انسانیت کا درجہ عظیم , اور اس عظمت میں خواتین کا برابر کردار و مقام ہے،نیشنل پارٹی
کوئٹہ:نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب میر کبیر احمد محمد شہی ،صوبائی صدر رحمت صالح بلوچ، مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی ،صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ چیئرمین بی ایس او پجار زبیر بلوچ صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کا درجہ عظیم ہے اور اس عظمت میں خواتین کا برابر کردار و مقام ہے۔اگر کوئی سماج خواتین کو انسانیت کے مقام سے نیچے پرکھتا اور دیکھتا ہے تو وہ سماج روایتی بوسیدہ اور پسماندہ گردشوں میں جھکڑا ہوا ہے۔خواتین کائنات کا ددرخشان اور روشن ستارہ ہے۔نیشنل پارٹی خواتین کو بااختیار اور اعلیٰ مقام کو فراہم کرنے کی جدوجہد میں اولین کرادار ادا کررہا ہے۔تقریب سے نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی صدر میر عبدالخالق بلوچ،مرکزی ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی سیکرٹری آغا گل،صوبائی محتسب خواتین صابرہ اسلام،پروفیسر فائز میر یو این وومن کے عائشہ ودود،نیشنل پارٹی کے رہنماءصدیق کھیتران،ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض زہری،ضلعی خواتین سیکرٹری قلات مائرہ ستار نورینہ بلوچ حمیدا فدا سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بی ایس اوپجار کے رہنماءڈاکٹر ثمرین بلوچ جبکہ معروف شاعرہ صدف غوری نے اپنے اشعار اور سمیہ حیات نے نظم سے حاضرین کو لطف اندوز کیا۔تقریب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر میر کبیر احمد محمد شہی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جب بھی یوم خواتین کا دن آتا ہے اس کو متنازعہ بنانے میں ریاستی عناصر بھی برسرپیکار رہتے ہیں۔ریاست کو شہریوں کی تحفظ اور حقوق فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں ریاست شہریوں کو حقوق غصب کرنے مصروف عمل رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی عورت کو زچگی کے دوران سنگین مشکلات ہے۔صحت کی سہولت نہیں ہے۔میلوں دور پانی بھرنی جاتی ہے۔بلوچستان میں خواتین ہر لمحہ تذبذب میں رہتی ہے کہ اس کا بچہ گھر واپس پہنچ بھی پائے گا یہاں اس کو ماورائے آئین و قانون گرفتار کیا جائے گا۔نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر رحمت صالح بلوچ نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر خواتین ونگ اور پارٹی تنظیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یوم خواتین منانے کا مقصد یہ ہے کہ خواتین کی سیاسی معاشی سماجی حقوق اور مقام کو ممکن بنانا اور ان کو درپیش چیلنجوں کو اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بی بی بانڑی سمیت دیگر نے سماج میں موجودہ طبقاتی رویوں اور تقسیم کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔لیکن افسوس کہ آج بھی ہمارے نصاب میں بلوچستان کے نامور رہنماو¿ں اور مثبت کرداروں کا زکر نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین پسماندہ نہیں بلکہ ان میں شعوری بلندیوں کی سطح بہت اونچا ہے۔جب کیچ میں برمش،کلثوم بلوچ اور حیات بلوچ کا واقعہ ہوا تو بلوچستان بھر میں خواتین نے موبلائزیشن کی اعلی مثال قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی خواتین کے سیاسی سماجی معاشی شعبوں میں شمولیت کو ممکن بنانے کےلیے ہرممکن جدوجہد کررہی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی نے کہا کہ جہاں کا رنگ خواتین کی بدولت ہے خواتین سماج میں دھنگ کی ماند خوبصورت ہے۔لیکن اس خوبصورتی کو سماج کی پسماندہ سوچ نے اندھیرے میں رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے بلوچستان میں خواتین کو سیاسی عمل کا حصہ بنایا۔اج بھی نیشنل پارٹی خواتین کے حوالے سے سب سے بڑی و منظم جماعت ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیر بخش بلوچ نے کہا کہ خواتین کی حیثیت و اہمیت سے انکاری عناصر درحقیقت جہالت کے اندھیرے سے نکلے نہیں آج کی جدید دور میں بھی وہ پسماندگی سے دوچار ہے۔نیشنل پارٹی نے خواتین کو یکساں اور برابری کا مقام دلانے کے علم کو بلند رکھا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ نے کہا کہ 8 مارچ کو عالمی خواتین ڈے منانے کا مقصد خواتین کی مشکلات و مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کی علمی ادبی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں اور ان کی بحثیت خاندان زمہ داریوں کو اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ نیشنل پارٹی کی خواتین کے حوالے سے شعوری علم و عمل اور جدوجہد کو رقم کرنے میں کھبی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریگی۔اورنیشنل پارٹی کو نمایاں اور سرخ رنگ سے رقم کریگی۔


