بلوچستان وفاقی حصہ ہونے کے باوجود ریکوڈک منصوبہ کی ثمرات سے محروم ہے، سردار اختر مینگل

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ بین الاقوامی عدالت میں ریکوڈک کیس کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے وکلاء کی کمزور ٹیم کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا گیا بلوچستان اگر وفاق کا حصہ ہے تو پھر صوبے کو ریکوڈک میں 50فیصد شیئر دیاجائے بین الاقوامی عدالت کی جانب سے جرمانے کی ادائیگی وفاقی حکومت سردرد ہے ہمارا نہیں،موجودہ حکومت رن وے پر کھڑے جہاز کی مانند ہے ٹیک اف کے بعد سمت کا تعین ممکن ہے اگر کچھ ڈیلیور کیا تو ہی ہم اور عوام مطمئن ہونگے،نوازشریف کی وطن واپسی سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے بلوچستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق کچھ نہیں کہاجاسکتا کچھ عنصر ولوگ ہیں جو ہوا کی رخ کی طرف اپنی سیاست کو لے جاتے ہیں البتہ چند ایک کے جانے سے بلوچستان کے مجموعی سیاست پر اثرات مرتب نہیں ہونگے،باپ پارٹی رہے گی یا نہیں یہ بنانے والی پر منحصر ہیں اگر جوانی یا بڑھاپے کی ذمہ داری لی تو چل پائے گی ورنہ پہلے بھی لوگ یتیم ہوئے ہیں ان کے بھی یتیم ہونے کے امکانات ہیں۔جمہوریت میں تحریک عدم اعتماد نشیب وفراز ہی آتے ہیں جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئینی واسمبلی رولز کے مطابق البتہ جام کمال کی طرف سے مطلوب واشتہاری ملزمان کو فنڈز کی فراہمی اور ارکان پر بکتربند گاڑیاں چڑھانا غیر آئینی وغیرقانونی ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ ریکوڈک کا مسئلہ آج کا نہیں یہ 2003ء سے چلا آرہاہے جب ان کمپنیوں کو لائسنس جاری کی گئی،مختلف وقتوں میں مختلف کمپنیاں آئیں اور ہر کمپنی نے مختلف معاہدے صوبائی حکومت کے ساتھ کئے جس میں وفاق بھی شامل تھا جس کے بعد یہ مسئلہ سپریم کورٹ گیا جہاں سپریم کورٹ نے کمپنی کوجاری لائسنس منسوخ کیا جس کے بعد وہ کمپنیاں بین الاقوامی عدالت چلی گئی میں سمجھتاہوں کہ بین الاقوامی عدالت میں ہماری کیس لڑنیو الی ٹیم مضبوط نہیں تھی اگر ٹیم مضبوط ہوتی اور ہوم ورک کے ساتھ اچھے وکلاء ہائیر کرتے تو بات بنتی بین الاقوامی عدالت میں ان وکلاء جو مقامی عدالتوں میں کیس نہیں لڑسکتے وہ بین الاقوامی عدالت میں وکلاء کا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہیں اس کمزوری کی وجہ سے ایک فیصلہ آیا کہ اگر جرمانہ جمع ہوں تو مسئلہ حل ہوسکتاہوں،انہوں نے کہاکہ ان کیمرہ بریفنگ سے افراد مطمئن نہیں ہوتے بلکہ سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں اور فیصلہ سیاسی جماعتوں کی ہوتی ہے تاہم فیڈ بیک ارکان اسمبلی کی جانب سے ملاہے پارٹی نے جو بھی فیصلہ کیا میں بحیثیت چیئرمین پابند ہوں،بریفنگ میں صرف سوالات اٹھائے جاتے ہیں یہ فیصلہ نہیں ہوتا سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ 2003ء میں حکومت بلوچستان کا بی ایچ وی کمپنی کے ساتھ معاہدے کے مطابق صوبے کا حصہ 25فیصد سرمایہ کاری کے ساتھ رکھاگیاتھاشنید میں آیاکہ جام کمال کی حکومت میں 10فیصد بغیر سرمایہ کاری کے رکھاگیاہے اب جو آفر آئی تھی بریفنگ میں جو بتایاگیاہے 10فیصد بغیر سرمایہ کاری،25فیصد سرمایہ کاری کے ساتھ وہ جرمانہ جو لگایاگیاہے اس کا25فیصد صوبائی حکومت دے گی توپھر بلوچستان حکومت کو25فیصد ملے گا،سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ جب ارکان اسمبلی نے سوالات پوچھے تو پھر بتایاگیاکہ 25فیصد بغیر سرمایہ کاری دی جائیگی جو حکومتی موقف ہے لیکن ہم اس پرمطمئن نہیں ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اگرریکوڈک کے مالک بلوچستان کے لوگ ہیں تو پھر شیئرز50فیصد بغیر سرمایہ کاہوناچاہیے جرمانہ وفاق دیتی ہے یا کسی کمپنی سے دلواتی ہے تو یہ وفاق کا سردرد ہے ہمارا نہیں اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں جہاں وفاق نے ڈیمجز کلیئر کئے ہیں،اگر وفاق بلوچستان کو اپنا حصہ سمجھتی ہے تو اس جرمانے کو ادا کرے اور بلوچستان کو 50فیصد حصہ دیں۔انہوں نے کہاکہ راستے میں کوئی پتھر اور بولڈر پڑا ہوتاہے آپ سمجھ لیں کہ ہم نے راستے سے وہ پتھر ہٹا دیاہے البتہ دوسرا پتھر خود لوڑکتا ہوا آرہاہے ہم نے نہیں رکھا جام کمال میرا بھتیجا اور آغا موسیٰ جان کا بانجھا ہے وہ جس انداز میں حکومت چلا رہا تھا ہمارے اس کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں بلکہ ذاتی رشتے ہیں جام کمال سے ان کے اپنے ناراض تھے گھر کو ہمیشہ اس کی چراغ سے آگ لگی ہے جام کمال نے جس انداز میں اپوزیشن کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا اسمبلی کے سامنے کیمرے موجود تھے ارکان پر بکتربند گاڑیاں چڑھائی گئی خواتین اور مرد ارکان کو زخمی کیا گیا تحریک عدم اعتماد پر کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ یہ غیر قانونی تھا یا اسمبلی رولز کے خلاف تھا اس نے جب غیر قانونی وغیر آئینی کام کرتے ہوئے منتخب نمائندوں کی بجائے غیرمنتخب لوگوں جواشتہاری اورمطلوب ملزمان میں فنڈز دینے جیسے اقدامات غیر آئینی ہوسکتے ہیں ہم نے جو اقدام اٹھایا وہ آئینی تھا،جمہوریت میں یہ نشیب وفراز آتے رہتے ہیں ہم پر منحصر ہیں کہ ہم عوام کے سامنے کس طرح پیش کرینگے جام کمال کے جانے سے نہ صرف ہم نے سکھ کاسانس لیا دل میں تو آپ بھی خوش ہونگے۔میں یہ نہیں کہتا کہ میرعبدالقدوس بزنجو شہد ودودھ کی نہریں نکال لیں گے لیکن کم از کم ان لوگوں جن کو عوام نے منتخب کیا ہے حلقہ انتخاب کی عوام کو حق ملے گا،اپوزیشن کے تمام ارکان منتخب کردہ ہے میں واضح کرتاہوں کہ جو پارٹی سلیکٹ ہوکر بنی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ کتنے الیکٹڈ اور کتنے سلیکٹڈ ہیں۔انہوں نے کہاکہ مطمئن ہم تب ہونگے جب کچھ ڈیلیور کرپائے موجودہ حکومت تو رن وے پر ٹیکسی ہے کبھی آگے تو کبھی جہاز اس کا پیچھے ہوتاہے جب ٹیک اف کرے گا توپھر کہاجاسکتاہے کہ جہاز کس سمت میں جارہاہے انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کے طے کئے گئے نکات میں الیکشن میں اتحاد کا کوئی ذکر نہیں ہے ممکن ہے حالات کی وجہ سے پی ڈی ایم کے تمام نہیں البتہ کچھ جماعتیں علاقائی یا صوبائی سطح پر اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرسکتی ہے،انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف کی واپسی سے متعلق کہنا قبل از وقت ہے البتہ دونوں طرف سے افواہیں چل رہی ہے کوئی کہتاہے کہ میاں صاحب آرہے ہیں کوئی کہتا کہ نہیں آرہے اس سے متعلق مسلم لیگ(ن) والے بہترجواب دے سکتے ہیں،بلوچستان میں سیاسی ہوا سے متعلق کچھ نہیں کہاجاسکتا کچھ عنصر ولوگ ہیں جو ہوا کی رخ کی طرف اپنی سیاست کو لے جاتے ہیں چند ایک لوگوں کے جانے سے بلوچستان کے مجموعی سیاست پر اثرات مرتب ہونگے،دیکھتے ہیں کہ باپ بنانے والوں کا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہے اگر وہ ان کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ جوانی یا بڑھاپے تک ساتھ دیں گے تو چلیں گے یا چھوڑدیا توبہت سے پہلے یتیم ہوگئے ان کے بھی یتیم ہونے کے امکانات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں