بلوچستان اسمبلی سے پاس ہونے والے لیبر قوانین کے رولز پر مشاورت کی جائے، خان زمان

کوئٹہ: بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان چیئر مین حاجی بشیر احمد سیکرٹری جنرل قاسم خان چیئر مین نور الدین بگٹی سینئر نائب صدر حاجی عبدالعزیز شاہوانی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل عبدالمعروف آزاد،دین محمد محمد حسنی سیف اللہ ترین عابد بٹ عارف نچاری ملک وحید کاسی محمد عمر جتک ظفر خان رندحاجی غلام دستگیر فضل محمدحبیب اللہ لانگو، عبدالحمید چراغ اور دیگر صوبائی عہدیداروں نے کہا ہے کہ لیبر قوانین کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی سے پاس ہونیوالے حالیہ ایکٹ 2021 جن میں چائلڈ لیبرایکٹ، شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ مسوہ، جبری مشقت کا قانون، انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ رولز 2021 اور دیگر لیبر قوانین کو اسمبلی سے پاس ہونے سے پہلے لیبر کے نمائندوں سے اسکی تفصیلات رائے حاصل نہیں کی گئی ان لیبر قوانین کے رولز بنا نے سے پہلے ان قوانین کے جو پوائنٹس صنعت اور محنت کشوں کے حوالے سے نقصان دے ہیں اس کو دوبارہ ترامیم کے لئے بھیجا جائے تاکہ بلوچستان میں یہ قوانین دیگر صوبوں کے قوانین سے مزید بہتر بنائے جا سکیں،مزدور رہنماؤں نے کہا کہ متعدد فورمز پر مزدوروں کی ڈیتھ کمپن سیشن کے حوالے سے تفصیلی بحث و مباحثہ ہوا مگر حیرت کی بات کہ پورے ملک میں مزدوروں کی ڈیتھ کمپن سیشن 5 لاکھ روپے ہے جب کہ بلوچستان میں ابھی تک 2 لاکھ روپے دی جا رہی ہے جس سے بلوچستان کے کانکنوں و صنعتی مزدوروں کے حقیقی ورثاء تاحال محروم ہیں رہنماؤں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حب اور سوات میں ڈیتھ گرانٹ کی چیک لواحقین کے اکاؤنٹ کی میں بھجوانے کی بجائے براہ راست تقسیم کئے گئے جس پرمزدور تنظیمیں اپنے تحفظات رکھتی ہیں اور ایسے خلاف قوانین اقدامات کیخلاف ہر فورم پرآواز اٹھائی جائے گی انہوں نے کہا کہ ڈی جی لیبر کو دو محکموں کا چارج دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں محکمہ لیبر میں قوانین کی تیاری میں بہتر پیشرفت کے حوالے سندھ پنجاب اور کے پی کے سے بہت پیچھے ہے تین صوبے اپنے صبعتی اور پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین و مزدوروں کیلئے بہتر قوانین بنا چکے ہیں بلوچستان میں ٹریڈیونین پر پابندی اور بلوچستان میں دوروان ڈیوٹی فوت ہونیوالے ملازمین کے حقیقی ورثاء کی بھرتی کا عمل رکا ہواہے جس سے بلوچستان کے محنت کشوں و ملازمین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے فیڈریشن کے صدر خان زمان نے کہا کہ بلو چستان میں بی ٹویٹا محکمے کا کسی کو علم نہیں یہ ادارہ بری مالیت کے فنڈز کہاں اورکس مد میں خرچ کررہا ہے کیونکہ بلوچستان میں مزدوروں و ملازمین اور ورکرز کی سہولیات اور انکے بچوں کی تعلیم و تربیت اور نہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے کو ئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے،بلوچستان لیبر فیڈریشن گورنرنر بلوچستان وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی توجہ محکمہ لیبر بلوچستان کی طر ف مبزول کراتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی کاموں و اقدامات کو فوری منسوخ کیا جائے اور تمام تر صورتحال کا جائزہ لے کر غیرجانب دار کمیٹی تشکیل دی جائے جو بلوچستان کے بڑے محکمہ لیبر کی طرف خصوصی توجہ دی جائے تاکہ بلوچستان کی حقیقی مزدور فیڈریشنوں کے تحفظات دور ہوسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں