صارفین کو بلوں میں مذکورہ چارجز بھیجنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس جناب جسٹس عبداللہ بلوچ نے سوئی سدرن گیس کی جانب سے صارفین کو گیس بلوں میں پی یو جی/سلو میٹر چارجز،آردرچارجز(other charges)بھیجے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ صارفین کو بلوں میں مذکورہ چارجز بھیجنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اس بابت وضاحت کے لیے جنرل منیجر ایس ایس جی سی 17فروری کواگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔یہ حکم عدالت کے جج نے گزشتہ روز سنئیر قانون دان سید نذیر آغا ایڈووکیٹ،سلطانہ ثروت ایڈووکیٹ،فرزانہ خلجی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔ سماعت کے دوران رخسانہ کاکڑ ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئی۔سماعت کے دوران درخواست گزاران نے موقف اختیار کیا کہ گیس کمپنی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس جناب جسٹس عبدالحمید بلوچ کی جانب سے 23 دسمبر 2021ء کو پی یو جی/ سلو میٹرچارجز کے خلاف دئیے جانے والے فیصلے کی خلاف ورزی کر رہی ہے اب بھی صارفین کو گیس بلوں میں ناصرف پی یو جی/سلو میٹر چارجز بھیجے جارہے ہیں بلکہ بعض کوآدر چارجز(other charges)بھی بھیجے گئے ہیں جو صارفین کی حق تلفی کے مترادف ہے جس پر جسٹس عبداللہ بلوچ نے ریمارکس دئیے کہ ان کے بل میں بھی اسی نوعیت کے چارجز بھیجے گئے ہیں جو عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہیں، بنچ کے جج نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر مدنی صدیقی کو 17 فروری کو وضاحت کے لیے طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ وہ آکر اس سلسلے میں وضاحت دیں اور بتائے کہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کیوں کی جا رہی ہے،گیس کمپنی فوری طور پر بلوں سے پی یو جی /سلو میٹرچارجز اور آدر چارجز ختم کریں۔سماعت کے دوران سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے بنچ کو بتایا کہ کراچی میں صارفین کو ماہانہ ڈھائی سو روپے تک بل بھیجے جارہے ہیں جبکہ یہاں صارفین کو بھاری بھر کم بل بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے،انہوں نے اخباری تراشے پیش کئے اور بتایا کہ پرنٹ میڈیا کے رپورٹس کے مطابق اب تک گیس حادثات کے باعث 17 افراد جان بحق جبکہ 91 افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں زخمی ہو گئے ہیں عدالت کے جج نے ریمارکس دئیے کہ عدالتی فیصلے کے باوجود کیونکر صارفین سے غیر قانونی چارجز وصول کئے جا رہے ہیں۔بعد ازاں آئینی درخواست کی سماعت 17فروری تک ملتوی کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں