چور چوری کی نیت سے آیا ہے مگر ہم مستعد ہیں، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر ورکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے ریکوڈک کے مجوزہ معاہدے کو یکسرمسترد کرتے ہوئے اعلان کیاہے کہ چور چوری کرنے آیا ہے لیکن ہم انہیں چوری نہیں کرنے دینگے، حالیہ مجوزہ معاہدہ پہلے والے معاہدے سے زیادہ بلوچستان کے لوگوں کیلئے خطرناک ہے سیاسی دکانداری چمکانے والے لوگ ہوتے تو ان کیمرہ بریفنگ میں شرکت نہیں کرتے نے ہم حکومت کو سنا اب حقائق عوام کے سامنے رکھیں جو ہمارا عین فرض تھا،نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو اسی بنیاد پر ختم کی گئی کہ انہوں نے ریکوڈک منصوبے کے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ملک کو مقروض بنانے والوں کے پاس بلوچستان کے ذخائر کے سوا کچھ بھی نہیں موجودہ حکومت پیمنٹی اور موالی ہے ہم انہیں بلوچستان کے ذخائر اور معدنیات بیچنے کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے جمعیت علماء اسلام کاایک ایک کارکن صوبے کے حقوق کا تحفظ کریگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ،مولوی سرور موسیٰ خیل،رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولاناعبدالواسع نے کہاکہ جمعیت بلوچستان کا تین روزہ مجلس عاملہ اجلاس ہوا جس میں ریکوڈک سمیت دیگر مسائل زیر غور آئے،جمعیت نے ریکوڈک،صوبے کے حقوق کے حوالے سے تاریخی موقف اپنایاہے جمعیت نے سب سے پہلے مطالبہ کیاتھاکہ بلوچستان کو رقبے کی بنیاد پر فنڈز کی فراہمی ہونی چاہیے 1988ء میں جمعیت واحد جماعت تھی جس نے قومی اسمبلی میں یہ مطالبہ رکھااور پھر یہ وقت بھی آیا کہ جمعیت کے حکومت میں وفاق سے این ایف سی حاصل کی گئی اور 20فیصد اس موقف پر کامیابی ملی آج بلوچستان کو 6سو ارب روپے کا جو فنڈز ملا ہے یہ جمعیت کے کاوشوں کا نتیجہ ہے انہوں نے کہاکہ ریکوڈک کے مسئلے پر جمعیت نے ہمیشہ اسمبلی میں اجاگر کیا ٹھیتیان کے ساتھ معاہدے کو جمعیت نے اسمبلی کے اندر مسترد کیاتھا اس وقت اختیارات مرکز کے پاس تھے 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات ملی تو باقی معاملات طے ہوگئی تھی لیکن مائننگ لائسنس سے متعلق اس وقت کی حکومت کو اس بات پر مجبور کیاگیا کہ ہم مائننگ لائسنس نہیں دینگے انہوں نے کہاکہ اس وقت نواب اسلم رئیسانی کے ساتھ ہمارے حکومت کو اس بنیاد پر ختم کیاگیاکہ انہوں نے ریکوڈک معاہدے پر دستخط نہیں کئے مختلف حربے استعمال کئے گئے کروڑوں ڈالروں کے آفرز آئے لیکن جمعیت نے بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ان آفرز کو مسترد کردیاجب ہم عوام سے ووٹ مانگتے تھے تو دو باتیں رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام اور بلوچستان کے عوام کا تحفظ جس کی بنیاد پر عوام ہمیں ووٹ دیتی تھی۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کو ریکوڈک معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی سزا کے طور پر ختم کیاگیا لیکن ہم اپنے موقف پر کھڑے رہے اور بلوچستان کے عوام کا تحفظ کرتے رہے،2013اور 2018ء جمعیت علماء اسلام کامینڈیٹ چوری کیاگیا 18ویں ترمیم کچھ قوتوں کیلئے ناقابل برداشت تھی انہوں نے کہاکہ ہم نے 18ویں ترمیم اور ریکوڈک کا مقدمہ لڑا،جمعیت کے مقابلے میں ان لوگوں کو بھی قبول کیا جو ان کیلئے ناقابل قبول تھے۔انہوں نے کہاکہ جب بھی بلوچستان میں کوئی بحران آتا ہے اس سے پہلے تبدیلی آتی ہے جام کمال کی حکومت اس بنیاد پر ختم نہیں کیاتھاکہ کوئی بلوچستان کے معدنیات کا سودا کرے بلکہ جام کمال کا رویہ انتہائی نامناسب اور غیر جمہوری تھا جس کی بنیاد پر جمعیت علماء اسلام اور سیاسی جماعتوں نے جام کی حکومت ختم کردی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی حکومت بنی اورلیکن جمعیت اور دیگر جماعتیں اس کا حصہ نہیں بنی نئے لوگ نسبتاََ جمہوری ہونگے اور ہمیں اپنے جمہوری حقوق ملیں گے لیکن نئی حکومت کے آتے ہی ریکوڈک کا معاملہ زیر بحث آیا جمعیت علماء اسلام خاموش نہیں رہے گی اپوزیشن لیڈر نے تمام جماعتوں کو اکھٹا کیا اورواضح موقف رکھاکہ بلوچستان میں تبدیلی کے حالات سے کسی کو فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے ہم نے سب معاملہ سب کے سامنے رکھا جس کے بعد ہمارے ساتھیوں نے اسمبلی میں بھرپور انداز میں اس معاملہ کو اجاگر کیا انہوں نے کہاکہ جب ہم نے آواز اٹھائی تو پھر حکمرانوں نے یہ سوچا کہ اب معاملہ چھپ کر نہیں ہوسکتی اس لئے ان کیمرہ اجلاس رکھا جس میں جمعیت سے اپوزیشن لیڈر اور میر یونس عزیز زہری کو دعوت دی ان کیمرہ اجلاس کا مقصد تھاکہ معاملات عوام کے سامنے نہ آئیں اپوزیشن نے ان کیمرہ اجلاس میں شرکت کی اور ہاؤس کے اندر اپوزیشن نے بریفنگ کو مسترد کیا اور ان کے تمام سازشوں اور غلط ارادوں کی نشاندہی بھی کی۔ان کیمرہ اجلاس کے بعد جمعیت نے محسوس کیاکہ بلوچستان کے عوام کو کچھ نہیں پتہ بلوچستان کے حوالے سے جو خطرناک ارادے ہیں اس بارے عوام کو باخبر رکھیں اور مجلس عاملہ کااجلاس طلب کیا، انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام ان کیمرہ اجلاس، ارادے اور بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے جیسے سازشوں کو مسترد کرتے ہیں جمعیت اس معاہدے کو مسترد کرتی ہے جمعیت روز اول سے صوبوں اور مرکز کے حکومتوں کو سلیکٹڈ سمجھتی ہے اورسلیکٹڈ حکومتیں ایسے بڑے فیصلے نہیں کرسکتی حالات جیسے بھی ہوں جب تک عوام کے منتخب کردہ حکومت نہ آئیں اس وقت سب کو معلوم ہے کہ ملک کی کیا حالت ہے معیشت کا بیڑہ غرق ائیرپورٹ،موٹرویز،اثاثے گروی ہے صرف پارلیمنٹ لیکن وہ بھی پتہ نہیں شاید وہ بھی گروی رکھاگیاہے وزیراعظم کاایک بیان آیا کہ ہم ریکوڈک کو پاکستان کے قرضے ادا کرنے کیلئے ریکوڈک ہے اور بیچ سکتے ہیں بیان کے بعد یہ عمل کا شروع ہونا کسی سازش سے کم نہیں ہے پہلے بلوچستان کے لوگوں سے گیس چھین لیا،سی پیک معاہدہ ہوگیا پاکستان کے تمام سیاسی قیادت کے سامنے طے ہوا کہ پہلا مغربی روٹ بنے گا 65ارب ڈالر خرچ ہوگئے لیکن مغربی روٹ پر ایک اینٹ بھی نہیں رکھاایشین بینک کے تحت اب جاری منصوبے وہی ہیں قرضوں کے تحت بننے والے روڈوں کو سی پیک کانام دیاجارہاہے بلوچستان کی سرزمین پر سی پیک کاایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہواہے تمام قیادت کے سامنے جو بات طے ہوئی لیکن پھر بھی بلوچستان کا ساتھ ایسا ہو تو پھر ان کیمرہ اجلاس جس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں اور نہ ہی دستاویزات ہے پھر کوئی کہے کہ ہم نے اتنی کامیابی حاصل کی تو جمعیت علماء اسلام اس کو یکسر مستردکرتی ہے بلوچستان کے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے،انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی روشنی میں قرضوں کی ادائیگی کیلئے ریکوڈک کو قربان کرینگے،ملک کو مقروض بنانے والوں کے پاس بلوچستان کے ذخائر کے سوا کچھ بھی نہیں موجودہ حکومت پیمنٹی اور موالی ہے ہم انہیں بلوچستان کے ذخائر اور معدنیات بیچنے کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے جمعیت کاایک ایک کارکن بلوچستان کا تحفظ کرینگے۔انہوں نے کہاکہ حمایت نہیں کی تو بس ہوگیا لیکن ہم واضح کرتے ہیں کہ ایسے کسی اقدام کی اجازت نہیں دی جائیگی بلوچستان کے حقوق،وسائل اور ذخائر کے آخر تک دفاع کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ جمعیت سیاسی دکانداری نہیں چمکاناچاہتی اگر ہم دکانداری چمکاناچاہتے تو پھر بریفنگ میں شرکت نہیں کرتے کل کو یہ کہتے کہ انہوں نے ہماری بات نہیں سنی حالیہ مجوزہ معاہدہ پہلے والے معاہدے سے زیادہ بلوچستان کے لوگوں کیلئے خطرناک ہے ہم نے تمام حقائق عوام کے سامنے رکھیں اور نعرہ لگائیں کہ چور آیا ہے چوری کررہاہے لیکن ہم اس چور کو نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہاکہ اسمبلی سے استعفوں سے کیا مسئلہ حل ہوسکتاہے جمعیت علماء اسلام پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور آواز بلند کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں