الیکشن ملک بنانے کیلئے نہیں عوام کو لڑانے کیلئے کرائے جاتے ہیں، مولانا شیرانی
سبی: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے قائد مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے کسی کے ساتھ اختلافات نہیں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ زاتی اختلاف نہیں بلکہ ان کا کردار ناپسندیدہ ہیں آپس میں ہم ایک دوسرے کے رفیق ہے غلام نہیں ہمارے دروازے کھلے ہیں الیکشن دراصل عوام کو آپس میں لڑانے کا نام ہے ووٹ ووٹرز کی ضرورت نہیں بلکہ پانی بجلی گیس اور بنیادی ضرورت زندگی ووٹر کی ضرورت ہے جمعیت علماء اسلام پاکستان بلوچستان کے ہر شہر میں رابطہ آفس کا قیام ممکن بنا رہی ہے ہمارا مقصد حق اور دسچ کی سیاست ہیں جھوٹ ایک دوسرے کو مکا دیکھنے اپنے مفادات کو حاصل کرنے کے لئے نہیں مشرق اور مغرب کی جنگ سنی اور شیعہ جنگ ثابت ہوسکتی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے کھوسہ ہاؤس سبی میں میٹ دی پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا حاجی صادق، مولانا نظام الدین، حاجی نسیم احمد، سردار اسد جان عمرانی، حاجی سنگین خان کاسی، مولانا محمد اسماعیل حسنی، سید قاسم شاہ،پروفیسر حافظ عبدالئحی کھوسہ، رابط کمیٹی کے ضلعی امیر محمد شفیق احمد کھوسہ جنرل سیکرٹری خلیل احمد چانڈیہ، عبدالصمد مولانا عبدالیاسر،عبدالباسط، مولانا محمد آصف، مولانا حاجی محمد رفیق، مولانا ضیاء الدین، مولانا ظہیر احمد،محمد یوسف، مفتی عبدالمنان، مولانا محمد ہاشم کے علاوہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی صوبائی و ضلعی قائدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔جمعیت علماء اسلام پاکستان کے قائد مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ سبی سمیت بلوچستان بھر میں رابط آفس کے قیام کا مقصد کارکناں کو درپیش مسئلہ مسائل اور آپس کے رابطے کاری کا ہے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے پرانے ساتھی جنہوں نے قربانیاں دی ان کو متحد کرنا ہے ہماری سیاست کا مقصد بلا رنگ ونسل عوام کی خدمت ہے عوام سے اپنی رہبری کے بدلے میں کوئی مقاصد حاصل نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ آج کل کی سیاست چاہے وہ مذہبی ہو یا اسکولرہو سیاست تین چیزوں کو مجموعہ بن چکا ہے لوگوں کو بے وقوف بنانا، ایک دوسرے کو مکے دیکھنا اور اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ عہدے اور پیشے کا سودا کرنا ہماری رابط مہم کا اصل مقصد سیاست کرنا ہے تجارت نہیں ہمارے پرانے ساتھی مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں یا پھر ہماری جماعت میں یہ باتیں چل رہی ہیں کہ اگر سیاست ہوتو تجارت کی طرز پر ہو پیشہ لگاکر کمایا جائے نظریات اور اصول کی سیاست کارآمد نہیں ہو نہ ہی کوئی فائدہ ہے سچ اور حق کو عوام کے سامنے نہیں رکھا جاتا بلکہ جھوٹ کی سیاست کی جاتی ہے اور ہمارا اصول ہے کہ نظریاتی سیاست کارآمد ہے رابط آفس اس لیے کھولے جاتے ہیں کہ جماعت کے ساتھیوں کو آپس میں مل بیٹھنے بین الاقوامی مسئلہ مسائل سمیت ملکی مسائل کے حل کے لئے بات چیت کی جاسکے اور لوگوں کی مشکلات کو دور کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں جو لوگ دوسروں کے کام سنوارنے میں لگ جاتے ہیں اللہ ان کے کام سنوارنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں مولانا فضل الرحمن کے درمیان اختلافات کے حوالے سے قائد جمعیت علماء اسلام پاکستان مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ زاتی حوالے سے کوئی اختلافات نہیں تاہم ان کا شخصی اور جماعتی کردار ناپسندیدہ ضرور ہیں اگر وہ اپنے کردار کو شریت کے مطابق اور سنت کے اصولوں کے مطابق رکھیں تو ہمارا ان کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں آج بھی ہم ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں موجودہ صورت حال میں بھی ہم ان کے ساتھی تھے اور رہیں گے اور اگر وہ ہمیں اپنے پروگرامز میں دعوت دیں گے تو ہم ضرور آئیں گے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دعوت اہمیت کی علامت ہیں ہمیں معلوم چلا تو ہم ضرور جائیں گے ہمیں ایک دوسرے کی باتوں کو سناہوگا اور ہمیں ساتھ چلنے اور جماعت کو بننا کے لئے بھی تیار ہیں انہوں نے الیکشن کمیشن میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن کے نام سے رجسٹرڈ کیا ہم کہتے ہیں کہ جماعت کی رجسٹریشن دستور کے مطابق ہو ں ہماری جماعت کا نام جمعیت علماء اسلام ہے ہم آپس میں رفیق رہیں غلام نہیں جب ہم خود غلام بنے گئے تو دوسروں کے حقوق کو کیسے حاصل کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ انتخاب اصل ضرورت سیاست دان کو ہے ووٹر کی ضرورت نہیں کہ وہ ووٹ ڈالے بلکہ ووٹرز کی ضرورت پانی بجلی صحت سہولیات کی ہے اگر تمام سیاسی جماعتیں ایک جانب ہوجائیں تو اسٹیبلشمنٹ اور عوام ایک دوسرے کے سامنے ہوں تویہ سب کام اسٹیبلیشمنٹ بہتر انداز سے کرسکتا ہے انہوں نے پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے ھوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی تاریخ میں اپوزیشن نے سودا کرنے کی کوشش کی ہے عوامی ملکی مفادات کی بات میرے سامنے نہیں آئی اور ایسے اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے انہوں نے کہا کہ نمائندگی عوام کی رائے سے نہیں بلکہ اسٹیلیشمنٹ کی مرضی سے ہے جب صورت حال یہ ہے کہ عوام کو آپس میں لڑانے کی بجائے اگر اسٹیبلشمنٹ ایک ادارہ کھولے اور اس پر بورڈ لگا دے اور اس پر لکھ دے ادارہ برائے وزرات تو جس کو جس وزارت کو شوق ہو اور الیکشن میں جتنا پیشہ لگانے کا شوق ہو وہ اپنا پیشہ اور وزارت کا نام لکھ کر اپنی درخواست جمع کردے انہوں نے کہا کہ کے پی کے اور بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے ہر شہر میں رابط آفس قیام کررہی ہے ہماری بھرپور کوشش ہے کہ اپنا پیغام ہر شخص کودے مکران میں بھی ہمارا کامیاب دورہ ہوا ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام انتخابات میں حصہ نہیں لے گی کیونکہ جو ووٹ ڈالنے والوں کی ضرورت نہیں ووٹ کی ضرورت لیڈر کو اپنی شخصیت چمکا نے اور منصب ودولت تک ہاتھ لے جانے کے لئے یا اسٹیبلشمنٹ کو انتخابات کی ضرورت ہے لئے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ مغربی مقاصد کی وکیل اور مغرب کے مفادات کے محافظ بھی ہے وہ اپنے اس کردار کو جمہوریت کے لبادے سے چھپانا چاہتے ہیں اور اپنے اس کردار کا ملبا جمہوری اداروں سیاسی و عوامی نمائندوں پر ڈالنا چاہتا ہے اور ضرورت ہے مغرب کو کیونکہ مغرب ہوا پرست ہے کیونکہ اس کی ذندگی کا فکری بنیاد ہوا پرستی ہیں مغرب ہر چیز میں آزادی کا حامل ہے اس بنیاد پر مغرب کا جو کلچرل ہے وہ جمہوریت کے خوشنما نعرے اور اکثریت اور قانون کے لبادے میں مسلط کرنا چاہے اور آپ خود دیکھیں لیں دنیا کے کسی بھی حصہ میں مغرب اپنے مقاصد کے مطابق نتائج حاصل کرتے ہیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ روس یواکرئن کے درمیاں جاری جنگ دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردے گی ایک جانب امریکی اور اس کے اتحاد ی اور دوسری جانب روس اور اس کے اتحادی ہونگے مشرق اور مغرب کی جنگ سنی اور شیعہ کی جنگ بھی ثابت ہوسکتی ہیں انہوں نے کہا کہ انتخابات اصل میں لوگوں کو لڑانے کے لئے ہوتے ہیں الیکشن عوام کو سہولت دینے کے لئے نہیں بلکہ نفرتیں پیدا کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔


