یونیورسٹی آف تربت کے زیر اہتمام بلوچی شاعر و ادیب عطا شاد کی برسی کے موقع پر سیمینار

کوئٹہ:انسٹی ٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر، یونیورسٹی آف تربت کے زیر اہتمام بلوچی زبان کے نامور شاعر و ادیب عطا شاد کی 24ویں برسی کے موقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں آئی بی ایل سی کے علاوہ یونیورسٹی آف تربت کے طلبا و طالبات اور اساتذہ کرام سمیت مختلف مکاتب فکر نے شرکت کی۔یونیورسٹی آف تربت کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس، سوشل سائنسز اورآئی بی ایل سی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ نے خطا ب کرتے ہوئے کہا جدید بلوچی شاعری میں عطا شاد کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے، وہ شاعری میں جدت کے باوجود وہ اپنی مٹی سے جڑے ہوئے ہیں اور انکی تخلیقات میں کہیں بھی اجبنیت کا تصور سامنے نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ مستقبل میں انکی شاعری اجتماعی تخلیقی شعور کی قیادت کرے گی۔ زبان و ثقافت کے فروغ کے لئے مختلف سمینار اور کانفرنسز کے انعقادمیں تعاون کرنے پر انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرجان محمدکاشکریہ اداکیا۔ عطا شاد کی شاعری اور بلوچی تنقید ی مختلف جہات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر غفور شاد نے کہاکہ عطا شاد کی شاعری کاتنقیدی جائزہ اصولوں کے مطابق لینا چاہیے تا کہ ہم ان کی تخلیقی شخصیت کے ساتھ انصاف کرسکیں۔ گرلز ڈگری کالج تربت کے لیکچرار شمسل الہی نے ’عطا شاد کی شعری زبان و بیان پر اپنا مقالہ پیش کرکے ان کی اسلوب کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا عطا شاد کی شاعری کو سمجھنے کے لیے ان کے شعری زبان کا مطالعہ اہم وسیلہ ہے۔ بلوچی زبان کے نوجوان ترجمہ نگار اورعطا شاد ڈگری کالج تربت میں شعبہ اردوکے اْستاد فضل بلوچ نے ’عطا شاد کی شعری موضوعات پر اپنے مکالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری فکری تناظر میں عالمگیر تخلیق ہیں۔ بلوچی زبان کے نامور شاعر اور بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کے سابق چیئرمین ممتاز یوسف نے عطا شاد کی شعری اسلوب پر اپنا نقطہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عطا شاد اپنی منفرد اسلوب کی وجہ سے جدید بلوچی شاعری میں جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔عطاشاد کی فن و شخصیت پرپری ناز شوکت نے اپنا مضمون پڑھا جبکہ بی ایس ہفتم کے طالب علم عمران حاصل نے عطاشاد کی شاعری میں مزاحمت پر اظہار خیال کیا۔ جبکہ حاتم عدنان اور ساجد قادر نے عطاشاد کے اشعار ترنم کے ساتھ پیش کیے اور سامعین سے داد وصول کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا،جس کی سعادت بی ایس ہفتم کے طالبہ حمیرہ بلوچ نے حاصل کی۔ پروگرام کی نظامت کیفرائض آئی بی ایل سی کے طالب علم زہیر ممتاز نے سرانجام دئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں