حسب عادت امریکہ یوکرین کی مدد کو نہیں آیا

یو کرین کے صدر نے اپنے خطاب میں شکایت کی ہے کہ امریکہ سمیت کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آیا، انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ نے یوکرین کے ساتھ کوئی انوکھا برتاؤ نہیں کیا، یہ امریکہ کی پرانی عادت ہے،اسے اپنے مفادات عزیز ہیں،وہ کسی ملک کے حکمرانوں کی جھوٹے دلاسے دے کر ہمسایہ ملک سے لڑنے کی ترغیب دلاتا ہے،جیساکہ ایران سے لڑنے کے لئے پہلے عراق کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا کہ اس کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔پھر خلیج فارس کو خلیج عرب کہہ کر عراق سے ایران پر حملہ کرا دیا۔عراق آٹھ سال تک ایران کے خلاف لڑتا رہا، ایران کی انقلابی حکومت کو شکست نہیں دے سکا۔بعد میں تمام راز مٹانے کے لئے عراق کو ہی تہس نہس کردیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ کمزور ملک کے سوا کسی ملک پربراہ راست حملہ نہیں کرتا۔اپنی لڑائی فرنٹ مین کے ذریعے لڑتا ہے۔چین سے جنگ کے لئے بھارت کو تیار کیا گیا تھا، اس منصوبے کو چین نے پیش قدمی کی حکمت عملی سے ناکام بنا دیا۔بھارت لداخ کھو بیٹھا۔روس سے لڑانے کے لئے امریکی پالیسی سازوں نے یوکرین کو اس خطے کا ”عراق“ بنانے کی کوشش کی،لیکن روس نے انہیں اس پالیسی پر عمل کرنے کی مہلت نہیں دی۔دو روس نواز علاقوں کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے خطے کی جغرافیائی صورت تبدیل کر دی اور امریکی تھنک ٹینکس ابھی اس اقدام کے سیاق و سباق کو سمجھنے میں مصروف تھے کہ روس نے یوکرین پر حملہ کر دیااور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ جو اس کے راستے میں آیا اس کا حشر ایسا ہوگا جو دنیا نے اس سے پہلے نہیں دیکھا ہوگا۔چین نے بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کوخبردار کردیا کہ یوکرین میں مداخلت مہنگی پڑے گی۔یوکرین میں روس نے جو کچھ کیا ہے اسے ایک داخلی اور انتظامی اقدام سمجھا جائے۔امریکہ سمجھدار ملک ہے۔اسے روسی دھمکی اور چین کی وضاحت کا مفہوم معلوم ہے۔جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج یوکرین نہیں بھیجی جائیں گی۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بھی فوجی مداخلت سے دور رہنے میں عافیت سمجھی۔جرمنی کا کہنا ہے کہ جنگ سر پر ہے مگر ان کی کوئی تیاری نہیں۔ شیر کی نفسیات اور گیدڑ کے مزاج میں یکسانیت نہیں تلاش کی جا سکتی۔شیر اپنا شکار خود اپنی طاقت اور ہنر مندی سے کرتا ہے۔گیدڑ شئیر کاپس خوردہ کھاتا ہے۔عراق ایران کو زیر کرلیتا تو امریکہ چوہدری ہونے کااعلان کرنے میں دیر نہ لگاتا۔یوکرین دوسروں کے جھانسے میں آگیا اور روس نے بھانپ لیا کہ امریکہ کا اتحادی نیٹو بھی ایک نئے میدان کی تلاش میں ہے۔ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوز فروخت کرنے کا بہانہ کارگر نہیں ہوا۔بلکہ اس کی اپنی ایٹمی آبدوز ”حادثاتی“ پر چین کے قریب سمندر میں غرق ہو گئی اور جدید لڑاکا طیارہ بھی پراسرار انداز سے گہرے سمندر کی تہہ میں پہنچ گیا۔ ایسے انہونے واقعات اور پے در پے رونماہونے والے اتفاقات کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی فوج یوکرین میں نہ اتارنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔دنیا جانتی ہے کہ نیٹو افواج امریکی اقتداء میں پہنچتی ہیں اور انخلاء پہلے کرتی ہیں۔ یوکرینی صدر کو بھی ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی اسی مشورے پر عمل کیا تھا۔امریکی اگر ویت نام اور افغانستان کو 20سال جنگ کے بعد بھی فتح نہ کرسکے تو انہوں ”انخلاء“ کو ہی فتح قرار دے کر امریکی عوام کو مطمئن کیا ہے۔تاریخ کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے مسلسل کوشش کرتے رہے کہ یوکرین جن پتوں پر تکیہ کر رہا ہے وہی پتے اس کے جلتے ہوئے آشیانے کو ہوا دیتے نظر آئیں گے۔جس خاندان کا سربراہ نادانی کا مظاہرہ کرتا ہے وہ خاندان مشکل میں پڑ جاتا ہے اورجس ملک کا سربراہ غلط فیصلے کرتا ہے وہ بھی یوکرین جیسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے۔امریکہ یو این او کی سلامتی کونسل کے اجلاس بلاتا رہے گا،اور سلامتی کونسل اس وقت تک مذمتی قرار دادیں منظور کرتی رہے گی جب تک یوکرینی عوام میں مقابلے کی سکت ہوگئی۔ یوکرینی صدررندھی ہوئی آواز اور ڈبڈبائی آنکھیں اپنی داستان غم سنانے کے لئے کافی ہیں۔ لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ رونے دھونے سے کسی طاقت ور ملک یا ادارے سے اپنے مطالبات نہیں منوائے جا سکتے۔کمزور کو طاقت ور سے ہمیشہ ڈکٹیشن لینی پڑتی ہے۔پاکستان کی معیشت ابتر ہے، آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن لے رہا ہے۔جب تک پاکستان کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوتی اس وقت تک پاکستان ڈکٹیشن لیتا رہے گا۔میدان جنگ میں جنگی آلات کام آتے ہیں۔ ایٹمی قوت کے حامل ملک سے عسکری ٹکرلینے کے لئے صرف معیشت اور رقبہ کام نہیں آتے، ایٹمی اور عسکری قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ بیلسٹک اور کروز میزائل بھی ضروری ہیں۔ صرف رقبے کے لحاظ سے بڑا ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اپنے سے بڑے ملک کو دوسروں کے بہکائے میں آکرللکارنا شروع کر دیا جائے۔اب غلطی ہو چکی ہے،یہ پنسل سے لکھا ہوا کوئی لفظ نہیں کہ آسانی سے مٹا کر متبادل لکھ لیا جائے۔روسی صدر پیوٹن کہتے ہیں:”یوکرین مغربی ممالک کی ”کٹھ پتلی“ہے۔یہ خطہ کبھی بھی ایک ریاست نہیں رہا۔سابق سوویت ریاست ہونے کے ناطے یوکرین کے روس سے گہرے ثقافتی اور سماجی روابط ہیں اور وہاں روسی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ 2014میں یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب وہاں کے روس نواز صدر کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا تھا۔مشرقی یوکرین میں اس وقت سے جاری تنازعے میں اب تک 14ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔لوہانسک اور ڈونٹسک کی ”جمہوریہ“روس نواز ہی چلارت ہیں۔روسی صدر کی جانب سے انہیں آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کئے جانے کے بعد پہلی مرتبہ اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ان علاقوں میں روسی فوجی دستے تعینات ہیں اور وہاں فوجی اڈے قائم کر سکتے ہیں۔منسک معاہدے کے تحت ان دونوں ولاقوں کو یوکرین میں ایک خصوصی درجہ حاصل ہوناتھا لیکن صدر پیوٹن کے اقدام نے اس پر عملدرآمد ناممکن بنا دیا ہے۔اس تاریخی پسمنظر سے یہ حقیقت دنیا کو تسلیم کرنی پڑے گی کہ روس کی طلب کردہ ضمانت ہی اس تنازعہ کا واحد حل ہے۔روسی صدر چاہتے ہیں کہ مغربی ممالک اور یوکرین یہ ضمانت دے کہ یوکرین دفاعی اتحاد ”نیٹو“ کا حصہ نہیں بنے گااور ایک غیر جانبدار ریاست کے طور پر رہے گا۔روس کے مطالبے سے یہ امیدکی جا سکتی ہے کہ مغربی ممالک اور یوکرین مذاکرات کے ذریعے روس کو ایک معقول دستاویز فراہم کردیں،تیسری عالمی جنگ سے دنیا محفوظ ہو جائے گی۔یوکرین کو ایک غیر جانبدار ملک ہونے پر کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیئے۔واضح رہے روس اسے اپنی ذیلی ریاست ہونے کو تو نہیں کہہ رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں