حکومت کی خراب کارکردگی کےباعث آئی ایم ایف نےسخت شرائط عائدکیں،احسن اقبال

اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی خراب کارکردگی سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو سخت شرائط عائد کرنے کا موقع ملا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے بتایا کہ نارروال اسپورٹس سٹی کے جھوٹے مقدمے میں پیشی کیلئے حاضر ہوا تو پتہ چلا کہ احتساب کے نظام کی بتی گُل ہے اور جنریٹر بھی نہیں ہے۔

انھوں نے طنزیہ کہا کہ وزیراعظم نے کل کہا تھا کہ پاکستان خوشحالی کی طرف جا رہا ہے، بلاشبہ وزیراعظم خود خوشحالی کی طرف جا رہے ہیں، جب سے وہ وزیراعظم بنے ہیں، ان کے اِنکم ٹیکس میں اضافہ ہونے لگا۔احسن اقبال نے کہا کہ بلاشبہ کرونا پوری دنیا میں بلا کی صورت میں سامنے آیا تاہم پاکستان کو کوویڈ 19 کے ساتھ کوویڈ 18 کا بھی سامنے ہے، بھارت اور بنگلہ دیش میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ لیکن پاکستان میں ڈبل ہے اور پاکستان میں ہر روز مس گورننس کا نیا نمونہ پیش ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سانحہ مری بھی مس گورننس کا نتیجہ ہے، وہاں لوگ مرتے رہے اور یہ پی ٹی آئی تنظیم سازی کی گپیں مارتی رہی۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ حکومت اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کی مالیاتی خودمختاری کا سودا کررہی ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا قانون قومی اسمبلی سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس اقدام کے بعد پاکستان آئی ایم ایف کی غلام ریاست بن جائےگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ قائداعظم نے اسٹیٹ بنک کومالیاتی خود مختاری کی علامت قراردیا تھا اور ہمیں انگریز وائسرائے سے آزادی مل گئی تھی تاہم اب آئی ایم ایف کا وائسرائے کراچی میں بٹھا دیا جائے گا۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کی خراب کارکردگی سے آئی ایم ایف کو سخت شرائط عائد کرنے کا موقع ملا،اس اقدام سے بیرونی سرمایہ کار اب پاکستان سے مزید پیچھے ہٹ جائیں گے کیوں کہ ایسا ملک جہاں روز ڈیوٹیاں بدلتی ہوں وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ حکومت کی حلیف جماعتوں ایم کیوایم ، ق لیگ اور جے ڈی اے ملک کیلئے سوچیں،اگر ان اتحادی جماعتوں نے حکومت کا ان معاملات پر ساتھ دیا تو ان کا نام میرجعفر و صادق کے ساتھ لکھا جائےگا۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم حکومت کے خلاف اس قانون پر احتجاج کریں گے تاہم اسمبلی میں ہمارا احتجاج حکومت کی حلیف جماعتوں کے بغیر موثر نہیں ہوسکتا اور پی ٹی آئی کے کارکنوں سے بھی مطالبہ ہے کہ اسے روکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں