ملک عبدالعلی کاکڑ بلوچ پشتون اتحاد کے عظیم علمبردار تھے تعزیتی ریفرنس

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں بزرگ سیاستدان رہبر ملک عبدالعلی کاکڑ کی 12ویں برسی کی مناسبت سے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا ریفرنس کی صدارت مرحوم کی تصویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سابق سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی و مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ تھے تعزیتی ریفرنس میں ایک منٹ کھڑے ہو کر خاموشی اختیار کی گئی تعزیتی ریفرنس سے مرکزی سیکرٹری جنرل سابق سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایم این اے آغا حسن بلوچ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ، اے این پی صاحب جان کاکڑ، بی ایس او کے چیئرمین جہانگیر منظور بلوچ، غلام نبی مری، منورہ سلطانہ، پی ٹی ایم کے زبیر شاہ نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر علی احمد قمبرانی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جبکہ ستار شکاری نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی اس موقع پر مرکزی کمیٹی کے ممبران ایم پی اے اختر حسین لانگو، ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار، ایم پی اے احمد نواز بلوچ، ایم پی اے ثناء بلوچ اے این پی کے سردار رشید ناصر، پارٹی کے مرکزی رہنماء جاوید بلوچ، ملک مجید کاکڑ، ثانیہ حسن کشانی، شمائلہ اسماعیل، ملک محی الدین لہڑی، طاہر شاہوانی، پرنس رزاق بلوچ، نسیم جاوید ہزارہ، میر اسماعیل کرد، مصطفی سمالانی ، عطاء اللہ کاکڑ، جہانزیب کاکڑ سمیت دیگر نے شرکت کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے ملک عبدالعلی کاکڑ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ بلوچ پشتون اتحاد کے علمبردار نظریاتی فکری استاد کی حیثیت رکھتے تھے انہوں نے ہمیشہ بلوچستان میں ترقی پسند، روشن خیال سیاست کو فروغ دیا تنگ نظری، تعصب کے سیاست کی حوصلہ شکنی کی وہ تحریک آزادی میں پائے کے عظیم سیاستدان تھے تاریخ ہمیشہ ان کو یاد رکھے گی ایسے انسان صدیوں میں جنم لیتے ہیں جو اپنے لئے نہیں قوم، سرزمین، زبان، ثقافت، تاریخ کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت کمر بستہ رہتے ہیں ملک صاحب نے آمر دور میں جن مصائب کا سامنا کیا ٹارچر سیل، قیدوبند کی صعوبتیں کاٹیں پابند سلاسل ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری ان کے جذبے ہمیشہ بیدار رہے ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے قومی تحریکیں مضبوط ہوتی ہیں ان کی جدوجہد مشعل راہ ہے جو اپنے لئے نہیں بلکہ بلوچ پشتون اور دنیا کے محکوم اقوام کے حقوق کے حصول کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی رہنماؤں میں سے تھے پارٹی کی سیاست مظالم، محکوم اقوام کو اتحاد و اتفاق کی جانب گامزن کرنی کی ہے مرحوم آج ہم میں نہیں لیکن ان کے خیالات و افکار اور مثبت سوچ کی پیروی کر رہے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی نے کوئٹہ سمیت بلوچستان میں تمام محکوم اقوام بلوچ، پشتون، ہزارہ، پنجابی سمیت دیگر اقوام کو یکجا کر کے اس بات کا باور کرایا کہ ہم بلوچستانی ہیں ہمارے مفادات یکساں ہیں کوئٹہ میں تعصب کی بیخ کنی کی اسی وجہ سے آج بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان کی سب سے بڑی قومی جمہوری سیاسی قوت ہے جسے تمام اقوام کی حمایت حاصل ہے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل و دیگر اکابرین کی قیادت میں بلوچستان میں محرومیوں، ناانصافیوں، محکومیوں کی حوالے سے جدوجہد کر رہے ہیں ساحل وسائل سرزمین کی بقاء و سلامتی اور معاشرے سے ناانصافیوں کے خاتمے اور استحصالانہ پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کو اپنا اشعار سمجھتے ہیں بلوچستان تمام طبقہ فکر کی حقیقی نمائندگی کرتے ہوئے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں بزرگ ملک عبدالعلی کاکڑ راہشون سردار عطاء اللہ خان مینگل، فخر افغان باچا خان، نواب خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو، نواب اکبر بگٹی،عبدالصمد خان اچکزئی، بابو شیرو مری جیسی شخصیات کے ہمنوا رہے ان اکابرین نے برصغیر میں جاری تحریکوں میں جو قربانیاں دیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی مظالم اور ناانصافیوں سے محکوم تحریکوں کو ختم کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی استحصالانہ پالیسیوں کے ذریعے اکیسویں صدی میں قوموں کو مزید پسماندہ رکھا جا سکتا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کی قیادت نے عوام کی حقیقی نمائندگی کی ہر پلیٹ فارم پر حکمرانوں کو کہتے ہیں کہ عوام پسماندہ، بدحال، غربت و افلاس ، کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری کی وجہ سے لوگ مزید معاشی بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں بلوچستان میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں زراعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم نہیں کئے جا رہے لوگ بدحال اور ذہنی کوفت کا سامنا کر رہے ہیں فوری طور پر بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور مہنگائی میں کمی لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر ملک عبدالعلی کاکڑ کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش اور کہا کہ تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا انہوں نے محکوم اقوام کو یکجا کر کے بلوچستان میں ترقی پسند سوچ کو پروان چڑھایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں