ہمیں ایسی قومی جد و جہد کا حصہ بننا چاہئے جس کی سربراہی وکلاء کریں،خالد مقبول صدیقی
کوئٹہ: متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی کنونیئر ورکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی نے تجویز پیش کی ہے کہ ہمیں ایک ایسے قومی جدوجہد کا حصہ ببناچاہئے جس کی سربراہی وکلا کرے، ہما رے اور بلوچستان والوں کے دکھ اور درد ایک ہیں،سانحہ 8اگست 2016ء با عث دکھ و افسوس ہے سانحہ میں شہیدہو نے والوں کی درجات بلندی کیلئے دعا جبکہ زخمیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں، ایوانوں میں قانون سازی کیلئے بلوچستان کے وکلا ہماری مدد کریں آئیں موروثی سیاست کیخلاف ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے گزشتہ روز بلو چستان ہا ئی کورٹ با ر کے عہدیداران و ممبرا ن سے اظہار خیا ل کر تے ہو ئے کیا۔خا لد مقبول صدیقی نے جمعرات کو بلوچستان ہائی کورٹ بار تقریب میں شرکت کی اور سانحہ 8اگست 2016کے شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عبدالمجید کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد معاملہ سنگین ہے۔خالد مقبول صدیقی سے درخواست کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد معاملے کو قومی اسمبلی سمیت تمام فورمز پراٹھائیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ میرے لیے بلوچستان کے وکلا ء سے ملاقات اور خطاب کرنا اعزازہے انہوں نے سانحہ 8اگست 2016ء میں میں شہید ہو نے والے وکلا ء کی درجا ت بلندی اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ کچھ مسائل پر مل کر ہمیں قومی جدوجہد ضرورت ہے۔ان کے مطابق کسی جمہوری معاشرے میں لوگ لاپتہ کرنے والے نہیں ہوتے ہما رے اور بلوچستان والوں کے دکھ اور درد ایک ہیں،انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہمیں ایک ایسے قومی جدوجہد کا حصہ ببناچاہئے جس کی وکلا سربراہی کرے، انہوں نے کہا کہ بلو چستان کے وکلا ء ایوانوں میں قانون سازی کیلئے ہماری مدد کریں انہوں نے کہا کہ آئیں ملک سے موروثی سیاست کے خاتمہ کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دے اس وقت ایک ایسے پارلیمنٹ کیلئے جدوجہد کی ضرورت ہے جہاں وکلا کی نمائندگی وکلا اورکسان کی نمائندگی کسان کریں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو تباہ کرنے والے جاگیردار آج پارلیمنٹ میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں بلوچستان کا نواجوان پاکستان کے ہر نوجوان کے شانہ بشانہ ہو جب تک پاکستان کے ہر شہری کو وفادار نہیں سمجھا جائے گا تب تک ملک ترقی نہیں کریگا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر الزام ہے کہ ہم لسانی سیاست کا حصہ ہیں جبکہ ہم قیام پاکستان کے وقت معاہدے کے تحت پاکستان آئے تھے بعدمیں ہمیں امتیازی سلوک کا سامنا رہاجس کے خلاف طلبا ء تنظیم بنی جو ایک تاریخ رقم کرگئی متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)ان ہی حالات کی پیداوار ہے۔


