خان بلوچ،عبدالمجید شیخ،زینل العابدین موندرہ،حبیب اللہ شیخ، عبدالرزاق، عبدالمجید، آصف علی،اختر علی،محمد رمضان،حبیب اللہ آچرہ،رسول بخش آچرہ،مشتاق علی،علی شیخ،فقیر محمد انور،سفر اسحاق،لکھو،نصر اللہ،محمد صدیق،غلام محمد،افضل،محمد رمضان،شیر علی،غلام قادر،رضا محمد،علی محمد غلام مصطفی شیخ،احمد،حکیم،رحیم ودیگر کا کہنا تھا کہ ہزاروں ایکڑ اراضی الاٹمنٹ کی گئی جو فوری طور پر منسوخ کیا جائے ہم یہاں سے صدیوں سے رہائش پذیر ہیں اور اگر حکومت کو اراضی الاٹ کرنی ہے تو سب سے پہلے حق ہمارا ہے اور اس اراضی پر پروجیکٹ کی وجہ سے ہماری چراگائیں ختم ہو جائیں گی ہم مال مویشی والے لوگ ہیں اور اب ہمارا مال مویشی کہاں جائے گا انہوں نے کہا کہ پہاڑوں سے آنیوالا بارانی پانی بھی بند ہوجائے گا جس کی وجہ سے ہماری مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور ہمارے سینکڑو ں لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور پہل چیل بھی محدود ہوکررہ جائیگی انہوں نے کہا کہ ہمارے خدشات کو فوری طور پر دور کیا جائے ورنہ ہم احتجاج کا دائرہ وسیع کردینگے اور اپنے حق کیلئے معزز عدالت بھی جائیں گے۔


