قرض پروگرام بحال کرتے ہی آئی ایم ایف کا پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ
اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)نے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کردیا۔آئی ایم ایف کے مطالبات میں ریونیو میں اضافہ، جاری اخراجات میں کمی، سخت مانیٹری پالیسی، مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ، توانائی شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں میں بہتری شامل ہیں، علاوہ ازیں آئی ایم ایف نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان جلد مکمل کرنے پر زور دیا ہے، کیوں کہ فیٹف ایکشن پلان پر عمل درآمد میں تاخیر بیرونی فنڈنگ، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے، اسی طرح ہاسنگ اور تعمیراتی شعبے میں منی لانڈرنگ ٹیرر فنانسنگ کی مانیٹرنگ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جب کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو نئے ٹیکس لگانے، بجلی اور گیس ٹیرف بڑھانے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔آئی ایم ایف کی جاری کردہ کنٹری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے نئے بجٹ میں ٹیکس ریونیو میں 1155 ارب روپے اضافے کا پلان سامنے آیا اور سالانہ ٹیکس ہدف 6100 ارب روپے سے بڑھا کر 7255 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ 2023-2024 تک جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد ہو جائے گی، اس سال معاشی ترقی 4 فیصد اور اگلے سال ساڑھے چار فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ پرسنل انکم ٹیکس ترمیمی بل کے ذریعے ٹیکس کریڈٹ اور الانسز میں کمی کی جائے، ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 529 ارب، سیلز ٹیکس کی مد میں 518 ارب روپے اضافی وصولی کا پلان ہے جب کہ 50 ارب کی ایکسائز، 58 ارب کی اضافی کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جائے گی، اگلے سال پیٹرولیم لیوی 50 ارب اضافے سے 406 ارب اکٹھا کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔دستاویز سے معلوم ہوا ہے کہ اس مالی سال بجٹ خسارہ 844 ارب اضافے سے 3761 ارب تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے، اگلے مالی سال بجٹ خسارہ کم ہو کر 2771 ارب پر آجائے گا، اگلے سال مجموعی ترقیاتی بجٹ 61 ارب کمی سے 1810 ارب رکھنے کی تجویز ہے، دفاعی بجٹ 186 ارب اضافے سے 1586 ارب ہونے کا امکان ہے، پاکستان کو اس مالی سال 30 ارب 41 کروڑ ڈالر، اگلے مالی سال 35 ارب ڈالر کی فنانسنگ درکار ہے اور اگلے سال قرضوں پر سود کی مد میں 450 ارب اضافے سے 3523 ارب خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔


