حکومت کی جانب سے عوام کو نئے سال نا تحفہ مہنگائی کی صورت میں دیا گیا ہے، رحیم آغا

کوئٹہ:انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) کے صدر رحیم آغا،عمران ترین،حاجی نصرالدین کاکڑ، حاجی یعقوب شاہ کاکڑ، میر رحیم بنگلزئی، حیدر آغا، محمد حسین، محمد جان آغا درویش، ولی افغان، حاجی ظہور کاکڑ، خان کاکڑ، نعمت ترین،امردین آغا، بسم اللہ ترین، حاجی شفیع آغا، حاجی قیوم خلجی، امردین آغا،حاجی، حاجی حسن خلجی، منظور ترین، فیض محمد داوی، محمد طاہر جدون، غنی آغا اور دیگر عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئے دن عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہیں اور غریب طبقہ تو پہلے سے ہی نان شبینہ کا محتاج تھے اب تو ہر کوئی مہنگائی کی ضد میں آگیا ہے اور ہمارے تاجر بھی مہنگائی کی چھکی میں پھسے جارہے ہیں اور آئے روز آئی ایم ایف کی فرمائش پر نئے ٹیکسز پر تاجروں اور عوام کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہیں اور کہا ہے کہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسی اور کرپشن و نااہلی کی وجہ سے ملک آئی ایم ایف کا محتاج ہوکر رہ گیا ہے اور آئی ایم ایف کو خوش کرنے کیلئے عوام پر منی بجٹ کا بوجھ ڈال رہی ہیں بیان میں اسٹیٹ بنک کو عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک کو عالمی مالیاتی ادارے کے حوالے کرکے ثابت کردیا کہ وہ آئی ایم ایف کی غلامی کررہے ہیں اور کہا ہیں کہ منی بجٹ میں نئے ٹیکسز کی بھرمار سے منہگائی کا نیا طوفان آئے گا جو منہگائی سے ستائے عوام پر کسی عذاب سے کم نہ ہوگا بیان میں آیف بی آر کا پوائنٹ آف سیل نصب کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تاجروں کو بھی نوٹسز جاری کئے گئے ہیں جن پر سیل ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا اور عوام کو بلیک میل کرنے کیلئے لاکھوں روپے کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں جوکہ تاجروں کو لوٹنے کے مترادف ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں