سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کی بلوچستان میں وفاقی ٹریبونلز کے دفاترکے فوری قیام کی سفارش

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سفارش کی ہے کہ بلوچستان میں وفاقی ٹریبونلز کے فی الفور دفاتر قائم کئے جائیں،اراکین کمیٹی نے حکومت کی جانب سے والدین ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اختیارات ڈپٹی کمشنر کو دینے کے سخت مخالف ہیں۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی علی ظفر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر قادر،سینیٹر عمر احمد زئی کی جانب سے بلوچستان کے ہر ضلع میں وفاقی محتسب کے دفاتر کھولنے کی سفارش کی گئی،جسے حکومت کی طرف سے منظور کرلیا گیا لیکن اراکین کمیٹی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد بازی سے کام نہ لے کیونکہ اگر بلوچستان کے 34اضلاع میں دفاتر قائم کئے جائیں گے تو اس کےلئے اسٹاف ،یوٹیلیٹی بلز اور دیگر اخراجات آئیں گے جو قومی خزانے پر بوجھ ہو گا۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس بل کو اگلے ایجنڈے پر رکھا جائے اور وزارت خزانہ اور وفاقی محتسب یا اس کے کسی نمائندے کو اجلاس میں طلب کیا جائے اور اس پر بریفنگ لی جائے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ حکومت اس بل کو منظور تو کر رہی ہے لیکن اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ پہلے ہی ٹریبونلز کی بھرمار ہے جن میں صوبائی محتسب الگ سے کام کررہے ہیں، انکم ٹیکس محتسب، خواتین محتسب سمیت کئی اور محتسب ادارے ہیں اس کے بجائے عدالتی نظام کو فعال کیا جائے تا کہ ایسے اداروں کا جواز نہ رہے، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ عدالتوں پر پہلے ہی بہت سا بوجھ ہے میں نے ایک کیس میں ہائیکورٹ کے اندر 8سال تک مقدمہ لڑا ہے،نتیجہ برآمد نہیں ہوا لیکن وفاقی محتسب نے 60 دن کے اندر اندر اس کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ سینیٹر قادر نے کہا کہ وفاقی محتسب کے کردار سے ادارے اور سائلین دونوں مطمئن ہیں، جن سائلین کا کام نہیں ہوتا انہیں قانون کی روشنی میں بتا دیا جاتا ہے کہ کن وجوہات کی بناءپر یہ ممکن نہیں،اگر ضلع کی سطح پر دفاتر قائم نہیں کئے جاتے تو اسے ڈویژن کی سطح پر ممکن بنایا جائے کیونکہ بلوچستان کے لوگوں کو اسلام آباد آنا پڑتا ہے،جب انہیں گھر بیٹھے مسئلہ حل ہو جائے گا تو انہیں دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ اجلاس میں والدین کے تحفظ کے حکومتی بل پر بحث بچوں کو کسی صورت والدین کو گھر سے نکالنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے،وزیراعظم کو والدین کو گھروں سے نکالے جانے کی شکایات مل رہی تھیں، وزیراعظم نے کہا جتنا جلدی ہو سکے اس حوالے سے آرڈیننس لاﺅ،آرڈیننس آنے سے بہت لوگوں کے مسائل حل ہوئے ہیں،والدین کو گھر سے نکالنے والے کو ایک ماہ سزا ہوگی، فاروق نائیک نے کہا کہ بچے اگر گھر کے مالک ہوں تو انہیں گھر سے نکالنا خلاف قانون ہوگا، قابل قابل ضمانت جرم میں پولیس کو گرفتاری کا اختیار دینا ضابطہ فوجداری کیخلاف ہے۔کامران مرتضی نے کہا کہ والدین اور بچوں کے معاملے عدالتوں میں آنا اچھی بات نہیں، باپ بیٹے کا کیس تھانہ کچہری جائے گا تو بات ختم ہونے کے بجائے بڑھے گی۔سیکرٹری قانون نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو 40 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، درخواست دینے والے 25 والدین کے گھر بچوں سے واگزار کرائے گئے۔چیئرمین کمیٹی علی ظفر نے کہا کہ بل میں بہت سے خامیاں ہیں ترمیم کرکے مسودہ لائیں، فاروق نائیک کے ججز تعیناتی کی تقرری میں ترمیم کے بل پر بحث سینئر ترین جج میں قابلیت نہ ہو تو کیسے تعینات کیا جا سکتا ہے؟ ۔منظور کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کا ایک جج خود فیصلہ تک نہیں لکھ سکتا، جج صاحب نے فیصلے لکھنے کیلئے بندے رکھے ہوئے ہیں۔فاروق نائیک نے کہا کہ جج کی قابلیت پر اعتراض ہے تو ریفرنس دائر کریں۔کامران مرتضی نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی وکیل کو براہ راست بھی جج بنا سکتی ہے۔فاروق نائیک نے کہا کہ ایڈہاک ججز تعیناتی میں پارلیمانی کمیٹی کا کردار شامل ہونا چاہے، پارلیمان سپریم ہے اس کا کردار شامل ہونا لازمی ہے، سوموٹو کیسز میں اپیل کا حق ہونا چاہیے، سوموٹو کیسز سننے کا اختیار تین رکنی اور اپیل پانچ رکنی بنچ سنے۔کامران مرتضی نے کہا کہ مناسب ہوگا اگر اپیل پر فیصلہ پانچ کے بجائے 7 رکنی بنچ سنے۔فاروق نائیک نے سپریم جوڈیشل کونسل کے متعلقہ آرٹیکل209 میں ترمیم کا بل بھی پیش کر دیا۔فاروق نائیک نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل پانچ ماہ میں جج کیخلاف شکایت کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔فاروق نائیک نے ایڈہاک ججز کی تقرری میں پارلیمانی کمیٹی کا کردار شامل کرنے کی ترمیم واپس لے لی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں