صوبائی حکومت کے تعلیم ترقی کے دعوے صرف بیانات تک محدود ہیں، بی ایس او پجار
چاغی: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار دالبندین زون کے پریس ریلیز میں کیاگیاہے کہ نوکنڈی خان محمدعمرخان سنجرانی انٹرکالج میں گذشتہ چار سالوں سے پرنسپل اورلیکچررزکی پوسٹوں پرتعیناتیاں ہونے کے باوجود کلاسزشروع نہ کرنا ایک المیہ سے کم نہیں دوسری جانب چھ سالوں سے کالج بلڈنگ کی تعمیر بھی تاحال مکمل نہ ہونا ٹھیکیدار کی نااہلی ثابت کرتی ہے بیان میں کہاگیا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے تعلیمی ترقی کے دعوے صرف بیانات تک محدود ہے عملی طور پر ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہا جس کی واضح مثال نوکنڈی کالج ہے جہاں چھ سالوں میں بلڈنگ بھی تیار نہیں ہوئی اورغیرمعیاری تعمیرات کا بھی کسی ادارے نے نوٹس لیاگیاہے چارسالوں سے اس کالج میں تعینات کئے گئے پرنسپل اورلیکچررز گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور محکمہ تعلیم انھیں مفت میں تنخواہیں دے رہی ہے کالج کے سالانہ فنڈز بھی سرکار کی جانب سے منظور ہوچکے ہیں مگر نوکنڈی کے غریب طلباوطالبات تعلیم حاصل نہیں کرپارہے موجودہ انقلابی دور کے تقاضوں کامقابلہ کرنے کے لئے ریکودک اورسیندک کے وارث بچے اوربچیوں کو کوئی تعلیمی مواقع نہ دینا ظلم وناانصافی کے مترادف ہے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار دالبندین مطالبہ کرتی ہے کہ خان محمدعمرخان سنجرانی کالج نوکنڈی کے بلڈنگ میں کئے گئے غیرمعیاری کام کانوٹس لیکرفوری طور پر اسے مکمل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور اس کالج میں تعنیات لیکچررزکوپابندکرکے عارضی طور پر کلاسز گورنمنٹ بوائزہائیرسیکنڈری سکول نوکنڈی میں شروع کئے جائیں۔


