اقتدار میں آنے کے بعد طالبان حکام پہلے دورہ پر یورپ پہنچ گئے
اوسلو:نارو ے کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مطلب طالبان حکومت کو تسلیم کرنا نہیں، افغان حکام سے بات کرنی چاہیے، سیاسی صورتِ حال کو بدتر انسانی تباہی کی طرف لے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تفصیلات کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد طالبان حکام پہلے دورہ پر یورپ پہنچ گئے ہیں،مغربی رہنماوں سے افغان طالبان کی ملاقات 3 روزہ مذاکرات میں انسانی امداد کے ایجنڈے کا مرکز ہو گی۔ افغان حکام نارویجیئن حکام کے ساتھ امریکا، یورپی یونین اور دیگر ملکوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، طالبان وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کر رہے ہیں۔نارویجیئن وزیرِ خارجہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مذاکرات کا مطلب طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے حکام سے بات کرنی چاہیے، سیاسی صورتِ حال کو بدتر انسانی تباہی کی طرف لے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار کے مطابق طالبان حکام کے ساتھ مذاکرات میں تمام طبقوں کی نمائندگی والے سیاسی نظام کی تشکیل، انسانی و اقتصادی بحران، سیکیورٹی و انسدادِ دہشت گردی کے خدشات، لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم سمیت انسانی حقوق جیسے معاملات پر بات ہو گی۔ دنیا میں ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔


