آزادی اظہار کا حق ہر ایک کو ہے پیکا آرڈیننس کے حق میں ووٹ نہیں دوں گا، اسلم بھو تا نی

لسبیلہ:لسبیلہ وگو ادر سے منتخب رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھو تا نی نے کہا ہے کہ آزادی اظہار کا حق ہر ایک کو ہے پیکا آرڈیننس کے حق میں ووٹ نہیں دوں گا، حب کی انڈسٹریز میں لیگل ایڈوائزر لسبیلہ با ر کے وکیلو ںکا حق ہے، حب پل کے سنگم پر قائم رینجرزکی چیک پو سٹ پر لوگو ں کی تذلیل ہو تی ہے جس سے نفر تیں بڑھتی ہیں، سیکیورٹی پر کمپر و ما ئز تو نہیں ہو گا لیکن سیکیورٹی اور تذلیل میں فر ق ہو نا چاہئے ،شہریوں کے عزت نفس کا خیال ہو نا چاہیے، صنعت کا روں کو پا بند کر یں گے کہ یہاں کے لو گو ں کے لئے مذید روزگا رکے مو اقع پید اکر یں ، محمد اسلم بھو تا نی نے لسبیلہ با ر ایسوسی ایشن کے لئے اپنی ذاتی حیثیت سے دو لاکھ روپے کی گر انٹ دی ،ان خیالا ت کا اظہا رانہو ںنے ہفتہ کے روز لسبیلہ با ر ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے اعزاز میں دی جا نے والی ٹی پا رٹی کے موقع پر خطاب کرتے ہو ئے کیا محمد اسلم بھو تا نی نے کہاکہ وفاق وزیر قانون فر و غ نسیم سے لسبیلہ با ر ایسوسی ایشن کے لئے گر انٹ کے حوالے سے با ت چیت کر و نگا ، لسبیلہ انڈسٹریل حب ہے روز گا ر کے حوالے سے اکثر یہاں پر شکا تیں مو صول ہو تی ہیں لیکن کافی حد تک یہاں پر لو گو ں کو روز گا ر ملا بھی ہے صنعت کا روں کو پا بند کر یں گے کہ یہاں کے لو گو ں کے لئے مذید روزگا رکے مو اقع پید اکر یں انہو ںنے کہاکہ صنعتکا روں اور بلو چستان کے عوام کو شکا یت ہے کہ سند ھ بلو چستان کے سنگم پر قائم رینجرزکی چیک پو سٹ پر لوگو ں کی تذلیل ہو تی ہے جس سے نفر تیں بڑھتی ہیں اس سلسلے میںسی پیک کمیٹی میں سیکریٹری ڈیفنس کے سامنے یہ با ت رکھی ہے جس پر انہو ںنے مجھے یقین دلایا ہے کہ میں رینجر زحکام سے با ت کر و نگا اور میں نے بھی متعلقہ آفیسران سے بھی با ت کی ہے آج بھی ایک جگہ پر میٹنگ کی ہے جہاں پر میں نے یہی با ت کی ہے کہ حب اور کر اچی جڑواں شہر ہیں یہاں صبح شام لو گ کا روبا ر ،علا ج معالجے اور رشتہ داروں سے ملنے کے سلسلے میں آتے جا تے ہیںاور ہر با ر گا ڑی سے اتا رنا اور دشمن کی طر ح برتاو¿ کرنا اس سے نفر تیں بڑھتی ہیں مجھے تو یقین دلا یا گیا ہے لیکن تین مارچ کو سی پیک کی میٹنگ ہے اس میں بھی اس مسئلے کو اٹھا ﺅں گا ،انہو ںنے کہاکہ سیکیو رٹی پر کمپر و ما ئز تو نہیں ہو گا لیکن سیکیو رٹی اور تذلیل میں فر ق ہو نا چاہئے ،شہریوں کی عزت نفس کا خیال ہو نا چاہیئے جبکہ میں نے پہلے بھی اسمبلی میں یہ چیزیں اٹھا ئی ہیں انہو ںنے کہاکہ آزادی اظہار کا ہر ایک کو حق حا صل ہے بر داشت بھی ہو نی چاہئے تنقید سننے کی یہ جو پیکا آرڈیننس نکلا ہے وہ میر ے خیال میں آزادی اظہار پر قدغن کی طر ح ہے میں اس وقت آزاد ہو ں لیکن پی ٹی آئی گو رنمنٹ کا حصہ ہو ں ، میں اس آرڈیننس کے حق میں انشاءاللہ ووٹ نہیں دو گا ، آج کل کی دنیا میں کس کس کو روکیں گے یہ غلط ہے اور اس کا غلط استعما ل ہو گا انشاءاللہ میر ی طر ف سے اس کے حق میں ووٹ نہیں پڑے گا اور ہم کوشش کر یں گے کہ اس آرڈیننس کو اسمبلی سے پاس بھی ہو نے نہ دیا جا ئے انہو ںنے کہاکہ ما حو ل کے حوالے سے حبکو کے خلاف مہم چلا ئی لیکن ہما رااحتساب کا نظام یا عدالتی نظام زیا دہ ہی سست ہے جب حبکو کو ل پا ور لگ رہا تھا اس وقت میں نے احتجا ج کیا وہ فیکٹری لگ گئی مگر میری پیٹیشن ابھی تک ٹریبونل میں پڑی ہے ہم نے جج صاحبا ن سے یہ درخواست کی کہ ہما رے کیس کو ڈسمس کر یں تاکہ ہم اگلے فو رم پر جا ئیں اس با ت کو 4سے 5سال ہو چکے ہیں اب تو نوٹسزلیناہی چھو ڑ دیا ہے ہم نے اپنے ضمیر کے مطا بق جو کرنا تھا وہ کیا قانونی چارہ جو ئی کے لئے ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹا یا اور احتجاج کیا لیکن انصاف کا نظا م سست ہے کہ کام ہو جا تے ہیں اور فیصلے بعد میں ہو تے ہیں ،انہو ںنے کہاکہ حب کی انڈسٹریز میں لیگل ایڈوائزر لگنا لسبیلہ با ر کے وکیلو ںکا حق ہے کچھ فیکٹریو ں میں لیگل ایڈوائز ر ہیں جبکہ با قی فیکٹریو ں سے اس حوالے سے با ت کر یں گے بلکہ احتجاج کر یں گے اب ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اسمبلی میں با ت کرنا اور اخبا رات میں بیان دینا جس پر کو ئی زیا دہ تو جہ نہیں دیتا ہے جب ہم احتجاج کر یں تو سارے مسئلے حل ہو جا تے ہیں ،جس کی میں مثال دو ںکہ ساڑھے تین سال سے اسمبلی میں غیر قانو نی ٹرالنگ ،پسنی ہاربر اور بارڈر ٹریڈ سمیت ساحل کے جتنے مسائل تھے میں بو لتا رہا بلکہ عسکر ی قیا دت کو خط بھی لکھے اور ہر فورم پر با ت بھی کی لیکن ہو ا کیا، ایک صاحب گوادر سے اٹھے وہی میر ے مطالبا ت اس نے احتجا ج کی شکل میں پیش کیئے اور وہ آستہ آستہ حل ہو گئے ، عوامی نما ئند ے کو سڑک پر نکلنا مناسب نہیں ہے جبکہ ہمارے پاس اسمبلی کا فورم ہے جہاں ہم با ت کرتے ہیں لیکن اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہاں احتجاج سے ہی مسئلے حل ہو تے ہیں انہو ںنے کہاکہ رینجرز لو گو ں کی تذلیل کر تی ہے اگر دو دن احتجاج ہو گا تو چیک پوسٹ ختم تو نہیں ہو گی کم ازکم شہریوں کا احترام تو ہو گا ہمیں مجبو ر کیا جا رہا ہے کہ ہم احتجاج کی طر ف جا ئیں جو کہ ہم نہیں چاہتے لیکن ہما رے لو گو ں کی اسمبلی یا دیگر فو ر م پر با ت نہیں سنی جا ئے گی تو یقینا یہ طر یقہ اپنا ئےںگے انہو ںنے کہاکہ آپ لو گو ںنے کہاکہ فیکٹریاں کام حب میں کرتی ہیں جبکہ رجسٹرڈ کر اچی میں ہیں وہ ریونیو سندھ کے کھا تے میں جا تا ہے یہ با ت میں نے اسمبلی فو رم اور وزیر اعظم سمیت دیگر فورم پر با ت کی ہے کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ فیکٹریوں کے ہیڈ آفس حب میں شفٹ ہو ں لیکن جو یہا ں فیکٹریاں ہیں ان سے جو ریو نیو جا تا ہے اس کا حساب کتا ب رکھا جا ئے کہ بلو چستان یا حب سے کتنا ریو نیو وفا ق کے کھا تے میں جا تا ہے تا کہ اس حساب سے این ایف سی ایوارڈ میں ہمیں فا ئد ہ ملے اس کے لئے ہما ری جد وجہد جا ری ہے اور ہر فور م پر اس با ت کو اٹھا یا ہے انشاءاللہ اس کا بھی کو ئی حل نکا لیں گے انہو ںنے کہاکہ صدر پا کستان گوادر آئے تھے اس وقت چیئرمین ایف بی آئی بھی تھے ان کے سامنے بھی یہ بات رکھی تھی انہو ںنے کہاکہ وفا قی محتسب اعلی سے حب میں ریجنل آفس کے حوالے سے با ت کی ہے اور مجھے یقین ہے کہ حب میں ریجنل ا?فس کھولیں گے جس سے عوام کے بجلی ، گیس، نادرا سمیت دیگر وفا قی مسائل حل ہو جا ئیں گے انہو ںنے کہاکہ وکلا اور عدالتیں ایک دوسرے کے لئے لا زم و ملزوم ہیں بلو چستان کے وکلا تشدد کی طر ف نہیں جا تے جس طر ح اسلام آبا د ہا ئی کو رٹ میں ہوا یا لا ہو ر میں آئے روز ہو تا ہے لسبیلہ بار سمیت بلو چستان کے تمام با ر کونسل اپنی پیشہ وار انہ خدما ت سرانجام دیتی ہیں اور ساتھ ساتھ جوڈیشل کا بھی احتر ام کرتی ہیں اور یہ اچھی بات ہے ہڑتا ل اوربا ئیکا ٹ سے گر یز کیا جا ئے ، رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھو تا نی نے اس موقع پر لسبیلہ با ر ایسوسی ایشن کے لئے اپنی ذاتی حیثیت میں دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ فی میل با ر کے لئے سینئر صوبا ئی وزیر سر دار محمد صالح بھو تا نی کے فنڈز سے یا میں اپنے فنڈز سے تعمیر کروایا جا ئے گا ،اس موقع پر لسبیلہ با ر ایسوسی ایشن کے صدر مجیب الر حمن نے رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھو تا نی کے سامنے سپاسنا مہ پیش کیا ، تقریب سے با ر ایسوسی ایشن کے جنر ل سیکر یٹری الہٰی بخش مینگل ،سابق صدر بار ایسوسی ایشن غلام رسول انگا ریہ ، سابق جنر ل سیکر یٹری عبد الوہا ب بزنجو اور سابق جنر ل سیکر یٹری محمد اقبال جامو ٹ ودیگر نے بھی خطاب کیا، بعد ازاں رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے معروف قانون دان ایڈوکیٹ حمل مری کے لاءچیمبر کا افتتاح کیا اور اپنی رہائشگاہ پر علاقائی معززین سے ملاقات کی اور انکے مسائل سنےں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں