مویشیوں کی جلدی بیماری حب اور ساکران بھی پہنچ گئی،بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا انکشاف

حب(نمائندہ انتخاب)مویشیوں میں لمپی اسکن وبائی بیماری کے پھیلاﺅ میں تیزی آگئی کراچی کی مویشی منڈیوں اور باڑوں سمیت کراچی سے ملحقہ بلوچستان کے شہر حب اور ساکران میں مویشی اس موذی مرض کا شکار ہونے لگے بیماری کا شکار ہونے والے مویشیوں کے جسم پر نمودار ہونے والے پھوڑوں کے اثرات مویشیوں کے گوشت اور ہڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں مالدار اور ہاڑا مالکان لاکھوں روپے مالیت کے گائے بھینس انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے لگے ماہرین کا خیال ہے کہ اس بیماری میں مبتلا مویشیوں کا گوشت کھانے سے انسانی صحت پر بھی مضر اثرات ہونے کے خدشات ہیں اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ مویشیوں میں لمپی اسکن نامی خطرناک بیماری مچھروں سے پھیل رہی ہے اور اس وقت اس موذی مرض نے کراچی اور اس سے ملحقہ بلوچستان کے شہر حب مضافاتی علاقے ساکران میں پھیل چکی ہے ڈی جی لائیو اسٹاک سندھ ڈاکٹرنذیر کلہوڑ نے ایک نیوچینل سے اپنی گفتگو میں بتایا ہے کہ یہ موذی مرض پاکستان میں پہلی بار آیا ہے اور یہ بیماری مچھروں کے کاٹنے سے مویشیوں کے جسم میں پھیلتی ہے اور اب تک اس پر کنٹرول کرنے اور اسکے تدارک کے حوالے سے ملک میں کوئی ویکسین بھی دستیاب نہیں ہے اس بیماری سے مویشیوں کو بچانے کا واحد طریقہ مچھروں سے مویشیوں کو محفوظ رکھنے کے سوا کوئی نہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق اسوقت حب ساکران اور کراچی میں لمپی اسکن بیماری پھیلنے سے مویشیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں جسکی وجہ سے مالدار اور باڑا مالکان کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے دوسری طرف باڑا مالکان لمپی اسکن کے شکار لاکھوں روپے مالیت کے مویشیوں کو اونے پونے داموں قصابوں کو فروخت کر رہے ہیں جس سے خدشات ہیں کہ موذی بیماری سے متاثرہ مویشیوں کو ذبح کر کے انکا گوشت مارکیٹوں میں فروخت کیا جاسکتا ہے ماہرین نے اس بات کا بھی خیال ظاہر کیا ہے کہ مذکورہ خطرناک بیماری کے شکار مویشیوں کے اثرات انکے گوشت پر ہوتے ہیں اور بیماری سے متاثرہ مویشیوں کا گوشت کھانے سے انسانی صحت پر بھی مضر اثرات ہوسکتے ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی سمیت حب میں محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام اس بابت کو فوری نوٹس لیں اور حب کی گوشت مارکیٹ میں فروخت ہونے والے گوشت اور ذبح شدہ مویشیوں کے ذبح ہونے سے قبل معائنہ اور نگرانی کو سخت بنایا جائے تاکہ اسکے اثرات انسانی جانوں کے لئے خطرناک نہ ہو سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں