وندر، کوسٹ گارڈ کے ناروا رویہ سے تنگ آکر مالک نے کوچ کو آگ لگا دی

وندر:وندر ناکہ کھارڑی کوسٹ گارڈ چیک پوسٹ کے اہلکاروں کے رویہ سے تنگ آکر کوئٹہ سے کراچی چلنے والی کوچز کے مالکان نے کوئٹہ کراچی شاہراہ احتجاج کرتے ہوئے بلاک کردیا مین شاہراہ بند ہونے کے باعث ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اوتھل سول ہسپتال کی ایمبولینس اور پشین سے ٹریفک کے حادثے میں زخمی ہونے والے زخمی کو کراچی لیکر جانے والی ایمبولینس کو بھی راستہ نہیں دیا گیا المحمود کوچ سروس کے مالک نے اپنی کوچ کو مین شاہراہ پر کوسٹ گارڈ کے چیک پوسٹ کے سامنے آگ لگا دی شاہراہ کے بلاک ہونے کی وجہ سے دونوں اطراف میں سیکڑوں مسافر اور ٹرانسپورٹ بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ ایس ایس پی لسبیلہ پولیس سے مذاکرات کے کرنے بعد ٹرانسپورٹروں نے 6 گھنٹوں کے بعد مین ایکو شاہراہ سے اپنی گاڑیاں ہٹاکر شاہراہ کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے بحال کردیا تفصیلات کے مطابق اتوار کے صبح سات بجے کے قریب کوئٹہ سے کراچی چلنے والی کوچز کے مالکان نے ناکہ کھارڑی کوسٹ گارڈ کے چیک پوسٹ کے سامنے اور سونمیانی بیچ کے علاقے لک بدوک پر اپنی کوچوں کے ٹائر نکال کر کوئٹہ کراچی شاہراہ کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے بند کردیا جبکہ المحمود کوچ سروس کے مالک حاجی داد محمد اچکزئی نے اپنی کوچ کو ناکہ کھارڑی کوسٹ گارڈ چیک پوسٹ کے سامنے کھڑی کرکے کوچ کو خود ہی آگ لگا دی جبکہ میونسپل کمیٹی وندر کی فائر بریگیڈ کی گاڑی آگ بجھانے کیلئے آنے والے عملے کو بھی کوچ کو لگائی گئی آگ کو بجھانے کی اجازت نہیں دی گئی مین ایکو شاہراہ بلاک ہونے کی وجہ سے سونمیانی بیچ آرمی رینج لک بدوک سے لیکر ناکہ کھارڑی کوسٹ گارڈ چیک پوسٹ تک اور کوسٹ گارڈ چیک پوسٹ سے وندر کی جانب بیخبر ہوٹل تک شاہراہ کے دونوں اطراف میں سیکڑوں کی تعداد میں چھوٹی بڑی مسافر گاڑیاں اور ٹرانسپورٹ بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں احتجاج کی وجہ سے پریشان حال مسافر خواتین اور بچوں کو پیدل اپنی منزل مقصود کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا احتجاج میں شامل کوچز کو اس طرح سے کھڑا کیا گیا تھا ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں اور ٹریفک کے حادثے میں زخمی ہونے والے زخمیوں کو لیکر جانے والی ایمبولینس کو بھی گزرنے کیلئے راستہ نہیں مل رہا تھا احتجاج کے دوران لسبیلہ کے ہیڈ کوارٹر سول ہسپتال اوتھل سے گردوں کے مرض میں مبتلا مرض اور پشین کے علاقے میں ٹریفک کے حادثے میں زخمی ہونے والے زخمی کو کراچی لے جانے والی ایمبولینس کو بھی گزرنے کیلئے راستہ نہیں دیا گیا احتجاج میں شامل المحمود کوچ سروس کے مالک نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کوسٹ گارڈ کی ظلم و زیادتیوں سے تنگ آکر ہم نے اس سے قبل متعدد بار اپنی مسافر کوچوں کو احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ کراچی شاہراہ کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے بند کیا اور پھر مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرتے ہوئے شاہراہ سے اپنی گاڑیاں ہٹاکر ٹریفک کیلئے شاہراہ کو بحال کرتے رہے ہیں مگر آج تک کوسٹ گارڈ کی جانب سے ہونے والی مذاکرات میں طے شدہ معاہدوں پر عملدرآمد نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ کوسٹ گارڈ ناکہ کھارڑی کے عملے سے ہم بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز اس قدر نالاں ہیں کہ آج مجھے احتجاج کرتے ہوئے اپنی ایک کوچ کو خود آگ لگانے پر مجبور ہونا پڑا انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا حکام بالا اور وزیراعلی بلوچستان سے یہ پرزور مطالبہ ہے کہ ناکہ کھارڑی میں قائم کییگئے کوسٹ گارڈ کے اس غیر قانونی چیک پوسٹ کو ختم کیا جائے یا پھر ہماری کوچوں کو چیک پوسٹ سے ڈائریکٹ گزر جانے کی اجازت دی جائے چمن پشین کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے آنے والی مسافر کوچوں کو کوسٹ گارڈ کا عملہ کہی کہی گھنٹوں تک چیکنگ کے نام پر پریشان کیا جاتا ہے چیک پوسٹ پر مسافروں اور کوچوں کے عملے سے اس طرح کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جیسے کہ ہمارا تعلق ملت خداداد پاکستان سے نہیں بلکہ ہم کسی دوسرے پڑوسی ملک سے آئے ہیں اگر ہماری کوچوں سے ممنوعہ اشیا برامد کی جاتیں ہیں تو ان کی ہمیں رسیدیں دی جائیں اور ہم پر پاکستان کسٹم کے قوانین کے مطابق مقدمات درج کرکے ہمیں اور ہماری کوچوں سے برامد کی گئی اشیا کو ملک کے اعلی عدلتوں کے سامنے پیش کیا جائے مگر کوسٹ گارڈ کا عملہ نہ ہمیں تحویل میں لی گئی اشیا کی رسیدیں دیتے ہیں اور نہ ہی ہماری تحویل میں لی گئی اشیا کو اعلی عدالتوں میں پیش کرتے ہیں بلکہ مبینہ طور پر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہماری کوچوں سے اتاری گئی اشیا کو فروخت کرتے ہیں ہم وزیراعلی بلوچستان اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کوسٹ گارڈ کی جانب سے ہمارے ساتھ کی جانے والی ظلم و زیادتیوں کا ازالہ کرنے کیلئے سختی سے نوٹس لیا جائے آٹھ گھنٹوں کے احتجاج میں شامل المحمود کوچ سروس کے مالک حاجی داد محمد اچکزئی کے ساتھ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ افتخار احمد بگٹی ایس ایس پی لسبیلہ پولیس محمد ایوب اچکزئی اور کوسٹ گارڈ ناکہ کھارڑی کے انچارج نے مزاکرات کرتے ہوئے ان کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کو حل کرنے کیلئے دو دنوں کا وقت دینے کی درخواست کی اور ان کے مطالبات اعلی حکام تک پہنچانے کی یقین دہانی اور ڈپٹی کمشنر ایس ایس پی لسبیلہ پولیس کی جانب سے ذمداری اٹھانے کی یقین دہانی کرانے اور کوسٹ گارڈ کی جانب سے تحویل میں لی گئی کوچ کو چھوڑنے کے بعد مین ایکو شاہراہ سے اپنی کوچیں اور روکاٹیں ہٹاکر مین ایکو شاہراہ کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے کھول دیا اس موقع پر ڈی ایس پی وندر سرکل منورعلی شیخ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر عضمت اللہ شاہ تحصیلدار وندر محمد اعظم باجوئی ایس ایچ او پولیس تھانہ وندر سب انسپکٹر محمد جان ساسولی انچارج سی آئی اے عبدالقادر شیخ نائب تحصیلدار وندر عبدالغفور موندرہ بھی اس موقع پر موجود تھے بعد ازاں میونسپل کمیٹی وندر کے فائر بریگیڈ کے عملے نے جلائی گئی کوچ میں لگی ہوئی آگ کو بجھایا اور شاہراہ کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے بحال کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں