سیندک پروجیکٹ میں مزید توسیع وفاق کی حماقت اور آئین پاکستان کی بے حر متی ہے ،پی پی پی
کوئٹہ : پاکستان پیپلز پارٹی رخشان ڈویژن کے صدر نعیم بلوچ نے کہا ہے کہ سیندک پروجیکٹ میں مزید توسیع وفاق کی حماقت اور آئین پاکستان کی بے حر متی ہے ،حکمرانوں کی بچگانہ خواہشیں قومی یکجہتی کو تھوڑنے کا سبب بن رہی ہیں ،صوبوں کی خود مختیاری اور اٹھارویں ترمیم پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے ،اٹھارویں ترمیم ملک کو بچانے اور قوم کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کا عظیم تحفہ ہے ،بلوچستان کے نالائق گونگے بہرے حکمران صوبے کے وسائل کو بےدردی سے لوٹنے کا سبب بنے ہوئے ہیں جو پالیسی ریکوڈک کے لئے اختیار کیا جائے وہی سیندک پروجیکٹ پر لاگو ہوگا سیندک کے مقامی ملازمین پہلے ہی کمپنی کے ظلم وجبر کا شکار ہیں ،ہمارے حکمران کیک بیکس کے لئے صوبے کے وسائل اونے پونے داموں میں نیلام کر رہے ہیں ،سیندک پر مقامی بااثر شخصیات اپنے ذاتی مفاد کے لئے پورے صوبے کے مفاد کو قربان کر رہے ہیں ،سیندک پر چیئرمین سینٹ کی خاموشی افسوسناک عمل ہے ،بلوچستان کے مسائل اور ہونے والے غیر آئینی اقدامات پر ان کا خاموش رہنا بلوچستان کے عوام کے ساتھ دھوکہ اور جرم سے کم نہیں ،حکمران آئین شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں قدوس بزنجو صوبے کی نمائندگی کرنے کے اہل نہیں رہے انکی چیخ وپکار کرسی حاصل کرنے کے لئے تھی بلوچستان کو نالائق حکمرانوں نے لاوارث سمجھ رکھاہے، بلوچستان کی پسماندگی ان حکمرانوں کی وجہ سے ہے پاکستان پیپلز پارٹی مظلوم اقوام کی جدوجہد کا نام ہے ہماری سیاست کا محور غریب عوام ہے ،اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہم نے صوبوں کو ان کے ساحل اور وسائل پر بااختیار بنایا این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے محصولات میں صوبوں کو جائز حصہ دیا ،پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان حکومت پر قابض کالی بھیڑیوں کو بے نقاب کر کے پسماندگی کا سبب بننے والے حکمرانوں کاراستہ روکے گی، بلوچستان پاکستان پیپلز پارٹی کا قلعہ بن چکا ہے آنے والی الیکشن میں چیئرمین بلاول بھٹو ملک کے وزیر اعظم چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ جیالے ہی ہونگے ،عوامی لانگ مارچ پاکستان کی سیاست میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا ہم مہنگائی بےروزگاری مکمل جمہوریت کی بحالی اور آئین پاکستان کی بازیابی کے جنگ لڑ رہے ہیں ،پاکستان پیپلز پارٹی کی پچپن سالہ تاریخ جدوجہد اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔


