سابق پوپ بینیڈکٹ بچوں کی جنسی استحصالی کے معاملے میں شامل تفتیش

میونخ /برلن :جرمن بچوں سے جنسی استحصال کے معاملے میں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا (سابق پوپ) بینیڈکٹ کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق جرمنی کے کیتھولک مسیحی گرجا گھروں میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال سے متعلق رپورٹ جاری کی جارہی ہے جس میں مبینہ طور پر سابق پوپ بینیڈکٹ چہادھم کے بارے میں دھماکا خیز انکشافات بھی شامل ہیں۔جرمنی کی ایک قانونی فرم ویسٹ فاہل اسپلکر ویسل (ڈبلیو ایس ڈبلیو) اپنی رپورٹ میں اس بات کا تجزیہ پیش کرے گی کہ 1945 سے 2019 کے درمیان میونخ اور فریزنگ کے کیتھولک مسیحی آرچڈیوسز میں بچوں سے زیادتی اور دیگر جنسی استحصال کے واقعات سے کیسے نمٹا گیا۔کیتھولک مسیحیوں کے سابق پوپ بینیڈکٹ چہادھم (جن کا اصلی نام جوزف ریٹزنگر ہے) 1977 سے 1982 کے درمیان میونخ کے آرچ بشپ رہ چکے ہیں۔اسی دورانیے میں پیٹر ہولرمین نامی ایک پادری کو جرمنی کے علاقے ایسن سے میونخ بھیجا گیا تھا، جہاں اس پر 11 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام لگایا گیا تھا۔پیٹر ہولرمین نامی یہ پادری بچوں کے جنسی استحصال کے کئی واقعات میں ملوث پایا گیا تھا۔ہولر مین کو جرمن عدالت نے سزا بھی سنائی تھی لیکن اس کے باوجود اسے پادری کا مذہبی منصب سونپا گیا تھا۔اس سارے معاملے پر بینیڈکٹ چہاردھم نے کہا تھا کہ وہ ہولر مین کے مجرمانہ ماضی سے لاعلم تھے۔سابق پوپ بینڈیکٹ نے ڈبلیو ایس ڈبلیو کو اس معاملے پر بھجوائے گئے سوالات پر 82 صفحات پر مشتمل وضاحتی بیان دیا ہے۔سابق پوپ بینیڈکٹ کے ترجمان جارج گوئنسون نے کہا ہے کہ سابق پوپ جنسی استحصال کا شکار بچوں کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتے ہیں اور رپورٹ کے شائع ہونے کے حامی ہیں۔94 سالہ بینیڈکٹ چہاردھم نے 2013 میں اپنے منصب سے علیحدہ ہوگئے تھے، وہ 600 سال میں واحد پوپ تھے جنہوں نے اپنا منصب چھوڑا۔اصلاح پسند کیتھولک گروپ ”ویر سند کرچے ”(ہم چرچ ہیں) نے سابق پوپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میونخ کے آرچ بشپ کی حیثیت سے اپنے دور میں ہونے والے مکروہ افعال کی ذمہ داری قبول کریں۔ویر سند کرچے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جوزف رٹنزگر (بینیڈکٹ چہاردھم) کی طرف سے کیا جانے والا اعتراف بہت سے دوسرے بشپ اور ذمہ دار افراد کے لیے ایک مثال ہو گا۔جرمنی ہی کے کیتھولک بشپس کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 1946 سے 2014 کے درمیان ایک ہزار 670 پادریوں نے 3 ہزار 677 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی اصل تعداد رپورٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔2021 میں شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ نے جرمنی میں پادریوں کی جانب سے بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے کئی واقعات کو بے نقاب کیا گیا۔گزشتہ برس میونخ اور فریزنگ کے موجودہ آرچ بشپ کارڈینل رین ہارڈ مارکس نے بچوں کے جنسی استحصال کے اسکینڈلز سے نمٹنے میں چرچ کی انتظامی ناکامی پر پوپ فرانسس کو استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی۔پوپ فرانسس نے رین ہارڈ مارکس کی پیشکش کو مسترد کر تے ہوئے انہیں ہدایت دی تھی کہ وہ کیتھولک چرچ میں رہتے ہوئے اس میں اصلاحات لانے کی کوششوں میں مدد کریں۔کیتھولک چرچ کی جانب سے بدسلوکی کا شکار ہونے والوں کو زر تلافی کے طور پر 50,000 یورو دیئے جارہے ہیں لیکن اس رقم کو بھی ان کے ساتھ پیش آنے والے سانحات کے قمابلے میں ناکافی قرار دیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں